بطور زکوٰۃ جہیز کا سامان دینا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا کسی کی شادی میں بطور زکوٰۃ اسے جہیز وغیرہ کا سامان دے سکتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جو مرد و عورت زکوٰۃ کے مستحق ہوں توان کو زکوۃ کی نیت سے سامان وغیرہ دے کر اس کا مالک بنانے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی اور دل میں زکوۃ کی نیت کرنا ضروری ہے اگرچہ زبان سے تحفہ کہہ کر دیا جائے۔نیز زکوٰۃ اس سامان کے مارکیٹ ریٹ کے حساب سے ادا ہوگی ،جو کرایہ اور اضافی پیسے دیے ہیں وہ شامل نہیں ہوں گے۔
فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کہ عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلّہ مکّا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک کردینا جائز و کافی ہے ، زکوٰۃ ادا ہوجائے گی،مگر جس قدر چیز محتاج کی ملک میں گئی ،بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجرا ہوگی،بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے۔“( فتاوی رضویہ ،ج 10، ص 69 ، 70 ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
فتاوی اہلسنت(احکام زکوۃ) میں ہے:
’’اگر کسی مستحق زکوۃ کو بنیت زکوۃ کپڑے، کتابیں ، دوائیں یا گھر یلو راشن وغیرہ لے کر دے دیا اور اسے ان اشیاء کا مالک بھی کر دیا تو زکوۃ ادا ہو جائے گی۔”(فتاوی اھلسنت(احکام زکوۃ) ،ص 210 ، مکتبۃ المدینہ )
فتاوی ہندیہ میں ہے
”ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق“
ترجمہ : جس نے کسی مسکین کو ہبہ یا قرض بول کر دراہم دیئے اور نیت زکوۃ کی کرتا ہے تو اس کی زکوۃ ادا ہوجائے گی اور یہی صحیح ہے اسی طرح بحر الرائق میں ہے ۔( الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الزکاۃ ، ج 1 ،ص 171 ، دار الفکر ،بیروت)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
’’ زکوۃ دیتے وقت یا زکوۃ کے لیے مال علیحدہ کرتے وقت نیت زکوۃ شرط ہے۔ نیّت کے یہ معنی ہیں کہ اگر پوچھا جائے تو بلا تامل بتا سکے کہ زکوۃ ہے۔۔۔دیتے وقت نیّت نہیں کی تھی، بعد کو کی تو اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے یعنی اس کی ملک میں ہے تو یہ نیّت کافی ہے ورنہ نہیں۔“(بہار شریعت ، ج 1 ،حصہ 5 ،ص 886 ، مکتبۃ المدینہ )
واللہ ورسولہ اعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
08جمادی الاخری 1446ھ 10 دسمبر 2024ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری