بروکری اور کمیشن
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اگر بروکر صرف فون نمبر ایک پارٹی سے دوسرے کو دے دیں تو کیا اس صورت میں اسے کمیشن لینا جائز ہوگا اور کتنا لینا جائز ہوگا اور اگر اس نے دونوں پارٹیوں کو ملایا اور مکان ابھی تک بکا نہیں تو کیا اس صورت میں اسے کمیشن ملے گا؟
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بروکر اجرت کا مستحق جب ہوتا ہے جبکہ وہ کام کرنے کے لیے محنت و بھاگ دوڑ کرے صرف مشورہ دے کر یا صرف آگے پیچھے فون نمبر بڑھا کر وہ اجرت کا مستحق نہیں ہوگا اور اگر واقعی وہ چل کرگیا جگہ دکھائی اور سودا طے بھی ہوگیا تو اس صورت میں اسے کمیشن عرف کے مطابق ملے گی۔
اگر اس نے دو پارٹی کو آپس میں ملوایا مگر پھر بھی سودا طے نہیں ہوا تو اس صورت میں وہ اجرت کا مستحق نہیں ہوگا کیونکہ بروکر کی حیثیت اجیر مشترک کی ہے اور اجیر مشترک اس وقت تک اجرت کا مستحق نہیں ہوتا جب تک اس کا کام مکمل نہ ہو جائے۔
رد المحتار میں ہے:
’’الدلالۃ والاشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الأجر وان قال لرجل بعینہ ان دللتنی علی کذا فلک کذا، ان مشی لہ فدلہ فلہ اجر المثل للمشی لاجلہ، لان ذٰلک عمل یستحق بعقد الاجارۃ‘‘
ترجمہ:محض بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق ہو، اگر کسی نے ایک معین شخص کو کہا اگر تو مجھے فلاں چیز پر رہنمائی کرے تو تیرے لیے اتنی اجرت ہوگی، اگر وہ شخص چلا،اس کی رہنمائی کی تو اس کے لیے اجرت مثل ہوگی اس کے لیے چلنے کی وجہ سے، کیونکہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اُجرت کا مستحق ہوتاہے۔(رد المحتار،ج9،ص159،مطبوعہ کوئٹہ)
محیط برہانی میں ہے:
’’ وفي «نوادر ابن سماعة» عن أبي يوسف: رجل ضل شيئا، فقال: من دلني عليه فله درهم فدله إنسان فلا شيء له؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، ولو قال لإنسان بعينه: إن دللتني عليه فلك درهم، فإن دله من غير مشيء معه فكذلك الجواب لا يستحق به الأجر وإن مشى معه ودله فله أجر مثله، لأن هذا عمل يقابل الأجر عرفا وعادة إلا أنه غير مقدر ففسد العقد ووجب به أجر المثل‘‘
ترجمہ:نوادر ابن سماعہ میں امام ابویوسف علیہ الرحمۃ سے مروی ہے کہ کسی شخص کی کوئی شے گم ہوگئی ، اس نے کہا جوشخص اس بارے میں میری رہنمائی کرےگا اس کے لیے ایک درہم ہے،ایک شخص نے اس کی رہنمائی کی،تو اسے کچھ نہیں ملے گا،کیونکہ رہنمائی کرنا یا اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں جس سے اجرت کا مستحق ہوسکے۔اور اگر کسی معین شخص سے کہا:اگر تو میری اس شے پر رہنمائی کرے ،تو تیرے لئے ایک درہم ہےاگر اس نے اس کے ساتھ چلے بغیر اس چیز کی رہنمائی کی،تو بھی یہی جواب ہے کہ اس کے ذریعے اجرت کا مستحق نہیں ہوگااور اگر وہ اس کے ساتھ چلے اور رہنمائی کرے،تو اس کے لئے اجرت مثل ہوگی،کیونکہ یہ ایسا عمل ہے جو عرفاً وعادتاً اجرت کے مقابل ہوتا ہےمگر یہ کہ مقرر نہیں اس لئے عقد فاسد ہوا اور اجرت مثل لازم ہوگئی۔(محیط برھانی،ج11،ص352،مطبوعہ ادارۃ التراث الاسلامی، لبنان)
فتاویٰ خانیہ میں ہے:
’’ان کان الدلال عرض تعنی و ذھب فی ذلک روزکارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ و عملہ‘‘
ترجمہ:اگر روزگار کے سلسلہ میں بروکر نے محنت کی اور آیا گیا ،تو اس کی محنت اور عمل کے مطابق اجرت مثل ہوگی۔(فتاوی قاضی خان،ج3،ص229،مطبوعہ بیروت)
فتاویٰ رضویہ میں ہے :
’’اگر کارندہ نے اس بارہ میں جو محنت وکوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی بائع کے لئے کوئی دوادوش نہ کی، اگرچہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں، مثلاً آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے خرید لینی چاہئے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے، اس نے خرید لی جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اُجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے، دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے مشورہ دینے کی۔غمز العیون میں خزانۃ الاکمل سے ہے:’’اما لو دلہ بالکلام فلا شئی لہ‘‘(اگر صرف زبانی رہنمائی کردی ،تو اس کے لئے کچھ نہیں)اور اگر بائع کی طرف سے محنت و کوشش و دوا دوش میں اپنا زمانہ صرف کیا، تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگایعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہےاس سے زائد نہ پائے گا اگرچہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو اور اگر قرار داد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہو چکا ۔خانیہ میں ہے:’’ان کان الدلال عرض تعنی و ذھب فی ذلک روزگارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ و عملہ‘‘ (اگر روزگار کے سلسلہ میں بروکر نے محنت کی اور آیا گیا ،تو اس کی محنت اور عمل کے مطابق اجرت مثل ہوگی)اشباہ میں ہے:’’بعہ لی بکذا ولک کذا فباع فلہ اجر المثل و فی الحموی:ای ولا یتجاوز بہ ماسمی‘‘(دوسرے کو کہا تو میرے لئے اتنے میں اس کو فروخت کر تو تیرے لئے اتنی اجرت ہوگی پس اس نے اسے فروخت کر دیا تو اجرت مثل ملے گی اور حموی میں ہے:یعنی جو مقررہ اجرت سے زائد نہ ہوگی)،رد المحتار میں تتارخانیہ سے ہے:’’فی الدلال والسمسار یجب اجر المثل و ماتواضعوا علیہ ان کل عشرۃ دنانیرکذا فذلک حرام علیھم‘‘(بروکر کے لئے اجرت مثل واجب ہوگی اورانہوں نے دس دینار میں جو مخصوص اجرت مقرر کی تو وہ ان کے لئے حرام ہے)۔‘‘(فتاوی رضویہ،ج19،ص452،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
’’الدلال اجیر مشترک‘‘
ترجمہ:بروکر اجیر مشترک ہوتا ہے۔(فتاوی عالمگیری،ج04،ص512،مطبوعہ کوئٹہ)
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
’’(ولا یستحق المشترک الاجر حتی یعمل کالقصار ونحوہ) کحمال ودلال و ملاح‘‘
ترجمہ: اجیر مشترک اجرت کااس وقت تک مستحق نہیں ہو تا جب تک کام مکمل نہ کر لے جیسےدھوبی اور اس کی مثل دوسرے لوگ جیسے سامان اٹھانے والا اور بروکر اور کشتی چلانے والا۔ (تنویر الابصار ودر مختار مع رد المحتار، ج 9،ص 109،مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے :
’’اجیر مشترک اُجرت کا اُس وقت مستحق ہے جب کام کرچکے مثلاًدرزی نے کپڑےکے سینے میں سارا وقت صرف کردیا مگر کپڑا سی کر تیار نہیں کیا یا اپنے مکان پر سینے کے لئے تم نے اُسے مقرر کیا تھا دن بھر تمہارے یہاں رہامگر کپڑانہیں سیا، اُجرت کا مستحق نہیں ہے۔‘‘(بھارِ شریعت،ج3،ص155،مکتبہ المدینہ ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
21 صفر المظفر 1446ھ26 اگست 2024ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری