ناپاک ومستعمل پانی ہونے کا شبہ

ناپاک ومستعمل پانی ہونے کا شبہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں جب ٹینکی سے پانی ختم ہوتا ہے تو پھر لوگ مسجد میں پانی پینے کےلئے رکھے ہوئے ان مٹکوں سے گلاس کے ذریعے پانی نکال کر وضو کرتے ہیں جن کو بچے ،باوضو اور بے وضو سب گلاس کے ذریعے سے نکال کر پانی پیتے ہیں ،عموما گلاس ڈالتے وقت کچھ نہ کچھ انگلیوں کا حصہ پانی کو مس ہوجاتا ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس پانی سے وضو کرسکتے ہیں یا نہیں ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب

صورت مسئولہ میں مسجد میں رکھے ہوئے ان مٹکوں سے وضو کرنا جائز ہے۔ اس بارے میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جب تک پانی کے نجس یا مستعمل ہونے کے بارے یقین نہ ہو اس وقت تک شرع اس پر کچھ حکم نہیں لگاتی(یعنی پاک ہی رہے گا،شبہ کا اعتبار نہیں۔)

البتہ ان مٹکوں سے گلاس کے ذریعے بے وضو شخص کو پانی نکالتے وقت ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ انگلیوں کا کوئی حصہ مٹکے کے پانی سے مس نہ ہو ورنہ پانی مستعمل ہو کر غیر مطہر بن جائے گا کہ اس سے وضو و غسل درست نہ ہوگا۔

رد المحتار میں ہے :

”من شک فی انائہ اوثوبہ اوبدنہ اصابتہ نجاسۃ اولا فھو طاھر مالم یستیقن وکذا الاٰبار والحیاض والحباب الموضوعۃ فی الطرقات ویستقی منھا الصغار والکبار والمسلمون والکفار “

ترجمہ : جس کو اپنے برتن، کپڑے یا بدن میں شک ہو کہ اسے نجاست پہنچی ہے یا نہیں، تو جب تک (نجاست لگنے کا) یقین نہ ہو وہ پاک ہے۔ اسی طرح کنویں، حوض اور راستوں میں رکھے ہوئے مٹکے جن میں سےچھوٹے اور بڑے، مسلمان اور کفار (سب) پیتے ہیں۔ (پاک ہیں۔)(ردالمحتار کتاب الطہارۃ ج 1 ص 283 مطبوعہ دارالکتب علمیہ)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فتاوی رضویہ میں اس طرح کے ایک مسئلہ کے جواب میں لکھتے ہیں :

” فی الواقع مذہب صحیح یہی ہے کہ بے وضو آدمی کا ناخن بھی اگر بغیر دُھلا ہُوا اُس پانی میں کہ وہ دہ در دہ نہیں پڑ جائے تو وہ سب پانی مستعمل ہوجائےگا ۔تصانیف امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے فتح القدیر امام ابن الہمام تک تمام کتابوں میں بالاتفاق یہی حکم ہے ۔مگر شریعت مطہرہ کا قاعدہ کلیہ ہے کہ استعمال درکنار دربارہ نجاست بھی اوہام وشکوک وظنون مجردہ پر نظر نہیں فرماتی ملاحظہ ہو پُرانا استعمالیه جُوتا کس قدر مظنہ نجاست ہے مگر حکم یہ ہے کہ جب تک نجاست معلوم نہ ہو کُنویں میں گرنے سے کُنواں ناپاک نہ ہوگا صرف تطییب قلب کیلئے بیس ڈول نکالے جائیں گے، ناسمجھ بچّے کا ہاتھ یا پاؤں پانی میں پڑ جائے بے علم نجاست پاک نہ ہوگا۔ گائے بکری کُنویں میں گرجائے اور زندہ نکل آئے کنواں پاک رہے گا اگرچہ اُن کے کُھر اور رانوں کا پیشاب وغیرہ میں ملوث نہ ہونا بعید ازقیاس ہے ۔یہاں تک کہ فاسقوں بے نمازیوں بلکہ کافروں کے پاجامے پر بھی حکمِ نجاست نہیں دیتے صرف کراہت مانتے ہیں۔“(فتاوی رضویہ جلد 3 ص 252 مطبوعہ رضا فائونڈیشن)

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ

مولانامحمد محمود نقشبندی تونسوی عفی عنہ

21 ذوالقعدہ 1446ھ بمطابق19 مئی 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں