اں باپ کے پریشر میں آ کر بغیر نیت کے طلاق

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص نے  ماں باپ کے پریشر میں آ کر بغیر نیت کے طلاق دی ہے کیا طلاق ہوجائے گی؟جبکہ طلاق کی تحریر مرسوم ہے

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سوال میں مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ جیسے زبان کے الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے اسی طرح لکھ کر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور وہ مجبوری جس میں زبردستی طلاق واقع نہیں وہ تب ہوتی ہے کہ جب جان سے جانے یا کسی عضو کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو محض والدین کے پریشر میں آنا ایسی شرعی مجبوری نہیں ہے جس سے طلاق واقع نہ ہو.

“فتاوی عالمگیری” میں ہے:الْكِتَابَةُ عَلَى نَوْعَيْنِ مَرْسُومَةٌ وَغَيْرُ مَرْسُومَةٍ ……وَإِنْ كَانَتْ مَرْسُومَةً يَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَى أَوْ لَمْ يَنْوِ

تحریر دو طرح کی ہوتی ہے مرسوم(وہ خاص تحریر جس کا کوئی خاص عنوان ہو) اور غیر مرسوم(وہ تحریر جس کا خاص عنوان و موضوع نہ ہو بلکہ عام سی تحریر ہو)………..اگر تحریر مرسوم ہو تو اس سے طلاق واقع ہو جائے گی چاہے طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو.

(فتاوی عالمگیری ج1 کتاب الطلاق الباب الثانی فی ایقاع الطلاق الفصل السادس الطلاق بالکتابۃ ص 378 مطبوعہ دار الفکر بیروت)

تنويرالابصار میں ہے:”یقع طلاق کل زو ج عاقل بالغ ولو عبدا او مکرھا او ھازلا او سفیھا او سکران”

يعنی ہر عاقل و بالغ شوہر کی طلاق واقع ہوتی ہے اگرچہ غلام ہو یا زبردستی کیا گیا ہو یامذاق کے طور پر دی ہو یا بےوقوفی کی وجہ سے دی ہو یا نشہ میں دی ہو۔      

(تنویرالابصارمع درمختار،وکتاب الطلاق،جلد5،صفحہ٬ 514مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ).

سیدی اعلیٰحضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن فرماتے ہیں:”طلاق بخوشی دی جائےخواہ بجبر واقع ہو جائے گی۔ نکاح شیشہ ہے اور طلاق سنگ  شیشہ پر پتّھر خوشی سے پھینکے یاجبر سے یاخود ہاتھ سے چھوٹ پڑے شیشہ ہر طرح ٹوٹ جائے گا۔ مگر یہ زبان سےالفاظِ طلاق کہنے میں ہے، اگر کسی کے جبر و اکراہ سے عورت کوخطرہ میں طلاق لکھی یاطلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سےالفاظِ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی۔

تنویرالابصار میں ہے:یقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولومکرھا اومخطأ وفی ردالمحتار عن البحر ان المراد الا کراہ

علی تلفظ بالطلاق فلو اکرہ علی ان کتب طلاق امرأتہ فتکتب لاتطلق لان الکتابہ اقیمت مقام العبارۃباعتبارالحاجۃ ولاحاجۃ ھنا۔

ہر عاقل بالغ خاوند کی طلاق نافذ ہو جائے گی اگرچہ مجبور کیا گیا یاخطاء سے طلاق کا کہہ دیا ہو ، اورردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ جبر سے مراد لفظ طلاق کہنے پر جبر کیا گیا ہو ،اور اگر اس کو اپنی بیوی کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا تو اسنے مجبور ہو کر لکھ دی تو طلاق نہ ہو گی، کیونکہ کتابت کو تلفّظ کےقائم مقام محض حاجت کی بناء پر کیا گیا ہے اور یہاں خاوند کو حاجت نہیں ہے۔مگر  یہ سب اس صورت میں جبکہ اکراہ شرعی ہو کہ اُسےضرر رسانی کا اندیشہ ہو اور وہ ایذاء پر قادر ہو  صرف اس قدر کہ اس نے اپنے سخت اصرار سے مجبور کردیا اور اس کے لحاظ پاس سے اسے لکھتے بنی٬ اکراہ کے لئے کافی نہیں ُیوں لکھے گا تو طلاق ہو جائے گی کما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں).

(فتاویٰ رضویہ جلد12 باب الکنایۃ صفحہ387 رضافاؤنڈیشن، لاہور).

بہار شریعت میں مفتی امجد علی اعظمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”کسی نے شوہر کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا اس نے لکھ دیا مگر نہ دل میں ارادہ ہے ،نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو طلاق نہ ہو گی.مجبوری سے مراد شرعی مجبوری ہے محض کسی کے اصرار کرنے پر لکھ دینا٬ یا بڑا ہے اس کی بات کیسےٹالی جائے یہ مجبوری نہیں۔           

(بہارشریعت،جلد2 حصہ08 صفحہ116 مکتبۃالمدینہ).

“فتاوی فیض الرسول” میں فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمۃ اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:اگر اکراہ شرعی پایا گیا مثلا‍ ہندہ کے والد نے قتل کرنے یا ہاتھ پیر توڑ دینے کی دھمکی دی اور زید نے جانا کہ اگر میں طلاق نہیں دیتا ہوں تو یہ جیسا کہتا ہے کر ڈالے گا.تو اس صورت میں اگر زید نے طلاق نامہ لکھ دیا مگر نہ دل میں طلاق کی نیت تھی اور نہ زبان سے کہا تو طلاق واقع نہ ہوئی.اور اگر اکراہ شرعی نہیں پایا گیا اور طلاق لکھ دی یا زبان سے طلاق دی ہے تو ان صورتوں میں میں واقع ہو گئ تنویر الابصار میں ہے یقع الطلاق کل زوج بالغ عاقل ولو مکرھا.

(فتاوی فیض الرسول ج 2  کتاب الطلاق مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)

“بہار شریعت” میں شرعی مجبوری کی تعریف کرتے ہوئے مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں :اکراہ تام یہ ہے کہ مار ڈالنے یاعضو کاٹنے یاضربشدید کی دھمکی دی جائے ضرب شدیدکا مطلب یہ ہے کہ جس سے جان یا عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو مثلاً کسی سے کہتا ہے کہ یہکام کر ورنہ تجھے مارتے مارتےبیکارکر دوں گا۔”

(بہارشریعت جلد3 حصہ15 صفحہ191 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی).

واللہ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب

مجیب:ابو معاویہ زاہد بشیر عطاری مدنی

نظرثانی: ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری المدنی زید مجدہ

( 25 ربیع الاول 1443ھ بمطابق 1نومبر2021ء بروز پیر شریف)