دوران نماز ٹشو سے ناک صاف کرنا

دوران نماز ٹشو سے ناک صاف کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دوران نماز میری ناک بہتی ہے تو کیا میں ٹشو سے صاف کرسکتا ہوں ؟ (احمد رضا،لیسٹر)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

نماز میں اگر واقعی ناک اتنی بہہ رہی ہو کہ صاف نہ کی تو زمین یا مسجد کی کار پیٹ پر ناک ٹپکے گی تو ایک ہاتھ کو استعمال کرتے ہوئے عمل قلیل سے ٹشو یا آستین وغیرہ سے ایک رکن میں تین سے کم بار، ناک صاف کرسکتا ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے،

”ظهر من أنفه ذنين في الصلاة فمسحه أولى من أن يقطر منه على الأرض. كذا في القنية“یعنی،“نماز میں اگر کسی کے ناک سے پانی بہنے لگے تو اسے صاف کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ زمین پر ٹپکے۔ ایسا قنیہ میں ہے۔(فتاوی عالمگیری،الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلاة،جلد اول،صفحہ نمبر 105،التراث )

بہار شریعت میں ہے،

جس کام کے کرنے والے کو دور سے دیکھ کر اس کے نماز میں نہ ہونے کا شک نہ رہے بلکہ گمان غالب ہو کہ نماز میں نہیں تو وہ عمل کثیر ہے اور اگر دور سے دیکھنے والے کو شبہ وشک ہو کہ نماز میں ہے یا نہیں ،تو عمل قلیل ہے۔(بہار شریعت،مفسدات نماز کا بیان،جلد اول،صفحہ نمبر 609،مکتبة المدینہ،کراچی)

ھذا ماظھر لعبد الضعیف واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالصواب

کتبہ،

رول نمبر 4،

۶اکتوبر۲۰۲۴ بمطابق ۲ربیع الآخر ۱۴۴۶ ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں