میسج پر طلاق

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے  میں کہ میسج میں اگر بیوی سے کہا کہ میں مسمی فلاں بن فلاں اپنی زوجہ فلاں بنت فلاں کو طلاق دیتا ہوں تو کیا یہ طلاق ہوجائے گی؟

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

طلاق دینے کے مختلف طریقوں میں سے ایک طریقہ لکھ کر طلاق دینا بھی ہے،لکھنے کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:1- ایسی چیز پر لکھا کہ حروف واضح نہ ہوں اسے غیر مستبین کہتے ہیں 2- ایسی چیز پر لکھا کہ حروف واضح ہوتے ہوں اسے مستبین کہتے ہیں، پھر اگر ایسی چیز پر لکھا جہاں حروف واضح ہوتے ہوں تو اس کی دو صورتیں ہیں:1- باقاعدہ خط لکھنے کے انداز پر لکھا یعنی نام اور عنوان(طلاق) سے شروع کیا اسے مرسومہ کہتے ہیں،2- بغیر نام و عنوان(طلاق کے الفاظ کے) لکھا اسے غیر مرسومہ کہتے ہیں۔

حکم:

1- اگر طلاق کے الفاظ غیر مستبین ہوں تو لکھتے ہوئے چاہے نیت ہو یا نہ ہو کسی صورت طلاق واقع نہیں ہوگی۔

2- اگر طلاق کے الفاظ مستبین ہوں تو اگر تحریر مرسومہ ہے تو نیت ہو یا نہ ہو طلاق واقع ہوجائے گی۔

3- اگر طلاق کے الفاظ مستبین ہوں اور تحریر غیر مرسومہ ہو تو اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے لکھا تو طلاق واقع ہوگی اور اگر نیت نہ ہو تو طلاق نہیں ہوگی۔

موبائل کا میسج تحریری خط کے حکم میں ہے اور معلوم کی گئی صورت طلاق مستبین مرسومہ کی ہے لہذا شوہر نے نیت کی ہو یا نہ کی ہو ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی اور چونکہ یہاں طلاق کو کسی شرط سے معلق نہیں کیا گیا لہذا میسج لکھتے وقت ہی طلاق واقع ہوجائے گی اور عدت بھی اسی وقت سے شمار ہوگی۔

فتاوی ھندیہ میں ہے:”الکتابۃ علی نوعین مرسومۃ و غیر مرسومہ و نعنی بالمرسومہ ان یکون مصدرا و معنونا مثل ما یکتب الی الغائب و غیر المرسومۃ ان لا یکون مصدرا و معنونا و ھو علی وجھین مستبینہ و غیر مستبینہ فالمستبینہ ما یکتب علی الصحیفۃ و الحائط و الارض علی وجہ یمکن فہمہ و قراءتہ و غیر المستبینہ ما یکتب علی الھواء والماء وشئی لا یمکن فھمہ و قراءتہ  ففی غیر المستبینۃ لا یقع الطلاق وان نوی و ان کانت المستبینہ لکنھا غیر مرسومہ ان نوی الطلاق یقع و الا فلا و ان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی او لم ینو ثم المرسومہ لا تخلو اما ان ارسل الطلاق بان کتب اما بعد فانت طالق فکما کتب ھذا یقع الطلاق و تلزمھا العدۃ من وقت الکتابۃ”ترجمہ: تحریری طلاق کی دو قسمیں ہیں مرسومہ اور غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ نام وغیرہ سے ابتدا کرے اور عنوان ڈالے جیسے کسی دور گئے ہوئے شخص کو خط لکھا جاتا ہے اور غیر مرسومہ وہ جس میں نام اور عنوان نہ ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں مستبینا اور غیر مستبینا،مستبینہ وہ جو کاغذ،دیوار یا زمین پر اس طرح لکھا جائے کہ اس کو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو اور غیر مستبینہ وہ جو ہوا پانی یا ایسی چیز پر لکھا جائے جس کا سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو تو غیر مستبینہ میں طلاق واقع نہیں ہوتی اگرچہ طلاق کی نیت ہو،اور اگر مستبینہ غیر مرسومہ ہو تو اگر طلاق کی نیت ہوگی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں، اور اگر مرسومہ ہو تو طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو طلاق واقع ہوجائے گی پھر مرسومہ کی یہ صورت ہوگی کہ شوہر (شرط سے مقید کیے بغیر) یوں لکھ کر بھیجے کہ تجھے طلاق ہے تو جس وقت تحریر لکھی اسی وقت طلاق واقع ہوجائے گی اور اسی وقت سے عدت لازم ہوجائے گی۔

(فتاوی عالمگیری،جلد1،کتاب الطلاق،باب فی ایقاع الطلاق،صفحہ 414،دار الکتب العلمیہ)

بہار شریعت میں ہے:”زبان سے الفاظ طلاق نہ کہے مگر کسی ایسی چیز پر لکھے کہ حروف  ممتاز نہ ہوتے ہوں مثلاً پانی یا ہوا پر تو طلاق نہ ہوگی اور اگر ایسی چیز پر لکھے کہ حروف ممتاز ہوتے ہوں مثلاً کاغذ یا تختہ وغیرہ پر اور طلاق کی نیت سے لکھے تو ہو جائے گی اور اگر لکھ کر بھیجا یعنی اس طرح لکھا جس طرح خطوط لکھے جاتے ہیں کہ معمولی القاب و آداب کے بعد اپنا مطلب لکھتے ہیں جب بھی ہوگئی بلکہ اگر نہ بھی بھیجے جب بھی اس صورت میں ہو جائے گی۔اور یہ طلاق لکھتے وقت پڑے گی اور اُسی وقت سے عدت شمار ہوگی۔

(بہار شریعت،جلد 2،طلاق کا بیان،مسائل طلاق بذریعہ تحریر،صفحہ 114،مکتبہ المدینہ)

فیصلہ جات شرعی کونسل میں ہے:”ایس ایم ایس SMS کی تحریریں کتاب و خط کے حکم میں ہیں۔

(ساتواں سیمینار،2010،انٹرنیٹ و ٹیلیفون وغیرہ سے بیع و شراء کا حکم)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 10 ستمبر 2021 بمطابق 2 صفر 1443ھ بروز جمعہ )