عورت کا بلاوجہ شرعی شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟

علمائے دین کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ ارشاد فرمائیں کہ عورت کا بلاوجہ شرعی شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟

الجواب بعون الملک الوہاب ھدایۃ الحق والصواب

بلاوجہ شرعی عورت کا شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا ناجائز ہے اور احادیث میں ایسی عورتوں  کی مذمت بیان کی گئی ہے. ہاں اگر واقعی شوہر بیوی پر ظلم کرتا ہے اور اب ان دونوں کا اکٹھا رہنا دشوار ہوگیا ہے تو شریعت عورت کو اجازت دیتی ہے کہ شوہر سے خلع لے لے.

“ابن ماجہ” کی حدیث پاک ہے:عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ

حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عورت اپنے خاوند سے بلا ضرورت طلاق مانگے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے

(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ کتاب الطلاق باب كراهية الخلع للمرأة  ج1 ص 662 مطبوعہ داراحیاء الکتب العربیہ)

اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان ایک اسی طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:”طلاق کسی کا حق نہیں،حق ہے وہ جس کا مطالبہ پہنچے،اور طلاق کا مطالبہ عورت کو نہیں پہنچتا،بلکہ بےوجہ شرعی مطالبہ کرے تو گنہگار ہو.اور ﷲ عزوجل بھی طلاق طلب نہیں فرماتا بلکہ اسے ناپسند و مبغوض رکھتا ہے،تو نہ وُہ حق ﷲہے نہ حق العبد،ہاں جب مرد عورت کو وجہ شرعی پر نہ رکھ سکے مثلًا نامرد ہوتو اس وقت شرعًا اس پر طلاق دینی لازم ہوجاتی ہے۔قالﷲتعالٰی:فَاَمْسِکُوۡہُنَّ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ سَرِّحُوۡہُنَّ بِمَعْرُوۡفٍ۪

ان کو بھلائی کرتے ہوئے روک لو،یاان کو بھلائی کے ساتھ رخصت کردو۔

ایسی حالت میں ضرور وُہ حق العبد وحقﷲ دونوں ہوجائے گی،حق العبد تو یُوں کہ عورت کی خلاصی اسی سے متصور،اور حق ﷲ یُوں کہ ہر حق العبد حق ﷲ بھی ہے جس کے ادا کا وُہ حکم فرماتا ہے۔

(فتاوی رضویہ ج 12 باب الکنایہ ص 325 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صدرالشریعہ، مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃاللہ علیہ ایک استفتاء کے جواب میں فرماتے ہیں:”عورت کاطلاق طلب کرنااگربغیرضرورت شرعیہ ہوتوحرام ہے۔۔جب شوہرحقوق زوجیت تمام وکمال اداکرتاہے توجولوگ طلاق پرمجبورکرتے ہیں،وہ گنہ گار ہیں.

(فتاوی امجدیہ،کتاب الطلاق ،جلد2،صفحہ164،مکتبہ رضویہ،کراچی)

 استاذ العلماء مفتی محمد قاسم قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:”اگر زوج و زوجہ میں نا اتفاقی رہتی ہے اور یہ اندیشہ ہو کہ احکام شرعیہ کی پابندی نہ کرسکیں گے ۔ توعورت شوہر کے ساتھ خلع کرکے طلاق لے سکتی ہے لیکن شوہر کی طرف سے کسی قسم کی اذیت کے بغیر عورت کا اس سے طلاق کا مطالبہ حرام ہے ۔۔آجکل عورتیں اعلیٰ قسم کا کھانا نہ ملنے پر ، میک اَپ کا سامان نہ ملنے پر ، رشتے داروں کے ہاں جانے کی اجازت نہ ملنے پر ، مشترکہ گھر میں جدا کمرہ ملنے کے باوجود علیحدہ گھر کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر اور اسی قسم کی دیگر معمولی معمولی باتوں پر طلاق کامطالبہ کرتی ہیں یہ ناجائز و گناہ ہے اور ایسی عورتیں مذکورہ بالا وعید کی مستحق ہیں ۔اور ایسے ہی وہ ماں باپ اور بہن بھائی اور دیگر رشتے دار جو عورت کو مذکورہ وجوہات کی بنا پر طلاق لینے پر ابھارتے ہیں اور شوہر کو دھمکاتے اور اس سے طلاق کا مطالبہ کرتے ہیں اور عورت کو جبرا گھر (میکے )میں بٹھالیتے ہیں وہ سب بھی اس گناہ او روعید میں شریک ہیں.“                        

(طلاق کے آسان مسائل ،صفحہ10،مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب

مجیب :عبدہ المذنب ابو معاویہ زاہد بشیر عطاری مدنی

نظرثانی:ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری المدنی زیدمجدہ

بروز پیر شریف 29/05/2021