موضوع نیند کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دینا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نیند کی حالت میں شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے تو اس کی شرعی حثیت کیا ہے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بیان کی گئی صورت کا شرعی حکم کہ نیند کی حالت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ہوتی، کیونکہ طلاق دینے کے لیے شعور اور ارادے کا ہونا ضروری ہے۔ نیند کی حالت میں انسان کا ارادہ اور شعور معطل ہوتا ہے، اس لیے ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حدیث شریف قَالَ رَسُوْلُ اللّہﷺ
رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ
ترجمہ
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے سے جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو، اور مجنون سے جب تک کہ ہوش میں نہ آئے۔”
سنن أبي داود: کتاب الحدود، باب في المجنون يسرق أو يصيب حدًا، حدیث نمبر 4399۔
سنن الترمذي: کتاب الحدود، باب ما جاء رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثَةٍ، حدیث نمبر 1423۔
سنن النسائي: کتاب الطلاق، باب من لا يقع طلاقه من الأزواج، حدیث نمبر 3432۔
سنن ابن ماجه: کتاب الطلاق، باب طلاق المعتوه والصغير والنائم، حدیث نمبر 2041۔
مسند أحمد بن حنبل: مسند علي بن أبي طالب، حدیث نمبر 965۔
فقہ حنفی کے مطابق، اگر کوئی شخص نیند میں ہو اور اس سے کوئی الفاظ نکل جائیں، چاہے وہ طلاق کے ہوں یا کچھ اور، تو ان کا شرعی اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ وہ غیر ارادی طور پر ادا کیے گئے ہیں۔ یہی اصول لاشعوری یا بے ہوشی کی دیگر حالتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، جب تک کہ وہ خود اپنی مرضی سے ایسی حالت میں نہ گیا ہو (جیسے نشہ کرنا)۔
الہدایہ:
کتاب “الہدایہ” میں بیان کیا گیا ہے کہ طلاق کے وقوع کے لیے شوہر کا عاقل، بالغ اور بیدار ہونا شرط ہے۔ نیند کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی، کیونکہ اس وقت انسان کا شعور معطل ہوتا ہے۔ (الہدایہ، جلد 2، صفحہ 399)
بدائع الصنائع:
“بدائع الصنائع” میں بھی ذکر ہے کہ نیند کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ یہ اس اصول پر مبنی ہے کہ طلاق ایک ارادی فعل ہے، اور نیند کی حالت میں ارادہ موجود نہیں ہوتا۔ (بدائع الصنائع، جلد 3، صفحہ 100)
ان حوالہ جات سے واضح ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نیند کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی، کیونکہ اس وقت انسان کی عقل اور ارادہ معطل ہوتے ہیں۔
یہ مسئلہ دیگر فقہاء کے ہاں کچھ اختلاف کے ساتھ پایا جاتا ہے، لیکن حنفی فقہ میں اس پر واضح طور پر قرار دیا گیا ہے کہ نیند کی حالت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ہوگی۔
نتیجہ:
اگر کوئی شخص نیند میں یا نیم بے ہوشی کی حالت میں طلاق دے تو وہ شرعاً واقع نہیں ہوگی۔
ائمہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
Arqf-2025- 175 ممبر الرضا قرآن وفقہ اکیڈمی رولنمبر
10رمضان المبارک 1446ھ 11 اپریل 2025ء