بیماری کے سبب جسم کا عضو کٹوانا

بیماری کے سبب جسم کا عضو کٹوانا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا انسان اپنے جسم کا مالک نہیں ہے اس لیے کسی کو جسم کا کوئی حصہ گفٹ نہیں کرسکتا تو پھر آپریشن کروانے یا پھر بیماری کی وجہ سے جسم کے کسی حصہ کو کٹوا دینے کا کیا حکم ہے؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

انسان یقینا اپنے اعضا کا مالک نہیں ہے ان میں تصرفات نہیں کرسکتا لیکن بغرض علاج آپریشن کروانے یا کسی عضو کو تلف کرنا جائز ہے کہ بعض اوقات ان بیماریوں کی وجہ سے اگر آپریشن اورعضو تلف نہ کیا جائے تو مرض دوسرے عضو میں سرایت کرکے اسے بھی نقصان پہنچا سکتا ہے اور شریعت کا اصول یہ ہے کہ جب دو خرابیاں متعارض ہوں تو کم خرابی کا ارتکاب کیا جائے اور بڑی خرابی کی رعایت کی جائے۔

مسلم شریف میں ہے:

’’عن جابر قال:بعث رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم إلى أبي بن كعب ‌طبيبا فقطع منه عرقا ثم كواه عليه‘‘

ترجمہ:حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ایک طبیب کو روانہ کیا، چنانچہ اُس طبیب نے آپ کی رگ کو کاٹا اور پھر اُس جگہ کو (گرم چیز سے)داغ دیا۔(صحیح المسلم، جلد 04 ، صفحه 1730،مطبوعه دار احیاء التراث العربی، بیروت)

ابو داؤد شریف میں ہے :

’’ أن النبی صلى اللہ عليه وسلم كوى سعد بن معاذ من رميته‘‘

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر لگنے کے سبب داغا۔(سنن ابو داؤد ، کتاب الطب ، جلد6، صفحہ15، دار الرسالۃ العالمیۃ)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے

’’وأنا أنهی أمتی عن الكی ولعل النهی محمول على التنزيه فإنه مبالغة فی تعاطی الأسباب وهو لا ينافی التوكل والاعتماد بظاهره ۔۔۔وجاء حديث النهی عن الكی بانفراده على ما رواه الترمذی والحاكم عن عمران والطبرانی عن سعد الظفری بضم، نعم إذا كان الكی متعينا فی ذلك الداء خرج عن موضع الكراهة ‘‘

ترجمہ: میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں ، شاید یہ ممانعت تنزیہی پر محمول ہے، کیونکہ یہ اسباب اختیار کرنے میں مبالغہ ہے ،جو بظاہر توکل و اعتماد الہی کے منافی نہیں ۔ داغنے سے منع کرنے کی حدیث علیحدہ سے ترمذی و حاکم نے حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے اور طبرانی نے حضرت سعد ظفری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔ ہاں اگر داغنا اس بیماری میں متعین ہو جائے ،تو یہ مقام کراہت سے خالی ہے ۔(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الطب ، الفصل الاول ، جلد7، صفحہ2862، بیروت)

نزہۃ القاری میں ہے :

’’اس حدیث میں جو فرمایا کہ میں داغنے کو پسند نہیں فرماتا ، یہ اس کی دلیل ہے کہ داغنے سے ممانعت تحریم کے لیے نہیں ، تنزیہہ کے لیے ہے ، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اپنے دست مبارک سے داغا تھا۔(نزھۃ القاری ، جلد5، صفحہ498، فرید بک اسٹال)

مراٰۃ المناجیح میں ہے :

” اس سے معلوم ہوا کہ آپریشن بڑا پرانا علاج ہے۔ زمانہ نبوی میں اس کی اصل موجودتھی۔ چیر پھاڑ، رگ کی کاٹ چھانٹ یہ ہی آپریشن کی حقیقت ہے،چونکہ رگ کٹ جانے سے تمام خون نکل جانے کا اندیشہ تھا، اس لیے زخم کو آگ سے جھلسا دیا گیا، تاکہ خون بند ہو جائے۔“(مراٰۃ المناجیح، جلد06، صفحہ216، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز،لاھور)

فتاویٰ عالَمگیری میں ہے:

’’لا بأس ‌بقطع ‌العضو إن وقعت فيه الآكلة لئلا تسري كذا في السراجيةولا بأس بقطع اليد من الآكلة وشق البطن لما فيه‘‘

ترجمہ:اگر کسی عضو میں آکلہ ظاہر ہو جائے، تو اُس عضو کو کاٹنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، تا کہ وہ مرض دیگر اعضا میں سرایت نہ کرےجیسا کہ ”السراجیۃ“ میں ہے۔ آکلہ کے سبب ہاتھ کاٹنے یا پیٹ میں کسی چیز کے سبب پیٹ چیرنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔(الفتاوى الھندیۃ، جلد05، صفحہ360،مطبوعہ کوئٹہ)

الجوھرۃ النیرۃ“میں ہے:

’’إذا قال لرجل اقطع يدی وذلك ‌لعلاج كما إذا وقعت فيها أكلة فلا بأس به وإن كان من غير علاج لا يحل له قطعها‘‘

ترجمہ:جب ایک شخص نے دوسرے سے کہا: میرے ہاتھ کو کاٹ دو اور یہ کٹوانا علاج کے لیے ہو جیسا کہ ہاتھ میں آکلہ پیدا ہو جائے ،تو اِس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر یہ کٹوانا بغرضِ علاج نہ ہو، تو کٹوانا حلال نہیں، بلکہ حرام ہے۔(الجوھرۃ النیرہ، جلد02، صفحہ337، مطبوعہ ملتان)

قواعد الاحکام فی مصالح الانام میں ہے:

’’الاتلاف وھو اضرب أحدها: ‌إتلاف ‌لإصلاح الأجساد، وحفظ الأرواح، كإتلاف الأطعمة … ويلحق به قطع الأعضاء المتآكلة حفظًا للأرواح، فإن إفساد هذه الأشياء جائز للإصلاح‘‘

ترجمہ:عضو تلف کرنے کا حکم چند انواع پر ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ جسم کی اصلاح اور جان کی حفاظت کے لیے کسی عضو کو تلف کرنا، جیسا کہ کھانوں کو تلف کیا جاتا ہے۔ اِسی حکم میں آکلہ زدہ اعضاء کو کاٹنے کا حکم بھی شامل ہو گا، کہ اُس میں بھی بدن اور جان کی حفاظت مقصود ہوتی ہے۔ بے شک اِن چیزوں میں کسی عضو کو فاسد، معطل اور تلف کرنا، بغرض اِصلاح، جائز ہے۔(قواعد الاحکام فی مصالح الانام، جلد 02، صفحۃ 87، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

احکام الجراحۃ الطبیۃ والآثار المترتبۃ علیھا میں ہے:

’’ يشترط في الضرر أن يغلب على ظن الطبيب وقوعه ، أما إذا لم يغلب على ظنه بأن كان متوهماً مثلاً كما في جراحة استئصال اللوزتين السليمتين من الأطفال خشية التهابها مستقبلاً ، فإن هذا الظن المتوهم لا تأثير له ، ولا يصير به المريض محتاجاً، فهذه الأمراض ، والحالات الجراحية إذا لم يتم علاجها بالجراحة اللازمة ، فإنها تهدد الأعضاء المصابة وغيرها بالخطر فعلى سبيل المثال : مرض الجلوكوما المزمن الذي يصيب العين ، لايحس المريض المصاب به بآلام سوی صداع خفیف ، ولا يزال يسري في العين المصابة إلى أن يؤدي إلى فقد الإبصار بها بالكلية بجواز هذا النوع من الجراحة يعتبر متفقاً مع أصول الشرع وقواعده وذلك لأن الشريعة الإسلامية راعت رفع الحرج، ودفع الضرر عن العباد ، كما دلت على ذلك نصوص الكتاب العزيز ، والسنة النبوية المطهرة‘‘

ترجمہ: مرض کے مضر ہونے میں شرط یہ ہے کہ کسی ماہر طبیب کی رائے پر اُس کا ضرر رساں ہونا غالب ہو۔ اگر غالب اندیشہِ ضرر نہ ہو بلکہ فقط ایک وہمی خدشہ ہو، مثلاً بچوں کے صحیح ٹانسلز کو نکلوانے کے لیے آپریشن کروا دینا تا کہ یہ مستقبل میں پھول نہ جائیں، تو اِس وہم کی آپریشن کے جواز کے لیے کوئی تاثیر نہیں اور نہ ہی مریض اِس آپریشن کا محتاج ہوتا ہے۔ البتہ اِن امراض (Liver Cyst, Glaucoma, Cardiac Tumors) کا اگر لازمی آپریشن نہ کیا جائے، تو یہ اُن مرض زدہ اور دیگر اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں، مثلاً:آنکھ میں موتیا اُتر آنا کہ اِس سے مریض کو معمولی تکلیف کا ہی سامنا ہوتا ہے، لیکن یہ مرض آہستہ آہستہ کلی طور پر بصارت کے زوال کا سبب بن جاتا ہے، لہذا اِس طرح کے آپریشن کے جواز میں شریعت اسلامیہ کے قواعد واصول متفق ہیں، کیونکہ شریعت اسلامیہ رفعِ حرج اور لوگوں سے دفعِ ضرر کی رعایت رکھتی ہے، جیسا کہ اِس پر کتاب اللہ اور سنتِ نبویہ کی بہت سی نصوص دلالت کرتی ہیں۔(احکام الجراحۃ الطبیۃ والآثار المترتبۃ علیھا، صفحہ 142، مطبوعہ مکتبۃ الصحابہ، جدۃ)

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

’’إذا تعارض ‌مفسدتان روعي أعظمهما ضررا بارتكاب أخفهما لأن الضرورات تبيح المحظورات، فإذا وجد محظورات وكان من الواجب أو من الضروري ارتكاب أحد الضررين فيلزم ارتكاب أخفهما و أهونهما‘‘

ترجمہ:جب دو خرابیاں متعارض ہوں، تو کم خرابی کا ارتکاب کرتے ہوئے بڑی خرابی کی رعایت کی جائے گی، کیونکہ ضروریاتِ شرعیہ ، ممنوع کاموں کو مباح کر دیتی ہیں۔ لہذا جب کوئی ممنوع شرعی پایا جائے اور دو خرابیوں میں سے کسی ایک کا ارتکاب لازم اور ضروری ہو، تو ہلکی اور خفیف خرابی کا ارتکاب کر لیا جائے گا۔(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، جلد 01، صفحہ 41، مطبوعہ دار الجیل)

الاشباہ والنظائر میں ہے :

’’مشقة ‌عظيمة فادحة كمشقة الخوف على النفوس والأطراف ومنافع الأعضاء فهي موجبةللتخفيف‘‘

ترجمہ:ایسی مشقت کہ جو بہت بڑی ہو اور سخت دشواری کا باعث ہو جیسا کہ اپنی جان، اعضاء یا اُن کے منافع پر کسی طرح کا خوف ہونا، تو یہ مشقت حکمِ شرعی میں تخفیف کا باعث ہوتی ہے۔(الاشباہ والنظائر، صفحہ 70، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

13ربیع الاول 1446ھ18 ستمبر 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں