نماز ی کےآگے سے بلی یا نابالغ بچے کے گزرنےکا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز پڑھنے کے دوران اگر سامنے سے بلی یا ناسمجھ بچہ گزر جائے تو کیا اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟ (لائبہ،برمنگھم)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
اگر بلی یا بچہ نمازی کے سامنے سے گزر جائے تو اس سے نماز نہیں ٹوٹتی نماز اور نہ ہی بچہ گنہگار ہوگا البتہ اگر کوئی بڑا بالغ شخص(چاہے مرد ہویا عورت) نمازی کے آگے سے بغیر سترہ کے گزرے تو وہ گنہگار ہونگے۔
مشکوة شریف میں ہے،
عن أبي جهيم قال: قال رسول الله ﷺ: «لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه» . قال أبو النضر: لا أدري قال: «أربعين يوما أو شهرا أو سنة،یعنی،حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر گزرنے والے کو یہ معلوم ہو جائے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی کیا سزا ہے، تو وہ چالیس (دن، مہینے یا سال) کھڑے رہنے کو بہتر سمجھے گا بجائے اس کے کہ وہ نمازی کے سامنے سے گزرے۔(راوی ابو نضر کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس دن فرمایا یا مہینے یا سال)۔(مشکوة المصابیح،باب السترة،جلد اول،صفحہ نمبر 242،التراث)
در مختار میں ہے،
ولا يفسدها (مرور مار في الصحراء أو في مسجد كبير بموضع سجوده) في الاصح (أو) مروره (بين يديه) إلى حائط القبلة (في) بيت و(مسجد) صغير، فإنه كبقعة واحدة (مطلقا) ولو امرأة أو كلبا (أو) مروره (أسفل من الدكان أمام المصلي لو كان يصلي عليها) أي الدكان (بشرط محاذاة بعض أعضاء المار بعض أعضائه، وكذا سطح وسرير وكل مرتفع) دون قامة المار، وقيل دون السترة كما في غررالاذكار (وإن أثم المار)،
یعنی،صحیح قول کے مطابق، کسی کا صحرا میں یا بڑے مسجد میں نمازی کی سجدے کی جگہ کے سامنے سے گزرنا نماز کو فاسد نہیں کرتا۔اگر چھوٹے گھر یا چھوٹی مسجد میں نمازی کے سامنے سے کوئی شخص قبلہ کی دیوار کی طرف گزرے، تو وہ ایک ہی جگہ کے حکم میں ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، چاہے گزرنے والا عورت ہو یا کتا،یا اگر کوئی نمازی کے سامنے سے دکان (بلندی) کے نیچے سے گزرے جبکہ نمازی دکان پر نماز پڑھ رہا ہو، تو یہ بھی اسی حکم میں ہے۔یہ شرط ہے کہ گزرنے والے کے بعض اعضاء نمازی کے بعض اعضاء کے برابر ہوں، اور یہی حکم سطح، پلنگ، یا کسی بھی بلند جگہ کا ہے، بشرطیکہ وہ گزرنے والے کے قد سے کم ہو۔اور بعض نے کہا ہے کہ یہ بلندی سترہ (نمازی کے آگے رکھی گئی رکاوٹ) سے کم ہونی چاہیے، جیسا کہ “غرر الأذکار” میں مذکور ہے، اگرچہ گزرنے والا گناہگار ہوگا۔
ھذا ماظھر لعبد الضعیف واللہ اعلم عزوجل ورسوله اعلم صلی اللہ علیہ وآله وسلم بالصواب
کتبه ،
رول نمبر ۴ ،
19نومبر ۲۰۲۴ بمطابق 17جمادی الاولی ۱۴۴۶