روزے میں مسوک کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے کہ اگر روزہ ہو تو مسواک کرنے کا کیا حکم ہو گا روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بیان کی گئی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ روزے میں مسواک کرنا سنت ہے جیسے اور دنوں میں سنت ہے۔لہذا اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا،البتہ اگر مسواک چبانے سے ریشے چھوٹیں یا مزہ محسوس ہو تو ایسی مسواک روزے میں نہیں کرنی چاہئے،بلکہ یوں کرلیں کہ سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے اس کو چبا کر نرم کرلیں پھر روزے کی حالت میں بغیر چبائے دانتوں پر پھیر لیں۔
جامع ترمذی کی حدیث پاک حضرت سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
”رایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما لا احصي يتسوك وهو صائم“
ترجمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روزہ کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا کہ میں اسے شمار نہیں کر سکتا۔(جامع ترمذی،باب ما جاء في السواك للصائم، ج 2،ص172،حدیث 725،دار الغرب الاسلامی)
بہار شریعت میں ہے:
”روزے میں مسواک کرنا مکروہ نہیں بلکہ جیسے اور دنوں میں سنت ہے ویسے ہی روزے میں بھی مسنون ہے۔مسواک خشک ہو یا تر اگرچہ پانی سے تر کی ہو،زوال سے پہلے کرے یا بعد کسی وقت مکروہ نہیں۔“(بہار شریعت ج1، ص997،مکتبہ المدینہ، کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”مسواک کرنا سنت ہے ہر وقت کر سکتا ہے، اگرچہ تیسرے پہر یا عصر کو چبانے سے لکڑی کے ریزے چھوٹیں یا مزہ محسوس ہو تو نہ چاہئے ۔“(فتاوی رضویہ ،جلد 10،صفحہ518،رضافاونڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس
12شعبان،1446ھ،11فروری2025ء۔
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری