ناپاکی میں سفر کی دعا پڑھنا
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عورت حیض و نفاس کے دنوں میں سفر کی دعا پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا(بیان فرما کر اجر پائیے)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورت حیض و نفاس کے دنوں میں دعاء کی نیت سے سفر کی دعا پڑھ سکتی ہے؛ اس لیے کہ حیض و نفاس کی حالت میں عورت کے لیے قرآن پاک کی تلاوت کرنا تو جائز نہیں ہے، لیکن تلاوت قر آن کی نیت نہ ہو، بلکہ حمد وثنا یا دعا کے طور پر پڑھنا چاہے تو وہ آیات کہ جو حمد و ثنا یا دعا پر مشتمل ہوں انہیں اس نیت سے پڑھ سکتی ہے۔
المختار میں ہے:
”(لا يجوز للجنب قراءة القرآن) ۔۔۔۔ (والحائض والنفساء كالجنب)، ملتقطا“
ترجمہ: جنبی شخص کا قرآن کی تلاوت کرنا، جائز نہیں۔ حائضہ اور نفاس والی عورت جنبی کے حکم میں ہے۔(الاختیار لتعلیل المختار ، کتاب الطھارۃ، جلد1، صفحہ13، دار الكتب العلمية، بيروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
”لا تقرأ الحائض والنفساء والجنب شيئا من القرآن والآية وما دونها سواء في التحريم على الأصح“
ترجمہ: حیض و نفاس والی عورت اور جنبی شخص کے لیے قرآن پاک پڑھنا حرام ہے، اصح قول کے مطابق حرمت کے حکم میں آیت اور آیت سے کم دونوں برابر ہیں۔ (فتاوی عالمگیری، جلد1، صفحہ38، دار الفکر، بیروت)
رد المحتار میں ہے:
”لو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به“
ترجمہ: اگر حیض و نفاس والی عورت نے سورۂ فاتحہ دعا کی نیت سے پڑھی یا اس کے علاوہ کوئی ایسی آیت پڑھی جس میں دعا کا معنی موجود ہو اور تلاوت کی نیت نہ کی، تو اس کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ (رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، جلد1، صفحہ535، دار المعرفۃ، بیروت)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
”ولو أنه قرأ الفاتحة علی سبیل الدعاء أو شیئا من الآیات التي فیها معنی الدعاء و لم یرد به القرآن فلابأس به اھ“
ترجمہ: اگر حیض و نفاس والی عورت نے سورۂ فاتحہ دعا کی نیت سے پڑھی یا اس کے علاوہ کوئی ایسی آیت پڑھی جس میں دعا کا معنی موجود ہو اور تلاوت کی نیت نہ کی، تو اس کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الطہارۃ، صفحہ142، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثنا ومناجات ودُعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے آیۃ الکرسی بلکہ متعدد آیات کاملہ جیسے سورہ حشر شریف کی اخیر تین آیتیں”ھو اللّٰہ الذی لا الٰہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ“ سے آخر سورۃ تک، بلکہ پوری سورت جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکر ودعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب وحائض ونُفسا سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتدا میں ”بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم“ کہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ ایک آیت مستقلہ ہے کہ اس سے مقصود تبرک واستفتاح ہوتا ہے، نہ تلاوت، تو”حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل اور انّا اللّٰہ وانّا الیہ راجعون “کہ کسی مہم یا مصیبت پر بہ نیت ذکر ودعا، نہ بہ نیت تلاوت قرآن پڑھے جاتے ہیں، اگرچہ پوری آیت بھی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا جس طرح کسی چیز کے گُمنے پر ”عسٰی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا انّا الی ربنا راغبون“ کہنا۔“(فتاوی رضویہ، جلد1، صفحہ1078، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”اگر قرآن کی آیت دُعا کی نیت سے یا تبرک کے لیے جیسے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یا ادائے شکر کو یا چھینک کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یا خبرِ پریشان پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا یا بہ نیتِ ثنا پوری سورۂ فاتحہ یا آیۃ الکرسی یا سورۂ حشر کی پچھلی تین آیتیں ھُوَاللہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ سے آخر سورۃ تک پڑھیں اور ان سب صورتوں میں قرآن کی نیّت نہ ہو تو کچھ حَرَج نہیں۔ یوہیں تینوں قل بلا لفظ قل بہ نیتِ ثنا پڑھ سکتا ہے اور لفظِ قُل کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا اگرچہ بہ نیّت ثنا ہی ہو کہ اس صورت میں ان کا قرآن ہونا متعین ہے نیّت کو کچھ دخل نہیں۔“(بہار شریعت، حصہ دوم، غسل کا بیان، جلد1، صفحہ326، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم
کتبه
ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی
نظر ثانی:
ابو احمد مفتی انس رضا قادری
️مؤرخہ 13 ربیع الاول 1446ھ بمطابق 18ستمبر 2024ء، بروز بدھ