لکھ کر طلاق دی جائے تو کیا ہوجاتی ہے یا زبان سے طلاق دینا ضروری ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ لکھ کر طلاق دی جائے تو کیا ہوجاتی ہے یا زبان سے طلاق دینا ضروری ہے؟

    الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

   شرعی طور پر جس طرح زبانی طلاق ہوجاتی ہے اسی طرح تحریرسے بھی طلاق ہوجاتی ہے۔اگرچہ لکھنے کی صورت میں یہ ضروری ہے کہ  کسی ایسی چیز پر طلاق کے الفاظ لکھے جائیں کہ جن الفاظ کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن ہو جیسے کاغذ یا دیوار پر لکھا ہاں اگر کسی ایسی چیز پر لکھا کہ الفاظ سمجھنے اور پڑھنے میں نہ آئیں جیسے ہوا اور پانی وغیرہ پر لکھا تو اب طلاق نہ ہو گی اگرچے لکھتے وقت طلاق کی نیت ہو۔

علامہ کاسانی علیہ الرحمہ ارشادفرماتے ہیں:’’وکان التبلیغ بالکتاب والرسول کالتبلیغ بالخطاب فدل أن الکتابۃ المرسومۃ بمنزلۃ الخطاب فصار کأنہ خاطبہا بہا بالطلاق عند الحضرۃ فقال لہا:’’أنت طالق‘‘ أو أرسل إلیہا رسولا بالطلاق عند الغیبۃ فإذا قال:ما أردت بہ الطلاق فقد أراد صرف الکلام عن ظاہرہ فلا یصدق۔‘‘ترجمہ:عورت کے پاس طلاق کی تحریرلکھ کر پہنچانایاقاصدکے ذریعہ طلاق پہنچاناوقوع طلاق میں وہی حکم رکھتاہے جو زبان سے دینے کاحکم ہے ۔کیونکہ لکھ کر طلاق دینازبان سے طلاق دینے کے قائم مقام ہے ۔لکھ کرطلاق دینے کی حیثیت بالکل ایسی ہی ہے جس طرح عورت کی موجودگی میں زبان سے دینے کی ہے ۔لہٰذا اگر مردنے اپنی بیوی کوکہا:’’تجھے طلاق ہے‘‘ یابیوی کی عدم موجودگی میں اس کی طرف طلاق کاقاصد بھیجاتو یہ وقوع طلاق میں ایک ہی حکم رکھتے ہیں۔اگر وہ یہ کہے کہ میں نے اس سے طلاق کاارادہ نہیں کیاتو اس کی بات ناقابل قبول ہے کہ وہ کلام کواس کے ظاہر سے پھیر رہاہے۔

(بدائع الصنائع ،کتا ب الطلاق،فصل فی الکنایۃ فی الطلاق،جلد03،صفحہ174،کوئٹہ)          

الاشباہ والنظائر میں ہے۔’’ الکتاب کالخطاب‘‘تحریر بھی خطاب ہوتی ہے۔                           

 (الاشباہ والنظائر جلد2،صفحہ196، کراچی)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔’’طلاق جس طرح زبان سے ہوتی ہے اسی طرح قلم سے‘‘

                (فتاوی رضویہ شریف، جلد13،صفحہ618،رضا فائونڈیشن،مرکزالاؤلیائ،لاہور)

“درمختار” میں ہے “كُتِبَ الطَّلَاقُ، وَإِنْ مُسْتَبِينًا عَلَى نَحْوِ لَوْحٍ وَقَعَ إنْ نَوَى۔۔۔وَلَوْ عَلَى نَحْوِ الْمَاءِ فَلَا مُطْلَقًا.

ترجمہ:طلاق کو لکھا گیا اگر تختی وغیرہ پر واضح طور پر لکھا تو اگر طلاق کی نیت کی طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر پانی وغیرہ پر لکھا تو اب مطلقاً طلاق واقع نہ ہوگی (طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو)اس کے تحت علامہ شامی فرماتے ہیں “فَالْمُسْتَبِينَةُ مَا يُكْتَبُ عَلَى الصَّحِيفَةِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَى وَجْهٍ يُمْكِنُ فَهْمُهُ وَقِرَاءَتُهُ. وَغَيْرُ الْمُسْتَبِينَةِ مَا يُكْتَبُ عَلَى الْهَوَاءِ وَالْمَاءِ وَشَيْءٌ لَا يُمْكِنُهُ فَهْمُهُ وَقِرَاءَتُهُ. فَفِي غَيْرِ الْمُسْتَبِينَةِ لَا يَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَى

ترجمہ :پس مستبینہ وہ لکھائی ہے جس کو کاغذ اور دیوار اور زمین پر اس طرح لکھا جائے کہ اسکو سمجھنا اور پڑھنا ممکن ہو اور غیر مستبینہ وہ لکھائی ہے کہ جس کو ہوا اور پانی یا کسی ایسی چیز پر لکھا جائے کہ اسکو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو تو غیر مستبینہ کی صورت میں طلاق واقع نہ ہو گی اگرچہ طلاق کی نیت ہو.

    (ردالمحتار علی الدرمختار ،کتاب الطلاق،جلد4،        صفحہ442،مطبوعہ کوئٹہ)

“بہار شریعت میں ہے” زبان سے الفاظ طلاق نہ کہے مگر کسی ایسی چیز پر لکھے کہ حروف  ممتاز نہ ہوتے ہوں مثلاًپانی یا ہوا پر توطلاق نہ ہوگی اور اگر ایسی چیز پر لکھے کہ حروف  ممتاز ہوتے ہوں مثلاً کاغذ یا تختہ وغیرہ پر اور طلاق کی  نیت سے لکھے تو ہو جائے گی.

(بہار شریعت، جلد2، حصہ8، صفحہ 113،114 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

    واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ و سلم

کتبہ. محمد انس رضا عطاری المدنی

نظر ثانی. ابواحمد مفتی محمد انس رضا قادری حفظہ اللہ