بیع فاسد کے ساتھ زمین خریدی اور اسے وقف کردیا تو کیا وقف درست ہوگا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے  میں کہ اگر بیع فاسد کے ساتھ زمین خریدی اور اسے وقف کردیا تو وقف درست ہوگا؟

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

بیع فاسد کے ساتھ کوئی چیز خریدنا ناجائز اور گناہ ہے اور بائع و مشتری پر لازم ہے کہ توبہ کریں اور اس بیع کو ختم کردیں اگرچہ مشتری نے چیز پر قبضہ بھی کرلیا ہو، اور وہ چیز بائع کو لوٹانا مشتری پر لازم ہے،چیز پر قبضہ کرنے سے مشتری مالک ہوجاتا ہے مگر یہ ملک خبیث ہوتی ہے،ملک خبیث کی وجہ سے بعض تصرفات نافذ ہوجاتے ہیں اور بیع فسخ کرنے کا اختیار باقی نہیں رہتا، اب اگر مشتری نے زمین بیع فاسد کے ساتھ خریدی اور اسے وقف کردیا تو کیا یہ وقف صحیح ہوگا یا نہیں اور کیا فسخ کا اختیار باقی رہے گا یا نہیں اس میں فقہاء کا اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ اگر مشتری نے  قبضہ کے بعد وقف کیا تو وقف صحیح ہوجائے گا اور مشتری پر قیمت دینا لازم ہوگا، جبکہ دوسرا قول جو کہ راجح اور زیادہ صحیح قول ہے وہ یہ ہے کہ وقف درست نہیں ہوگا اور مشتری پر لازم ہے کہ وہ مبیع بائع کو لوٹا دے لیکن واقف نے اگر اس میں کوئی تعمیراتی کام کروا کر اس میں زیادتی کردی تو اب فسخ کا حق ختم ہوجائے گا،یہی ظاہر الروایہ بھی ہے۔

فتاوی قاضی خان میں ہے:”ولو باع ارضا بیعا فاسدا فجعلھا المشتری مسجدا لا یبطل حق الفسخ ما لم یبن فی ظاہر الروایۃ،فان بناہ بطل فی قول ابی حنیفہ رحمہ اللہ”ترجمہ:اور اگر کسی نے بیع فاسد کے ساتھ زمین خریدی پھر مشتری نے اسے مسجد (کے لئے وقف) کردیا تو فسخ کا حق باطل نہیں ہوگا جب تک اس میں تعمیرات نہ کروائے ظاہر الروایہ کے مطابق، پھر اگر اس میں تعمیرات کردی تو امام اعظم کے قول پر حق فسخ باطل ہوجائے گا۔

(فتاوی قاضی خان،جلد 2، کتاب البیع،صفحہ 53،دار الکتب المعرفہ)

محیط میں ہے:”وذكر في كتاب الشفعة إذا اشترى أرضاً شراءً فاسداً واتخذها مسجداً وبنى فيها بناء أنه يضمن قيمتها عند أبي حنيفة ويصير مستهلكاً بالبناء، وعندهما: ينقض البناء وترد الأرض على البائع، فاشتراط البناء على رواية كتاب الشفعة دليل على أنه إذا لم يبنَ لا يصير مسجداً بمجرد اتخاذه مسجداً بلا خلاف بدون البناء.

قال الحاكم الشهيد: رواية محمد في كتاب الشفعة أصح من رواية هلال”ترجمہ:امام محمد نے کتاب الشفعہ میں فرمایا:”جب کسی نے زمین کو بیع فاسد کے ساتھ خریدا اور اس کو مسجد(کے لئے وقف) کیا اور اس میں کچھ تعمیرات کروا دی تو واقف اس کی قیمت کا ضامن ہوگا امام اعظم کے نزدیک اور واقف تعمیرات کے سبب اس جگہ کو ہلاک کرنے والا ہوجائے گا،اور صاحبین کے نزدیک تعمیرات کو ختم کرکے زمین بائع کو لوٹائی جائے گی،تو کتاب الشفعہ کے مطابق بناء کی شرط اس بات پر اتفاق کی دلیل ہے کہ جب تک تعمیرات نہ ہوں بیع فاسد کے ساتھ صرف مسجد کے لئے وقف کردینے سے  وقف نہ ہوگی۔امام حاکم نے فرمایا کہ امام محمد کی کتاب الشفعہ والی روایت ہلال کی روایت کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے۔

(المحيط البرهاني في الفقه النعماني،جلد 6،کتاب الوقف،الفصل السادس و العشرون فی المتفرقات،صفحہ 229،دار الکتب العلمیہ)

فتاوی رضویہ میں ہے:”عقد فاسد سے جوجائداد خریدی جائے مشتری اگرچہ بعد قبضہ اس کا مالک ہوجاتا ہے مگر وہ ملک خبیث ہوتی ہے اس کا ازالہ واجب ہوتا ہے، علماء کو اختلاف ہے کہ اسی حالت پر اگر مشتری اسے وقف کردے تو وقف صحیح و لازم ہوجائے گا صرف واقف کے ذمہ اس عقد فاسد کو فسخ نہ کرنے کا گناہ رہے گا جو بے توبہ نہ جائے گا یا وقف ہی مسلم نہ ہوگا بلکہ توڑ دیا جائے گا اور وہ شیئ بائع یا اس کے ورثہ دی جائے گی جب تک واقف نے اس میں تعمیر وغیرہ زیادت سے حق فسخ کو زائل نہ کردیا ہو۔درمختار و ردالمحتار و منح الغفار وغیرہ میں قول اول اختیار کیا اور اصح اور ظاہر الروایۃ قول ثانی ہے۔

(فتاوی رضویہ،جلد 16،کتاب الوقف،صفحہ،114،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

جد اللمتار میں ہے:”ان المشتری شراء فاسدا اذا جعلھا مسجدا ولم یبن فیہ لم یصر مسجدا بلا خلاف،و اذا بنی وجعلھا صار مسجدا عند الامام خلافا لھما فالذی وقع فی رد المحتار مشی علی روایہ ھلال وقد علمت انہ خلاف الاصح کذا قال الامام الحاکم و خلاف ظاہر الروایۃ کما افاد الامام قاضی خان”ترجمہ:بیع فاسد کے ساتھ خریدی ہوئی چیز کو جب مسجد کے لئے وقف کیا تو جب تک تعمیرات نہ ہوں بالاتفاق وہ مسجد نہیں ہوگی، اور جب اس میں تعمیرات کردی اور مسجد کے لئے وقف کردیا تو امام اعظم کے نزدیک مسجد ہوجائے گی برخلاف صاحبین کے،اور جس قول کو رد المحتار میں لیا گیا وہ ہلال کی روایت ہے اور تحقیق تم جان چکے ہو کہ ہلال کی روایت اصح نہیں جیسا کہ امام حاکم شہید نے فرمایا، اور یہ ظاہر الروایہ کے بھی خلاف ہے جیسا کہ امام قاضی خان نے فرمایا۔

(جد اللمتار،جلد 5،کتاب الوقف،صفحہ 454،مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 3 اکتوبر 2021 بمطابق 25 صفر 1443ھ بروز اتوار

اپنا تبصرہ بھیجیں