شوہر کا بیوی پر قرض ہو اور بیوی مرجائے توادائیگی کا طریقہ

شوہر کا بیوی پر قرض ہو اور بیوی مرجائے توادائیگی کا طریقہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ بیوی نے شوہر کو اپنا سونا قرض دیا تھا کاروبار میں لگانے کے لیے، اب اس کا انتقال ہوگیا،تو کیا اب شوہر کو اس کا قرض ترکہ میں دینا ہوگا اور دینا ہوگا بھی تو کس وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

بیان کی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ سونا قرض لینا جائز ہے البتہ واپس کرتے وقت اس کی مثل سونا ادا کرنا واجب ہے یعنی جتنی مقدار میں سونا قرض لیا ہے اتنی ہی مقدار یا اس مقدار کی موجودہ قیمت دینا ہوگی جو کہ بطور ترکہ شوہر سمیت وارثوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے

”ويجوز استقراض الذهب والفضة وزنا ‌ولا ‌يجوز ‌عددا كذا في التتارخانية“

ترجمہ:اور سونے چاندی کو وزن کے حساب سے قرض دینا جائز ہے اور عدد کے حساب سے قرض دینا جائز نہیں ہے جیسا کہ تتار خانیہ میں ہے۔(فتاوی ہندیہ، جلد 3 ، صفحہ 302 ، دار الفکر، بیروت)

الدر المختار میں ہے

”(و) فيها (القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منها لا يبطله ولكنه يلغو شرط رد شيء آخر فلو استقرض الدراهم المكسورة على أن يؤدي صحيحا ‌كان ‌باطلاوكان عليه مثل ما قبض “

ترجمہ:اس میں ہے کہ قرض جائز شرائط سے متعلق نہیں ہوتا، لہٰذا فاسد شرائط اس کو باطل نہیں کرتیں، بلکہ وہ شرط رد ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص ٹوٹے ہوئے سکہ کا قرض لے کر یہ شرط لگائے کہ وہ صحیح سکہ واپس کرے گا، تو وہ باطل ہو گا اور اسے وہی مقدار واپس کرنی ہوگی جو اس نے لی تھی۔(الدر المختار ، جلد 5 ، صفحہ 165، دار الفکر بیروت)

الفتاویٰ الحامدیہ میں ہے:

”‌الديون ‌تقضي بأمثالها“

ترجمہ:قرض کی ادائیگی اسی کی مثل کرنی ہوتی ہے۔( الفتاویٰ الحامدیہ، جلد 1 ، صفحہ 500، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

ردالمختار میں ہے

”استقرض حنطة فاعطی مثلھا بعد ما تغیر سعرھا یجبر المقرض علی القبول“

ترجمہ:کسی نے گندم قرض لیا اور جب اتنی ہی مقدار میں گندم واپس دینے لگا تو اس وقت گندم کی قیمت بدل چکی تھی تو قرض خواہ کو اتنی ہی گندم لینی ہوگی۔(ردالمختار ، جلد 5 ، صفحہ 162 ، دار الفکر، بیروت)

بہار شریعت میں ہے :

”قرض کا حکم یہ ہے کہ جو چیز لی گئی ہے اُس کی مثل ادا کی جائے۔۔۔۔ واپسی قرض میں اُس چیز کی مثل دینی ہوگی جولی ہے نہ اُس سے بہتر نہ کمترہاں اگر بہتر ادا کرتا ہے اور اس کی شرط نہ تھی تو جائز ہے۔“(بہار شریعت، جلد 2، حصہ 11 ، صفحہ 764 ، مکتبہ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــہ

ممبر الرضا قرآن وفقہ اکیڈمی

06 شعبان المعظم 1446ھ 05 فروری 2025ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں