دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد بغیر نیت فارغ کا لفظ بولنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں نے تقریبا چھ سال پہلے اپنی بیوی کو دو دفعہ کہا “میں تجھے طلاق دیتا ہوں،میں تجھے طلاق دیتا ہوں”پھر میری بیوی نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ،اس کے بعد ہم میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہتے رہے،بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اس سے طلاق ہوجاتی ہے تو میں نے عدت (تین حیض )کے اندر زبان سے تو رجوع نہیں کیا تھا لیکن وطی(صحبت )کی تھی کیا اس سے رجوع ہوچکا؟پھر ابھی کچھ دن پہلے میری بیوی اپنی کزن سے فون پر بات کررہی تھی تو میں نے بیوی کو کہا کہ اس سے کیوں باتیں کرتی ہو اس نے اپنا گھر بھی برباد کیا ہے اور اب تمہارا بھی کرے گی۔اس کے بعد میری بیوی نے مجھے بتایا کہ اس کی کزن نے میرے بڑے بھائی کو میری شکایت کی ہے کہ تمہارا چھوٹا بھائی بہت بدتمیز ہے،یہ سن کر میں نے غصے میں اپنی بیوی کو کہا کہ “اگرتو تمہاری کزن نے میرے بڑے بھائی سے میری شکایت کی ہے تو پھر تم میری طرف سے فارغ ہو”اور یہ کہنے سے میری نیت طلاق کی نہیں تھی بلکہ میرا ارادہ تھا کہ بات چیت ختم کردوں گا پھر بعد میں مجھے پتہ چلا کہ کزن نے بات کی تھی ، کیا اس سے طلاق ہوگئ؟(سہیل ،یوکے )
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
پوچھی گی صورت کا حکم یہ ہے کہ پہلے آپ نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی اور پھر عدت کے اندر وطی کرنے سے رجوع ہوگیا (اگرچہ وطی سے رجوع کرنا مکروہ ہے )اس کے بعد آپ کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی رہا،پھر آپ کی بیوی سےکزن سے بات کرنے کی وجہ سے لڑائی ہوئی جس پر آپ نے غصے میں کہا “اگرتو تمہاری کزن نے میرے بڑے بھائی سے میری شکایت کی ہے تو پھر تم میری طرف سے فارغ ہو”اور آپ نے بتایا کہ اس سے آپ کی نیت طلاق کی نہیں بلکہ بات چیت ختم کرنے کی تھی،جبکہ بات چیت ختم کرنے کے لئے لفظ فارغ بولنا رائج نہیں ،لفظ فارغ اگر نکمے پن میں بولا جائے تو قابل قبول ہے ، اگر تو آپ اپنی اس نیت پر قسم کھا سکتے ہیں کہ واقعی آپ کی نیت طلاق کی نہیں بلکہ آپ نے بات چیت ختم کرنے کی نیت سے کہا تھا تو پھر طلاق واقع نہیں ہوگی۔
نوٹ،یاد رہے کہ اگر آپ قسم کھا لیتے ہیں تو پھر آپ کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی رہے گا لہذا آئندہ کے لئے سخت احتیاط کی ضرورت ہے کہ تیسری طلاق بھی ہوجانے کی صورت میں عورت حرام ہوجائے گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے،
“ولو قال لها أنت طالق طالق أو أنت طالق أنت طالق أو قال قد طلقتك قد طلقتك أو قال أنت طالق وقد طلقتك تقع ثنتان”،ترجمہ،اگر شوہر نے بیوی سےکہا “أنت طالق طالق” (تو طلاق یافتہ ہے، طلاق یافتہ ہے) یا “أنت طالق، أنت طالق” (تو طلاق یافتہ ہے، تو طلاق یافتہ ہے) یا “قد طلقتك، قد طلقتك” (میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی) یا “أنت طالق، وقد طلقتك” (تو طلاق یافتہ ہے، اور میں نے تجھے طلاق دے دی ہے) تو اس پر دو طلاقیں واقع ہوں گی۔
الجوہر النیرہ میں ہے،
وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك،یعنی،اور اگر وہ (شوہر) اسے بالفعل رجوع کر لے، جیسے کہ اس سے ہمبستری کرے، یا شہوت کے ساتھ بوسہ دے، یا شہوت کے ساتھ اس کی شرمگاہ کی طرف دیکھے، تو ہمارے نزدیک اس طرح رجوع کرنا واقع ہو جائے گا، البتہ یہ مکروہ ہے۔(الجوہر النیرہ،کتاب الرجعت،جلد دوم،صفحہ نمبر 50،التراث)۔
در مختار میں ہے،
سرحتك فارقتك، لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الاقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال، والقول له بيمينه في عدم النية، ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم،
،یعنی، جیسے:میں نے تمہیں آزاد کیا، میں نے تمہیں جدا کیا۔پس اگر رضا کی حالت میں ہویعنی حالت غضب وحالت مذاکرہ نہ ہو تو ان تینوں اقسام کا اثر نیت پر منحصر ہوگا، کیونکہ ان میں احتمال موجود ہوتا ہے۔ اور اگر شوہر نیت نہ ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کی قسم معتبر ہوگی۔ اس کے لیے اتنا کافی ہے کہ بیوی اس کے گھر میں اس سے قسم لے لے۔ اگر شوہر انکار کرے تو وہ اسے حاکم کے پاس لے جا سکتی ہے۔(در مختار،باب الکنایات،صفحہ 214،التراث)
ھذا ماظھر لعبد الضعیف واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالصواب
کتبہ ،
رول نمبر ۴ ،
۸نومبر ۲۰۲۴ بمطابق ۶جمادی الاولی ۱۴۴۶