قضاء نمازیں پڑھتے ہوئے عشاء کے فرض و وتر میں ترتیب کا حکم

قضاء نمازیں پڑھتے ہوئے عشاء کے فرض و وتر میں ترتیب کا حکم

سوال: مفتی صاحب،قضاء نماز عشاء کی پڑھیں تو آخر کی نیت کرتے ہوئے اس میں وتر کو مقدم کر سکتے ہیں فرضوں سے یا نہیں مطلب جو آخری نماز کی نیت کی ہے اس کے پہلے وتر پڑھ لیں پھر فرض پڑھیں اس طرح ہو سکتا ہے یا نہیں؟

(سائل:عقیل مغل)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب 

اگر بندہ صاحب ترتیب نہ ہو تو قضاء نمازوں میں ترتیب واجب نہیں لہذا اس صورت میں عشاء کے فرضوں سے قبل وتر کی قضاء پڑھ سکتے ہیں ، البتہ اگر صاحب ترتیب ہو تو اس صورت میں وتر کو عشاء پر مقدم نہیں کر سکتے، صاحبِ ترتیب سے مُراد جسکی پانچ نمازوں سے زیادہ نمازیں قضاء نہ ہوئی ہوں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے : ويسقط الترتيب عند كثرة الفوائت وهو الصحيح، هكذا في محيط السرخسي وحد الكثرة أن تصير الفوائت ستا بخروج وقت الصلاة السادسة…..وكثرة الفوائت كما تسقط الترتيب في الأداء تسقط في القضاء حتى لو ترك صلاة شهر ثم قضى ثلاثين فجرا ثم ثلاثين ظهرا ثم هكذا صح، هكذا في محيط السرخسي.

[الفتاوى الهندية، کتاب الصلاۃ ، الباب الحادی عشر فی قضاء الفوائت، 1/123]

بہار شریعت میں ہے : پانچوں فرضوں میں باہم اور فرض و وتر میں ترتیب ضروری ہے کہ پہلے فجر پھر ظہر پھر عصر پھر مغرب پھر

عشا پھر وتر پڑھے، خواہ یہ سب قضا ہوں یا بعض ادا بعض قضا……چھ نمازیں جس کی قضا ہو گئیں کہ چھٹی کا وقت ختم ہوگیا اس پر ترتیب فرض نہیں۔

(بہار شریعت، قضاء نماز کا بیان، جلد1 ، حصہ 4 ، مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کـتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

ابو الحسن محمد حق نواز مدنی

04 ربیع الثانی 1448ھ / 17ستمبر 2026ء

اپنا تبصرہ بھیجیں