تقلید کی شرعی حیثیت

تقلید کی شرعی حیثیت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ تقلید کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

تقلید کا لغوی معنی گلے میں پٹہ ڈالنا یا پیروی کرنا ہے جبکہ اصطلاحی طور پر اس کا مطلب ہےکہ کسی مجتہد(جس کو قرآن وحدیث اور دیگر علوم پر عبور ہو) کی شرعی مسائل میں بغیر دلیل کے پیروی کرنا۔یعنی عام شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ فلاں مسئلہ میں امام نے یہ شرعی حکم کس قرآن و حدیث کی دلیل پر فرمایا ہے بلکہ ان کی علمی شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حسن ظن رکھے کہ انہوں نے یہ شرعی حکم قرآن وحدیث کی روشنی میں ہی بیان کیا ہے۔غیر مجتہد فرد پر کسی مجتہد کی تقلید کرنا لازم ہے۔تقلید کا ثبوت قرآن و احادیث اور بزرگان دین کے اقوال سے ملتا ہے ۔لہٰذااحکام عقلیہ (عقائد)مثلا توحید و رسالت اور ضروریات دین مثلا نماز و روزہ وغیرہ کی فرضیت اور شراب وغیرہ کی حرمت کے علاوہ وہ احکام شرعیہ جو نظر و استدلال کے بغیر نہیں جانے جا سکتے جیسے عبادات، معاملات، نکاح و طلاق وغیرہ کے فروعی مسائل ان میں چاروں ائمہ(امام اعظم ابوحنیفہ،امام شافعی،امام احمد بن حنبل اور امام مالک) میں سے کسی ایک امام کی تقلید واجب ہے۔

کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم میں ہے

” التقليد اتّباع الإنسان غيره فيما يقول أو يفعل معتقدا للحقية من غير نظر إلى الدليل، كأنّ هذا المتّبع جعل قول الغير أو فعله قلادة في عنقه من غير مطالبة دليل“

ترجمہ:تقلید کہتے ہیں کسی آدمی کا دوسرے کے قول یا فعل کی اتباع کرنا محض حسن عقیدت سے کہ جس میں (مجتہد کی ) دلیل پر غور نہ کرے۔ گویا اس اتباع کرنے والے نے دوسرے کے قول یا فعل کو اپنے گلے کا ہار بنا لیا بغیر دلیل طلب کرنے کے۔ (کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم، صفحہ 500)

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا“

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ و رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ و قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا۔ (59)

اس آیت مبارکہ میں واولی الامر منکم کے تحت مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”خواہ دینی حکومت والے ہوں جیسے عالم دین،مرشد کامل،فقیہ،مجتہد یا دنیاوی حکومت والے جیسے اسلامی سلطان اور اسلامی حکام لیکن دینی حکام کی اطاعت دنیاوی حکام پر بھی واجب ہوگی۔“

مفتی صاحب فرماتے ہیں:

”اس آیت سے مسئلہ تقلید بھی ثابت ہوتا ہے۔“ (تفسیر نورالعرفان پارہ پانچ سورہ نساء صفحہ 137 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ )

ترمذی شریف کی حدیث پا ک میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

’’من نظر فی دینہ إلی من ہو فوقہ فاقتدی بہ‘‘

ترجمہ:جو شخص دین کے معاملے میں اپنے سے بلند مرتبہ شخص کو دیکھے تو اس کی اقتداء کرے۔(جامع ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق ۔۔جلد4،صفحہ665،دار إحیاء التراث العربی ،بیروت)

علامہ ابو العباس شہاب الدین قرافی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

” بل الواجب علی العامی تقلید مجتھد معتبر “

یعنی عام آدمی پر معتبر مجتھد کی تقلید واجب ہے۔( شرح تنقیح الفصول، الباب السادس عشر فی الخبر، الفصل التاسع فی کیفیۃ الروایۃ ، صفحہ 295 ، دارالفکر،بیروت)

علامہ ابن نجیم الاشباہ والنظائر میں فرماتے ہیں

”ان الاجماع انعقد على عدم العمل بمذھب مخالف للأربعۃ“

ترجمہ:اس بات پرامت کا اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ چاروں آئمہ کے مذاہب کے علاوہ کسی فرد کی تقلیددرست نہیں۔

(الاشباہ والنظائر النوع الثانی من القواعد, القاعدۃ الاولی التنبیہ الخامس ،صفحہ 92 ،مطبوعہ رشیدیہ،کوئٹہ)

واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

کتبہ

محمد عرفان مدنی قصوری

30 شعبان المعظم 1446ھ بمطابق یکم مارچ 2025ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں