دم کی شرعی حیثیت

دم کی شرعی حیثیت

1️⃣سوال: کیا دم کروا سکتے ہیں؟ دلائل شرعیہ کی روشنی میں اسکا جواب ارشاد فرما دیجئے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت کا حکم شرعی یہ ہے کہ جس دم میں شرکیہ و کفریہ یا ممنوع کلمات نہ ہوں اور نہ اس میں کفار کے منتر وغیرہ میں سے کچھ شامل ہو اور نہ ہی اسکو موثر حقیقی سمجھا جائے ایسا دم کروانا شرعا جائز ہے، کہ قرآن و احادیث سے اسکے جواز پر بکثرت دلائل موجود ہیں۔ قرآن پاک تمام امراض قلبیہ و بدنیہ امراض دنیا و آخرت کیلئے کامل شفا ہے اور اس دم سے شفائیں حاصل ہوتی ہیں اسی طرح دعائے ماثورہ، کلمات اسلامیہ، ذکرودرود، انبیاء اولیاء صالحین کے ناموں سے بھی شفائیں حاصل ہوتی ہیں۔

قرآن پاک میں ہے: و ننزل من القران ما هو شفاء و رحمة للمومنین” ترجمہ: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔

(قرآن پاک، سورہ بنی اسرائیل، پارہ15، آیت82)

اسی کے تحت صراط الجنان میں ہے: “قرآن شفا ہے کہ اس سے ظاہری و باطنی اَمراض، گمراہی اور جہالت وغیرہ دور ہوتے ہیں اور ظاہری و باطنی صحت حاصل ہوتی ہے۔ باطل عقائد، رذیل اخلاق اس کے ذریعے دفع ہوتے ہیں اور عقائد حقہ، معارفِ الٰہیہ ، صفاتِ حمیدہ اور اخلاق فاضلہ حاصل ہوتے ہیں کیونکہ یہ کتابِ مجید ایسے علوم و دلائل پر مشتمل ہے جو وہم پر مبنی چیزوں کواور شیطانی ظلمتوں کو اپنے انوار سے نیست و نابود کر دیتے ہیں اور اس کا ایک ایک حرف برکات کا گنجینہ و خزانہ ہے جس سے جسمانی امراض اور آسیب دور ہوتے ہیں۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳ / ۱۸۹، روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۸۲، ۵ / ۱۹۴، خزائن العرفان، بنی اسرا ئیل، تحت الآیۃ: ۸۲، ص۵۴۲، ملتقطاً)

اسی کے تحت مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:

قرآن مجید میں جسمانی امراض کی بھی شفا موجود ہے: یاد رہے کہ قرآن کریم کی حقیقی شفا تو روحانی امراض سے ہے لیکن جسمانی امراض کی بھی اس میں شفا موجود ہے۔”

(صراط الجنان، جلد5، پارہ15، آیت82، صفحہ ، مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)

صحیح بخاری میں ہے: “فقال ثابت: يا ابا حمزة اشتكيت، فقال انس: الا ارقيك برقية رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: بلى، قال: اللهم رب الناس مذهب الباس، اشف انت الشافي لا شافي إلا انت، شفاء لا يغادر سقما”

ترجمہ: ثابت نے کہا: ابوحمزہ! (انس رضی اللہ عنہ کی کنیت) میری طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر کیوں نہ تم پر وہ دعا پڑھ کر دم کر دوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے، ثابت نے کہا کہ ضرور کیجئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ دعا پڑھ کر دم کیا «اللهم رب الناس مذهب الباس اشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کر دینے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے تیرے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں، ایسی شفاء عطا فرما کہ بیماری بالکل باقی نہ رہے۔

(صحیح بخاری، کتاب الطب، باب رقية النبي صلى الله عليهِ وسلم، جلد7، صفحہ383، حدیث5742، مطبوعہ دار التاصیل۔ القاھرہ)

صحیح بخاری میں ہے: “ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ينفث على نفسه في المرض الذي مات فيه بالمعوذات، فلما ثقل كنت انفث عليه بهن، وامسح بيد نفسه لبركتها”، فسالت الزهري: كيف ينفث؟، قال: كان ينفث على يديه ثم يمسح بهما وجهه” ترجمہ: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے اوپر معوذات (سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا دم کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ کے لیے دشوار ہو گیا تو میں ان کا دم آپ پر کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی۔ پھر میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کرتے تھے، انہوں نے بتایا کہ اپنے ہاتھ پر دم کر کے ہاتھ کو چہرے پر پھیرا کرتے تھے۔

(صحیح بخاری، کتاب الطب، باب الرقى بالقرآن والمعوذات، جلد7، صفحہ382، حدیث5735، مطبوعہ دار التاصیل۔ القاھرہ)

صحیح مسلم میں ہے: “قال رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم في الرقية من العين والحمة والنملة” ترجمہ: کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد، زہریلے ڈنک، جلد نکلنے والے دانوں میں دم کرنے کی اجازت دی۔

(صحیح مسلم، کتاب الطب، باب استحباب الرقية من العين والنملة والحمة والنظرة، جلد7، صفحہ 17، حدیث2196، مطبوعہ دار الطباعة العامرة- تركيا)

صحیح مسلم میں ہے: “قال كنا نرقي في الجاهلية، فقلنا يا رسول الله، كيف ترى في ذلك فقال: “اعرضوا علي رقاكم لا باس بالرقى ما لم يكن فيه شرك “ترجمہ: کہا ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کی اے اللہ کے رسول اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو دم میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔

(صحیح مسلم، کتاب السلام، باب لا باس بالرقى ما لم يكن فيه شرك، جلد7، صفحہ19، حدیث2200 مطبوعہ دار الطباعة العامرة- تركيا)

جامع ترمذی میں ہے: “ان اسماء بنت عميس، قالت يا رسول الله، إن ولد جعفر تسرع إليهم العين، افاسترقي لهم، فقال نعم، فإنه لو كان شيء سابق القدر لسبقته العين” ترجمہ: کہ اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا نے عرض کیا اللہ کے رسول! جعفر طیار رضی الله عنہ کے لڑکوں کو بہت جلد نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے جھاڑ پھونک کراؤں آپ نے فرمایا ہاں، اس لیے کہ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کر سکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت کرتی۔

(جامع ترمذی، كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في الرقية من العين، حدیث2059 )

رد المختار میں ہے: “قال المصنف رضی اللہ عنہ وعلی الجواز عمل الناس الیوم بہ وردت الآثار” ترجمہ: مصنف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آج اس کے جواز پر لوگوں کا عمل ہے اور اسکے جواز پر آثار و احادیث وارد ہیں۔

(رد المختار، حظر و اباحت کا بیان، جلد6، صفحہ364، مطبوعہ)

فتاوی رضویہ میں ہے: ” اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ کھانے پرفاتحہ شریف یا کوئی آیت قرآن کی پڑھ کر دم کرنا درست ہے یانہیں؟ اگردرست ہے تو کس طرح سے پڑھناچاہئے؟ آپ اسکے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: بہ نیت شفاء سورہ فاتحہ یا اور کوئی آیت پڑھ کر دم کی جائے تو حرج نہیں مگر اس کھانے کی احتیاط اور دوچند ہوجائے گی کہ اس کا کوئی دانہ یاقطرہ گِرنے نہ پائے۔واﷲ تعالٰی اعلم”

(فتاوی رضویہ، بیماری اور علاج معالجہ، جلد24، صفحہ202، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

حیاۃ الحیوان میں ہے:حضرت عمر بن دینار فرماتے ہیں کہ “ان مما اخذ علی العقرب ان لا تضر احدا قال فی لیل او نھارا سلام علی نوح فی العالمین” ترجمہ: بچھو کے دموں میں سے کہ وہ اسے نقصان نا پہنچائے ایک دم یہ ہے کہ وہ دن اور رات یہ کہے سلام علی نوح فی العالمین۔

(حیاۃ الحیوان، جلد2، صفحہ427،426، مطبوعہ مکتبہ خلیل)

حیاۃ الحیوان میں ہے: “ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: “مجھے اپنا منتر سناؤ کیونکہ اس منتر میں کوئی حرج نہیں جس میں خلاف شرع کوئی چیز نا ہو” اس سے ثابت ہوا کہ کتاب اللہ اور ذکر اللہ سے جھاڑ پھونک جائز ہے البتہ وہ رقیہ ممنوع ہے جو فارسی یا عجمی زبان میں ہو یا اس کے الفاظ ایسے ہوں کہ اسکے معانی سمجھ میں نا آئیں کیونکہ ممکن ہے کہ اسکے معانی مفضی الی الکفر ہوں(یعنی کفر کا کوئی پہلو اس میں پایا جاتا ہو)۔”

(حیاۃ الحیوان، جلد2، صفحہ425،424، مطبوعہ مکتبہ خلیل)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ: ممبر فقہ کورس

Arqf_2025_215

2 صفر المظفر1447ھ بمطابق 28جولائی2025ء

اپنا تبصرہ بھیجیں