میقات سے بغیر احرام کے گزرنے کا کیا کفارہ ہے

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ مکہ جاتے ہوئے میقات سے بغیر احرام کے گزر گئے تھے اس کا کیا کفارہ ہے ؟

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

مکہ معظمہ جانے والے کو بغیر احرام کے میقات سے گزرنا جائز نہیں، اگر گزر گئے تو اگرچہ نہ حج کا ارادہ ہو، نہ عمرے کا مگر حج یا عمرہ واجب ہو گیا اور میقات کو واپس نہ گیا بلکہ جہاں تھا وہیں احرام باندہ لیا تو دم ( یعنی ایک بھیڑ یا بکری ذبح کرنا ) واجب ہو جائے گا۔ ہاں اگر واپس آ کر میقات سے باہر احرام باندھا تو دم ساقط ہو جائے گا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ” إذا دخل الآفاقي مكة بغير إحرام وهو لا يريد الحج والعمرة ۔۔۔۔۔ فعليه دم لترك حق الميقات وإن عاد إلى الميقات وأحرم ۔۔۔۔ خرج عن العهدة “.

ترجمہ: جب آفاقی ( حدودِ میقات سے باہر رہنے والا شخص ) مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہو اور حج و عمرہ کا ارادہ نہ بھی ہو تو اس پر میقات کا حق ترک کرنے کی وجہ سے دم لازم ہو گا اور اگر میقات کی طرف لوٹ آیا اور احرام باندھ لیا تو دم ساقط ہو جائے گا۔

( الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب العاشر في مجاوزۃ المیقات بغیر احرام، جلد 01، صفحہ 253، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ” میقات کے باہر سے جو شخص آیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ کو گیا تو اگرچہ نہ حج کا ارادہ ہو، نہ عمرہ کا مگر حج یا عمرہ واجب ہو گیا پھر اگر میقات کو واپس نہ گیا، یہیں احرام باندھ لیا تو دَم واجب ہے اور میقات کو واپس جاکر احرام باندھ کر آیا تو دَم ساقط۔۔۔۔ الخ “۔

( بہارِ شریعت، جلد 01، حصہ 06، صفحہ 1191، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ).

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

       کتبہ            

 سگِ عطار ابو احمد محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 27 ربیع الاول 1443ھ بمطابق 03 نومبر 2021ء بروز بدھ )۔