کام کیے بغیر کمیشن لینا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے  میں کہ آج کل ایک خریدار کو دوسری دوکان پر بھیجنے پر کمیشن لیا جاتا ہے وہ درست ہے یا نہیں یعنی ایک بندہ اپنی دوکان پر بیٹھے بیٹھے ایک گاہک کو دوسری دوکان کی طرف بھیجتا ہے اور پھر اس دوکان والے سے بعد میں گاہک بھیجنے پر کمیشن لیتا ہے یہ درست ہے یا نہیں؟؟

الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

دوکاندار کا اپنی دکان پر بیٹھے بیٹھے خریدار کو فقط دوسری جگہ بھیجنے پر کمیشن لینا جائز نہیں کیونکہ کمیشن محنت کرنے کی اجرت ہوتی ہے،اس کے جائز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ایسا کوئی کام کیا جائے جس کے بدلے میں اجرت دی جائے،اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے بغیر کسی محنت کے خریدار کو بھیج دینا ایسا کوئی کام نہیں جس کی اجرت دی جائے،البتہ دوکاندار خریدار کو لے کر دوسری دکان پر جائے اور اسے اچھی چیز دلائے اور دوسرے دوکاندار سے کمیشن بھی پہلے سے طے ہو تو اب اس محنت کا معاوضہ لینا جائز ہے۔لیکن جو کمیشن طے ہوا ہے دوکاندار اس کا مستحق نہیں بلکہ اجرت مثل کا مستحق ہوگا یعنی اس کام کی جتنی اجرت کا عرف ہو وہ لے گا،ہاں اگر طے شدہ کمیشن اجرت مثل سے کم ہو تو پھر طے شدہ کمیشن ہی دیا جائے گا۔

رد المحتار میں ہے:”الدلالة و الاشارۃ لیست بعمل یستحق به الاجر، وان قال علی سبیل الخصوص بان قال لرجل بعینه ان دللتنی علی کذا فلک کذا، ان مشی لہ فدلہ فلہ اجر المثل للمشی لاجله، لان ذلک عمل یستحق بعقد الاجارۃ الا انہ غیر مقدر بقدر فیجب اجر المثل وان دلہ بغیر مشی فھو و الاول سواء” ترجمہ:صرف بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے جس سے وہ اجرت کا مستحق ہو، اگر کسی نے خاص طور پر کسی شخص کو کہا کہ اگر تو فلاں چیز پر میری رہنمائی کرے تو اتنی اجرت دوں گا، اگر وہ شخص چل کر رہنمائی کرے تو وہ اجرت مثل کا مستحق ہوگا اس کے لئے چلنے کی وجہ سے کیونکہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اجرت کا مستحق ہوتا ہے مگر اجرت طے کرنے سے طے نہیں ہوگی تو اجرت مثل واجب ہوگی اور اگر وہ بغیر چلے رہنمائی کرے تو وہ اور پہلا برابر ہیں(یعنی اجرت کا مستحق نہیں)۔

( ردالمحتار،جلد 9،کتاب الاجارۃ، مسائل شتی من الاجارۃ،صفحہ 159،دارالمعرفہ بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے:”اگر کارندہ نے اس بارہ میں جو محنت وکوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی بائع کے لئے کوئی دوادوش  نہ کی، اگر چہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں، مثلاً آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے خرید لینی چاہئے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے، اس نے خرید لی جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اُجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے، دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے مشورہ دینے کی۔”

(فتاوی رضویہ،جلد 19،صفحہ 453،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

مورخہ: 3 اگست 2021 بمطابق 23 ذو الحجہ 1442ھ بروز منگل 

اپنا تبصرہ بھیجیں