موئے مبارک کو زیارت کے لیے گھر گھر لیکر جانا
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حضور نبی کریم ﷺ کے موئے مبارکہ کو جگہ جگہ گھومانا، ایک محفل سے دوسری محفل میں لے جانا، بعض لوگوں کا موئے مبارکہ کو اپنے ساتھ رکھنا کہ جہاں وہ ہوں گے صرف وہیں زیارت ہو سکے گی حتی کہ محافل کی گیدرنگ بڑھانے کے لئے موئے مبارکہ کو گاؤں دیہات میں منعقد ہونے والی شخصیات کی محفل میں لے جانا الغرض موئے مبارکہ کو شہر بشہر ہر کس وناکس کے پاس رونق افروز کرنا ازروئے شرع شریف کیسا فعل ہے؟
اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی اس حوالے سے کیا تعلیمات ہیں؟؟
بینوا توجروا
بیان فرما کر اجر پائیے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
حضور نبی کریم ﷺ کے آثار وتبرکات کی تعظیم فرض عظیم ہے اور موئے مبارکہ کی زیارت اور ان سے برکت حاصل کرنا ایک بہت بڑی سعادت ہے، لہذا موئے مبارکہ کو عزت و احترام کے ساتھ محفوظ رکھنا اور زیارت کے آداب کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ اس لیے موئے مبارکہ کو جگہ جگہ گھمانا، ایک محفل سے دوسری محفل میں لے جانا کہ جہاں ان کی بے حرمتی کا خدشہ ہو، یا ان کی حفاظت میں کمی کا خطرہ ہو، تو اس طرح گھوماتے پھرانے میں، موئے مبارکہ کی سخت توہین ہے۔اور بعض لوگوں کا اسے اپنے ساتھ مخصوص رکھنا تاکہ صرف وہیں زیارت ہو سکے اور اس سے ان کا مقصد یہ ہو کہ کہیں مختلف جگہوں پر لے جانے کی صورت میں بے ادبی نہ ہو جائے اور کماحقہ اس کی حفاظت نہ کی جاسکے، تو ان مقاصد حسنہ کے پیش نظر جگہ کو مخصوص کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔
نیز موئے مبارک کی زیارت کرا کے لوگوں سے پیسے لینا کئی وجوہ سے شرعاً ناجائز ہے:
(1) پہلی وجہ: ایسا تندرست شخص کہ جو بقدر ضرورت کمانے پر قادر ہو ایسے شخص کا لوگوں سے سوال کرنا حرام ہے۔
دوسری وجہ: یہ ہے کہ اگر زائرین بغیر مانگے دیں اور یہ لے تو اس میں تفصیل ہے، شریعت مطہرہ کا اصول ہے المہعود عرفا کالمشروط لفظاً یعنی جو چیز عرفا مقرر ہو وہ لفظاً مشروط کی طرح ہے، اور ایسے لوگوں کی نیت یہی ہوتی ہے کہ لوگ زیارت کے بدلے روپے پیسے دیں، اس لیے اگر کوئی شخص بالکل کچھ نہ دے یا ان کی خواہش کے مطابق نہ دے تو اس سے ناراض ہوتے ہیں، اور جو شخص ان کی مرضی کے مطابق کچھ دے دے تو اس کی تعریفیں کرتے پھرتے ہیں، لہذا اس طرح یہ زیارت موئے مبارک کا عرفا اجارہ ہوا اور یہ بھی حرام ہے:
پہلی وجہ: زیارت موئے مبارک کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس پر اجارہ کیا جا سکے۔
دوسری وجہ: اجرت بھی مقرر نہیں نیز جو اجارے شرعاً جائز ہیں، اگر ان میں بھی اجرت مجہول ہو تو اجارہ حرام ہوجاتا ہے اور یہاں تو اجارہ و اجرت دونوں حرام ہیں۔
ہاں اگر زیارت کرانے والا جلسے میں صراحتاً کہہ دے کہ موئے مبارک کی زیارت محض رضائے الہیٰ کے لیے کرائی جائے گی، اس پر کوئی معاوضہ یا بدلہ ہرگز نہیں لیا جائے گا،
اس کے بعد اگر کوئی شخص کچھ دے تو اسے قبول کرنے میں کچھ حرج نہ ہوگا۔
بخاری شریف میں ہے:
“عن ابن سیرین قال: قلت لعبیدة: عندنا من شعر النبي صلی ﷲ علیه وسلم أصبناہ من قبل أنس أو من قبل أهل أنس. فقال: لأن تکون عندي شعرة منه أحب اليّ من الدنیا وما فيها.”
ترجمہ: حضرت محمد بن سیرین رحمۃ ﷲ علیہ سے مروی ہے کہ میں نے عبیدہ سے کہا: ہمارے پاس نبی صلى ﷲ عليہ وسلم کے چند موئے مبارک ہیں جو ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یا یوں کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے خاندان کی جانب سے حاصل ہوئے ہیں۔ عبیدہ نے کہا: میرے پاس آپ صلى ﷲ عليہ وسلم کا ایک موئے مبارک ہونا مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ پسند ہے“۔
(صحیح بخاری، کتاب الوضوء، باب الماء الذی یغسل بہ شعرُ الانسان، صفحہ55، رقم:170، دار ابن کثیر)
مسلم شریف میں ہے:
“عن أنس بن مالک: أن رسول ﷲ صلی ﷲ عليه وسلم أَتٰی مِنٰی. فأتٰی الجمرةَ فرماها ثم أتٰی منزله بِمنٰی ونحر. ثم قال للحلّاق: خذ وأشار إلی جانِبه الأیمن. ثم الأیسرِ. ثم جعل یعطيه الناس.”
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم منٰی تشریف لائے پھر “تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ (شیطان) کی طرف آئے اور اسے کنکریاں ماریں، پھر منٰی میں اپنے خیمے میں تشریف لائے اور قربانی کی۔ پھر آپ نے حجام (بال تراشنے والے) سے فرمایا: “لو (بال کاٹو)” اور دائیں جانب کی طرف اشارہ فرمایا، پھر بائیں جانب کی طرف۔ پھر آپ (بال) لوگوں کو دینے لگے۔
(صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان ان السنة یوم النحر أن یرمی۔۔۔الخ، صفحہ610-611، رقم: دار الفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آثار وتبرکات شریفہ کی تعظیم دین مسلمان کا فرض عظیم ہے، بلکہ وہ چیز حضور اقد س صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نام پاک سے مشہور ہو اس کی تعظیم شعائر دین سے ہے۔۔۔۔۔۔۔مقصد فاسد کے لئے تبرکات شریفہ کو شہر بشہر در بدر لئے پھرتے ہیں اور کس و نا کس کے پاس لے جاتے ہیں یہ آثار شریفہ کی سخت توہین ہے۔ خلیفہ ہارون رشید رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ نے عالم دار الہجرۃ سیدنا امام مالک رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے درخواست کی تھی کہ ان کے یہاں جا کر خلیفہ زادوں کو پڑھا دیا کریں، فرمایا: میں علم کو ذلیل نہ کروں گا انھیں پڑھنا ہے تو خود حاضر ہوا کریں، عرض کی: وہی حاضر ہونگے مگر اور طلباء پر ان کو تقدیم دی جائے، فرمایا: یہ بھی نہ ہوگا سب یکساں رکھے جائیں گے آخر خلیفہ کو یہی منظور کرنا پڑا__ یونہی امام شریک نخعی سے خلیفہ وقت نے چاہا تھا کہ ان کے گھر جاکر شہزادوں کو پڑھا دیا کریں، انکار کیا۔ کہا: آپ امیر المومنین کا حکم ماننا نہیں چاہتے۔ فرمایا: یہ نہیں بلکہ علم کو ذلیل نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔۔۔لوگ تبرکات شریفہ شہر بشہر لئے پھرتے ہیں ان کی نیت وعادت قطعا معلوم کہ اس کے عوض تحصیل زر وجمع مال چاہتےہیں یہ قصد نہ ہو تو کیوں دور دراز سفر کی مشقت اٹھائیں، ریلوں کے کرائے دیں، اگر کوئی ان میں زبانی کہے بھی کہ ہماری نیت فقط مسلمانوں کو زیارت سے بہرہ مند کرنا ہے تو ان کا حال ان کے قال کی صریح تکذیب کر رہاہے ان میں علی العموم وہ لوگ ہیں جو ضروری ضروری طہارت وصلوٰۃ سے بھی آگاہ نہیں اس فرض قطعی کے حاصل کرنے کو کبھی دس پانچ کوس یا شہر ہی کے کسی عالم کے پاس گھر سے آدھ میل جانا پسند نہ کیا مسلمانوں کو زیارت کرانے کے لئے ہزاروں کوس سفر کرتے ہیں پھر جہاں زیارتیں ہوں اور لوگ کچھ نہ دیں وہاں ان صاحبوں کے غصے دیکھئے پہلا حکم یہ لگایا جاتاہے کہ تم لوگوں کو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ محبت نہیں گویا ان کے نزدیک محبت نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور ایمان اسی میں منحصر ہے کہ حرام طور پر کچھ ان کی نذر کردیا جائے، پھر جہاں کہیں سے ملے بھی مگر ان کے خیال سے تھوڑا ہو ان کی سخت شکایتیں اور مذمتیں ان سے سن لیجئے اگر چہ وہ دینے والے صلحاء وعلماء ہوں اور مال حلال سے دیا ہو اور جہاں پیٹ بھر کے مل گیا وہاں کی لمبی چوڑی تعریفیں لے لیجئے اگر چہ وہ دینے والے فساق فجار بلکہ بد مذہب ہوں اور مال حرام سے دیا ہو۔ ملتقطا”۔
(فتاوی رضویہ، جلد21، صفحہ414-417، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
کچھ آگے چل کر امام اہلسنت رحمۃ ﷲ علیہ مزید ارشاد فرماتے ہیں:
تبرکات شریفہ جس کے پاس ہوں ان کی زیارت کرنے پر لوگوں سے اس کا کچھ مانگنا سخت شنیع ہے۔ جو تندرست ہو اعضاء صحیح رکھتا ہو نوکری خواہ مزدوری اگر چہ ڈلیا ڈھونے کے ذریعہ سے روٹی کما سکتاہوا سے سوال کرناحرام ہے۔
رسول اللہ صلی للہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
“لاتحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی.”
ترجمہ: غنی یا سکت والے تندرست کے لئے صدقہ حلال نہیں۔
(مسند امام احمد بن حنبل، عن عبد ﷲ بن عمر و رضی اللہ تعالٰی عنہ، المکتب الاسلامی بیروت، ۲/ ۱۹۲)
رہا یہ کہ بے اس کے مانگے زائرین کچھ اسے دیں اور یہ لے۔ اس میں تفصیل ہے شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ: المعہود عرفا کالمشروط لفظا (یعنی عرفا مقررہ چیز لفظا مشروط کی طرح ہے) یہ لوگ تبرکات شریفہ شہر بشہر لئے پھرتے ہیں ان کی نیت وعادت قطعا معلوم کہ اس کے عوض تحصیل زر وجمع مال چاہتےہیں یہ قصدنہ ہوتو کیوں دور دراز سفر کی مشقت اٹھائیں،۔۔۔پھرجہاں کہیں سے ملے بھی مگر ان کے خیال سے تھوڑا ہو ان کی سخت شکایتیں اور مذمتیں ان سے سن لیجئے اگر چہ وہ دینے والے صلحاء وعلماء ہوں اور مال حلال سے دیا ہو اور جہاں پیٹ بھر کے مل گیا وہاں کی لمبی چوڑی تعریفیں لے لیجئے اگر چہ وہ دینے والے فساق فجار بلکہ بد مذہب ہوں اور مال حرام سے دیا ہو قطعا معلوم ہے کہ وہ زیارت نہیں کراتے بلکہ لینے کے لئے اور زیارت کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ ضرور کچھ دینا پڑے گا تو اب یہ صرف سوال ہی نہ ہوا بلکہ بحسب عرف زیارت شریفہ پر اجارہ ہوگیا اور وہ بچند وجہ حرام ہے ۔
اولا زیارت آثار شریفہ کی کوئی ایسی چیز نہیں جو زیر اجارہ داخل ہوسکے۔
کما صرح بہ فی رد المحتار وغیرہ “ان مایؤخذ من النصاری علی زیارۃ بیت المقدس حرام۔” وہذا اذا کان حراما اخذہ من کفار دور الحرب کالروس وغیرہم فکیف من المسلمین ان ہو الا ضلال مبین.” یعنی جس طرح اس کی تصریح ردالمحتار وغیرہ میں ہے کہ بیت المقدس کی زیارت کے عوض عیسائیوں سے وصولی حرام ہے یہ حربی کافروں اور سرداروں وغیرہ سے وصولی حرام ہے تو مسلمانوں سے وصولی کیسے حرام نہ ہوگی یہ نہیں مگر کھلی گمراہی۔
ثانیا: اجر ت مقرر نہیں ہوئی کیا دیاجائے گا اور جو اجارے شرعا جائز ہیں ان میں بھی اجرت مجہول رکھی جانا اسے حرام کردیتاہے نہ کہ جو سرے سے حرام ہے کہ حرام درحرام ہواہوا۔۔۔۔ہاں اگر بندہ خدا کے پاس کچھ آثار شریفہ ہوں اور وہ انھیں بہ تعظیم اپنے مکان میں رکھے اور جو مسلمان اس کی درخواست کرے محض لوجہ اللہ اسے زیارت کرادیا کرے کبھی کسی معاوضہ نذرانہ کی تمنا نہ رکھے،
صراحۃ اعلان کے ساتھ ہر جلسے میں کہہ دیا کریں کہ مسلمانو! یہ آثار شریفہ تمھارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا فلاں ولی معزز ومکرم کے ہیں کہ محض خالصا لوجہ اللہ تعالٰی تمھیں ان کی زیارت کرائی جاتی ہے ہرگز ہرگز کوئی بدلہ یا معاوضہ مطلوب نہیں، اس کے بعد اگر مسلمان کچھ نذر کریں تو اسے قبول کرنے میں کچھ حرج نہ ہوگا، ملتقطا۔”
(فتاوی رضویہ، جلد21، صفحہ416-418، رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
کتبه: ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی۔
نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری۔
️مؤرخہ 25 ربیع الثانی 1446ھ بمطابق 29 اکتوبر 2024ء، بروز منگل