انجانے میں مسافر کا تیمم کرکے نماز پڑھ لینا

انجانے میں مسافر کا تیمم کرکے نماز پڑھ لینا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر مسافر نے تیمم کیا، اور نماز پڑھنے کے بعد اسے یاد آیا کہ وضو کے لیے پانی موجود تھا، تو کیا اس کی نماز ہو گئی یا اعادہ لازم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

صورت مسئولہ میں اس کی نماز ہو جائے گی،اعادہ لازم نہیں ہوگا،کیونکہ یادنہ ہونے کی وجہ سے اس کو پانی پر قدرت ہی نہیں ۔

فتح القدیر میں ہے:

”والمسافر ‌إذا ‌نسي ‌الماء في رحله فتيمم وصلى ثم ذكر الماء لم يعدها عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله“

ترجمہ: اور مسافر اگر اپنے سامان میں پانی بھول گیا اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی، پھر بعد میں پانی یاد آیا تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک اس پر نماز کا اعادہ واجب نہیں ہوگا۔(فتح القدیر،باب التیمم،جلد1،صفحہ 140، دارالفکر، بیروت)

لباب میں ہے:

”والمسافر ‌إذا ‌نسي ‌الماء في رحله فتيمم وصلى ثم ذكر الماء) بعد ذلك (في الوقت) أو بعده، جوهرة (لم يعد صلاته عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله) ؛ لأنه لا قدرة بدون العلم، وهي المراد بالوجود“

ترجمہ:اور مسافر اگر اپنے سامان میں پانی بھول گیا اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی، پھر بعد میں پانی یاد آیا (چاہے وقت کے اندر ہو یا بعد میں) تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک اسے نماز کا اعادہ نہیں کرنا ہوگا، کیونکہ علم کے بغیر قدرت نہیں ہوتی، اور “وجود” سے یہی مراد ہے۔(اللباب ،باب التیمم،جلد1،صفحہ33،المکتبۃ العلمیہ ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

”جو نہ آبادی میں ہو نہ آبادی کے قریب اور اس کے ہمراہ پانی موجود ہے اور یاد نہ رہا اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی ہو گئی۔“(بہارشریعت ،جلد1،حصہ2،صفحہ347،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

والله اعلم بالصواب

کتبہ

ممبر فقہ کورس

21 ذوالقعدہ 1445ھ

بمطابق19 مئی 2025

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں