موذی بلی کو مارنے کا حکم.
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ ایک شخص نے موذی بلی کو مارنے کے لیے زندہ کبوتر کو زہر کا ٹیکا لگاکر کھلا دیا کیا اس کایہ عمل درست ہے.
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بنصرتہ الملک وھاب اللھم ھدایتہ الحق والصواب
اس شخص کا ایسا کرنا شرعاً درست نہیں کیونکہ اس نےایک بے زبان جانور کو بلا وجہ مارا اور دوسرے کو تڑپا کر اگر موذی بلی سے چھٹکارے کا کوئی اور راستہ نا ہو تو اسے تیز دھار چھری سے ذبح کر دیا جائے ھندیہ میں ہے
الهرة إذا كانت مؤذيةً لا تضرب ولا تعرك أذنها بل تذبح بسكين حادٍّ، كذا في الوجيز للكردري. الهندیة، کتاب الکراهية، باب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات جلد5 صفحہ 361 مطبوعہ:دار الفکر)بلی جب موذی ہوتو نا اسے مارا جائے اور نا تڑپایا جائے بلکہ تیز دھار چھری سے ذبح کر دیا جائے واللہ و رسولہ اعلم
13شعبان المعظم 1446
12فروری2025
کتبہ (محمد طارق قادری)