دودھ کے چند قطروں پر حرمتِ رضاعت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ عورت نے اپنا دودھ نکال کر فیڈر میں ڈالا اور بچے کو پلایا،اب نپل میں دودھ کے ایک دو قطرے موجود تھے تو دوسرے چودہ ماہ کے بچے نے اسے چاٹ لیا آیا رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صورت مسئولہ کے مطابق رضاعت ثابت ہو جائے گی کیونکہ رضاعت مدت میں دودھ پینے سے ثابت ہو جاتی ہے اور اس میں قلیل اور کثیر کا اعتبار نہیں فقہ حنفی کی رو سے چند قطرے دودھ بھی مدت رضاعت میں پینے سے رضاعت متحقق ہو جاتی ہےاور تفسیر قرطبی میں قلیل کی وضاحت کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ جتنی مقدار سے روزہ ٹوٹ جاتا ہو اتنی سے رضاعت ثابت ہوجائے گی تو ایک قطرہ سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے ،لہذا رضاعت ثابت ہوجائے گی۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
﴿ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ ﴾
ترجمہ کنز العرفان :اور (تم پر حرام کی گئیں ) تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دودھ (کے رشتے) سے تمہاری بہنیں ۔ (پارہ 4، سورۃ النساء ،آیت 23)
تفسیر ماتریدی میں ہے
”أما في التقدير: فعموم قوله تعالى ﴿ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ ﴾لم يخص قدرا دون قدر.وروي عن عليٍ وعبد اللہ قالا: قليل الرضاع وكثيره سواء.وعن ابن عباس كذلك. وعن عبد اللہ بن عمر قال: الرضعة الواحدة تحرم “
ترجمہ : بہر حال دودھ کی مقدار کے متعلق قرآنِ پاک کی اس آیتِ مبارکہ ’’ اور (تم پر حرام کی گئیں ) تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دودھ (کے رشتے) سے تمہاری بہنیں‘‘ میں عموم ہے ، دودھ کی کم یا زیادہ ہونے کے اعتبار سے کوئی مقدار خاص نہیں کی گئی ۔ اور مولیٰ علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حرمتِ رضاعت کے ثبوت میں دودھ کی قلیل و کثیر مقدار برابر ہے ۔ یونہی سیّد المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی مروی ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں کہ ایک چُسکی بھی حرام کردیتی ہے ۔(تفسیر ماتریدی ، جلد 3 ، صفحہ 91 ، مطبوعہ بیروت )
تفسیر قرطبی میں ہے
”أئمة الفتوى إلى أن الرضعة الواحدة تحرم إذا تحققت كما ذكرنا … وقال الليث بن سعد: وأجمع المسلمون على أن قليل الرضاع وكثيره يحرم في المهد ما يفطر الصائم“
ترجمہ : ائمہ فتویٰ بیان کرتے ہیں کہ ایک چُسکی بھی حرمتِ رضاعت کو ثابت کر دیتی ہے، جبکہ دودھ پینا ثابت ہو ، جیسا کہ ہم نے ذکر کر دیا اور حضرت لیث بن سعد عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ دودھ کم ہو یا زیادہ ، حتی کہ اتنی مقدار دودھ بھی اگر بچہ پی لے کہ جو مقدار روزہ دار کا روزہ توڑ دے ،تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائے گی ۔( تفسیر قرطبی ،جلد5،صفحہ110،مطبوعہ بیروت)
احکام القرآن میں ہے
:”عن ابن عباس أنه سئل عن الرضاع فقلت: إن الناس يقولون لا تحرم الرضعة ولا الرضعتان قال: “قد كان ذاك،فأما اليوم فالرضعة الواحدة تحرم …فقد عرف ابن عباس وطاوس خبر العدد في الرضاع وأنه منسوخ بالتحريم بالرضعة الواحدة“
یعنی حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ان سے رضاعت کے بارے میں سوال ہوا، تو میں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ ایک دو چسکیاں حرام نہیں کرتیں ، آپ نے فرمایا یہ پہلے تھا ، اب ایک چسکی بھی حرام کر دیتی ہے ، تحقیق حضرت ابن عباس اور طاؤس رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا نے رضاعت کی تعداد کے متعلق روایت کو جان لیا اور یہ بات بھی جان لی کہ یہ حکم ایک بار دودھ پلانے سے منسوخ ہو چکا ۔(احکام القرآن ،سورۃ آل عمران ، جلد2، صفحہ125، مطبوعہ لاھور)
حضرت مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ وَجْھَہٗ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ نبی پاک صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :
”يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، قليله وكثيره “
ترجمہ : رضاعت ( یعنی دودھ پینے ) سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں ، جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ، خواہ دودھ کی مقدار کم ہو یا زیادہ ۔( مسند امام ابو حنیفہ ، کتاب الرضاع ،صفحہ 360 ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی )
صحیح البخاری میں ہے :
”عن عقبۃ بن الحارث انہ تزوج ابنۃ لابی اھاب بن عزیز فاتتہ امراۃ فقالت انی قد ارضعت عقبۃ والتی تزوج بھا ، فقال لھا عقبۃ ما اعلم انک ارضعتنی ولا اخبرتنی فرکب الی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بالمدینۃ فسالہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کیف وقد قیل ففارقھاعقبۃ ونکحت زوجا غیرہ“
یعنی حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو اہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کی تو ایک عورت نے آ کر کہا ، میں نے عقبہ کو اور جس سے عقبہ نے شادی کی ہے ، ان دونوں کو دودھ پلایا ہے ، تو حضرت عقبہ نے فرمایا ، مجھے نہیں پتہ کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے دودھ پلانے کی خبر دی ہے۔ پھر آپ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ آئے اور سوال کیا توآپ علیہ السلام نے فرمایا :کیسے؟ جبکہ کہا گیا ہے (کہ تم دونوں نے ایک عورت کا دودھ پیا ہے ) تو حضرت عقبہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا ۔ (صحیح بخاری ، کتاب العلم ، باب الرحلۃ فی المسئلۃ النازلۃ ، جلد1، صفحہ19،مطبوعہ کراچی )
شرح مشکل الآثار میں ہے :
”کان فی ھذا الحدیث ترک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کشف عدد الرضاع الذی ذکرت تلک السوداء انھا ارضعت عقبۃ والمراۃ التی تزوجھا وفی ذلک ما قد دل علی استواء قلیلہ وکثیرہ فی الحرمۃ لانہ لو کان من شریعتہ ان لا تحرم الرضعۃ والرضعتان الی العدد المذکور فی ذلک الحدیث الذی روینا لاستحال ان یکون رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یامر الذی سالہ بفراق من قد ارضعتہ والمراۃ التی قد تزوجھا المراۃ التی ذکرت لہ انھا ارضعتھما رضا عا لا یمنع من تزویجہ ایاھا ولکن یقف عقبۃ فیقول لہ سلھا عن عدد الرضاع الذی ارضعتکما ، کم ھو؟ لیقف بذلک علی انہ من الرضاع الذی یحرم علیہ ان یتزوجھا اذا کان فی الحقیقۃ کذلک والتورع عن ذلک اذا کان الشک فیہاو انہ من الرضا ع الذی لا یحرم علیہ تزویجھا فیخلیہ وذلک التزویج ، وفی ترکہ کذلک ما قد دل علی انہ لا فرق کان عندہ بین قلیل الرضاع وبین کثیرہ فی الحرمۃ“
یعنی اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا سیاہ رنگ والی عورت سے حضرت عقبہ اور ان کی بیوی کو دودھ پلانے کی تعداد کا سوال نہ فرمانا اس پر دلیل ہے کہ حرمت میں قلیل اور کثیر برابر ہیں کیونکہ اگر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شریعت میں ایک دو یا روایت کردہ احادیث سے ثابت عدد مذکور تک چسکیاں حرمت ثابت نہیں کرتی تو محال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سوال کرنے والے کو جس نے خود اور اس کی بیوی نے ایسا دودھ پیا کہ شادی کرنا ہی منع ہو جائے ، ان کو جدائی کا حکم دیتے، بلکہ توقف کر کے عقبہ سے فرماتے کہ اس عورت سے پوچھو ، اس نے کتنی بار تم دونوں کو دودھ پلایا ؟ تا کہ جانا جا سکے کہ یہ مقدار اتنی ہے کہ اگر حقیقت میں ایسا ہی ہو تو اس سے شادی کرنا حرام ہو جائے ، اور اس کے ثبوت میں شک ہو تو بچنا بہتر ہو اور اتنا دودھ پلایا ہو کہ جس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو اسے اور اس کی بیوی کو چھوڑ دیا جائے ، اس پوچھنے کو ترک کرنے میں اس پر دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نزدیک بھی حرمت میں قلیل و کثیر رضاعت میں کوئی فرق نہیں ۔ (شرح مشکل الآثار ، باب بیان مشکل ما روی الخ ، جلد11، صفحہ499، مؤسسۃ الرسالۃ)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
”قلیل الرضاع وکثیرہ اذا حصل فی مدۃ الرضاع تعلق بہ التحریم کذا فی الھدایۃ قال فی الینابیع :والقلیل مفسر بما یعلم انہ وصل الی الجوف کذا فی السراج الوھاج“
یعنی دودھ پلانا قلیل ہو یا کثیر جب مدتِ رضاعت میں حاصل ہو، تو تحریم اس کے متعلق ہوجائے گی ایسا ہی ہدایہ میں ہے ۔ ینابیع میں فرمایا:اور قلیل کی تفسیر اس مقدار کے ساتھ کی گئی ہے جس کے متعلق معلوم ہے کہ جوف تک پہنچ گیا ہے ایسا ہی سراج وہاج میں ہے۔(فتاوی ھندیہ، جلد1،صفحہ 376، مطبوعہ:بیروت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
ممبر(الرضا قرآن وفقہ اکیڈمی)
28 رجب المرجب 1446ھ 29 جنوری 2025ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری