Co-Education مخلوط نظام تعلیم کی شرعی حیثیت
سوال۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ مخلوط نظام تعلیم Co-Education کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مخلوط تعلیمی نظام شرعا درست نہیں کہ اس میں کئی خرابیاں شرعی ، اخلاقی اور معاشرتی برائیاں شامل ہیں۔ سب سے پہلے تو اس میں نامحرم مرد و عورت کا اختلاط اور ان کا جماعت میں ایک ساتھ بیٹھنا جبکہ مردوں کو اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بچنے کا حکم ہے۔
پھر خواتین کا اکثر وبیشتر بے پردہ جانا اور وہ اعضاء جن کا چھپانا فرض ہے انہیں کھول کر نامحرم کے سامنے جانا حرام ہے اور باوجود فتنہ کے عورتوں کے لیے چہرے کا پردہ بھی واجب ہے اور مرد اساتذہ سے بھی پردے کا ہی حکم ہے اور اگر وہ بالفرض پردے کے ساتھ بھی جائیں پھر بھی کئی خرابیاں موجود ہیں اور یہ سب فتنے اور انتشار کا سبب ہے۔
خواتین اور مردوں کا آپس میں دوستیاں رکھنا ہنسی مذاق کرنا ناجائز ہے اور اگر ضرورت کے تحت بات چیت بھی کی جائے تو اس میں بھی لہجہ نرم نہ رکھنے کا حکم ہے۔
اس کے علاوہ کئی ایک خرابیاں ہیں جس سے معاشرے پر برا اثر مرتب ہورہا ہے ۔اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ دین میں عورتوں کی تعلیم پر پابندی ہے بلکہ قیودات شرع کے ساتھ وہ ہر طرح کا علم حاصل کرسکتی ہیں جبکہ ایسے انتظامات ہونے چاہئیں کہ خواتین اہم شعبوں میں ماہر بنیں کیونکہ عورت کو علاج کے لیے دوسری عورت کے پاس ہی جانے کا حکم ہے اور ہماری صحابیات کو بھی قرآن وحدیث کے علاوہ بھی دیگر علوم پر مہارت حاصل تھی۔ خواتین اساتذہ اگر کسی شعبے میں ماہر ہوں گی تو ان سے دیگر خواتین بآسانی اور بغیر ہچکچاہٹ کے بہتر طور پر تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔
شعب الايمان میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
’’لیس للنساء سراۃ الطریْق یعنی وسط الطریق‘‘
ترجمہ: ’’عورتوں کے لیے راستے کے درمیان میں چلنے کا حق نہیں۔‘‘(شعب الايمان ، جلد 7، صفحہ309 ، حدیث 8436، مكتبة الرشد ، الرياض )
شعب الايمان میں ہے
”عن عقبة بن عامر، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال :ایاکم والدخول علی النساء“
ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ (شعب الايمان ،تحریم الفروج ، جلد 7، صفحہ309 ،مكتبة الرشد ، الرياض )
سنن ابو داؤد میں ہے
” عن حمزة بن ابي اسيد الانصاري ،عن ابيه ،انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء في الطريق ،فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للنساء: استاخرن، فإنه ليس لكن ان تحققن الطريق ، عليكن بحافات الطريق ، فكانت المراة تلتصق بالجدار حتى إن ثوبها ليتعلق بالجدار من لصوقها به“
ترجمہ:حضرت حمزہ بن ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور لوگ راستے میں عورتوں میں مل جل گئے تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: ”تم پیچھے ہٹ جاؤ، تمہارے لیے راستے کے درمیان سے چلنا ٹھیک نہیں، تمہارے لیے راستے کے کنارے کنارے چلنا مناسب ہے“ پھر تو ایسا ہو گیا کہ عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں، یہاں تک کہ ان کے کپڑے (دوپٹے وغیرہ) دیوار میں پھنس جاتے تھے۔(سنن ابو داؤد ، جلد 2 ، صفحہ 234، حدیث 5272، مطبوعہ کراچی)
الھدایہ میں ہے
’’و لا یجوز ان ینظر الرجل الی الاجنبیۃ ‘‘
ترجمہ : مرد کا اجنبی عورت کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے ۔ ( الھدایہ ، کتاب الکراھیۃ ، فصل فی الوطء و النظر و المس ، جلد 4 ، صفحہ 368، مطبوعہ دار احياء التراث العربي ، بیروت)
فتویٰ رضویہ میں ہے :
”بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ کھلا ہو، جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز ،تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے، خواہ وہ پیر ہو یا عالم یا عامی جوان ہو ، یا بوڑھا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد22،صفحہ239، 240،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
فتویٰ رضویہ میں ہے :
”لڑکیوں کا، اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بےپردہ رہنا بھی حرام۔‘‘ (ملخصاً از فتاویٰ رضویہ، جلد23،صفحہ690،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
حاشیہ ارشاد الساری میں ہے :
”سدل الشیئ علی وجھھا واجب علیھا، دلت المسئلۃ علی ان المرأۃ منھیۃ عن اظھار وجھھا للاجانب بلاضرورۃ‘‘
ترجمہ:عورت کا اپنے چہرے پر کپڑا ڈالنا واجب ہے، یہ مسئلہ اس بات پرد لالت کرتاہے کہ عورت کو بلا ضرورت اجنبی لوگوں پر اپنا چہرہ کھولنا منع ہے۔ (حاشیۃ ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری ، فصل فی احرام المرأۃ، صفحہ 162، مطبوعہ مکہ )
تنوير الابصار و درمختار میں ہے:
”تمنع المراۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ “
ترجمہ : فتنہ کے خوف کیل وجہ سے جوان عورت کا مَردوں کےسامنے چہرہ کھولنا منع ہے۔ (تنویر الابصار و درمختار ، کتاب الصلاۃ ، مطلب فی ستر العورۃ ، جلد2، صفحہ97، مطبوعہ کوئٹہ)
فتویٰ رضویہ میں ہے :
”اس طرح رفتہ رفتہ حاملان شریعت وحکمائے امت نے حکمِ حجاب دیا اور چہرہ چھپانا کہ صدر اول میں واجب نہ تھا واجب کردیا۔‘‘(فتاویٰ رضویہ، جلد14،صفحہ551،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
فتویٰ رضویہ میں ہے:
”رہا پردہ اس میں استاذ وغیراستاذ،عالم وغیر عالم، پیرسب برابرہیں۔نوبرس سے کم کی لڑکی کو پردہ کی حاجت نہیں اور جب پندرہ برس کی ہو سب غیرمحارم سے پردہ واجب،اور نو سے پندرہ تك اگرآثار بلوغ ظاہرہوں توواجب،اور نہ ظاہرہوں تو مستحب خصوصًا بارہ برس کے بعد بہت مؤکد کہ یہ زمانہ قرب بلوغ وکمال اشتہاکا ہے۔“(فتویٰ رضویہ، جلد 23 ،صفحہ 575 ،رضا فائونڈیشن لاہور)
ردالمختار میں ہے
”نجيز الكلام مع النّساء للأجانب ومحاورتهنّ عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهنّ رفع أصواتهنّ ولا تمطيطها ولا تليینها وتقطيعها لما في ذلك من استمالةالرّجال إليهنّ وَتحريك الشَهوَات منهم ومن ھذا لم تجز ان تؤذن المراۃ “
ترجمہ:ہم وقت ضرورت اجنبی عورتوں سے کلام کو جائز سمجھتے ہیں ،البتہ یہ جائز نہیں قرار دیتے کہ وہ اپنی آوازیں بلند کریں ،گفتگوکو بڑھائیں ،نرم لہجہ رکھیں یا مبالغہ کریں،کیونکہ اس طرح تو مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا ہے اور ان کی شہوات کوابھارنا ہے، اِسی وجہ سے تو عورت کا اذان دینا جائز نہیں۔(رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ ،مطلب فی ستر العورۃ،جلد2،صفحہ97،مطبوعہ کوئٹہ )
وقار الفتاوی میں ہے:
”مخلوط تعلیمی اداروں میں مرد و عورت کو ملازمت کرنا ناجائز ہے۔“(وقار الفتاوی ، جلد 3 ، صفحہ 434، بزم وقار الدین)
فتاویٰ خلیلیہ میں ہے سوال ہوا کہ کیا بالغ لڑکی غیر مرد کے سامنے تعلیم حاصل کرنے کے لیے بلاپردہ آ جاسکتی ہے؟
اس کے جواب میں فرمایا:
” اجنبی عورت کے چہرہ اور ہتھیلی کو دیکھنا اگرچہ جائز ہے جبکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو مگر یہ فتنہ کا ہے اس زمانے میں خدا ترس کہاں لہذا اس زمانے میں اس کو دیکھنے کی ممانعت کی جائے گی پھر یہ حکم بھی اس وقت ہے کہ جب کہ خلوت و تنہائی نہ ہو اور خلوت یعنی دونوں کا ایک مکان میں تنہا ہونا یہ حرام وناجائز ہے۔“(فتاویٰ خلیلیہ ، جلد 3 ، صفحہ 161 ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے:
”مخلوط تعلیم کا جو طریقہ اسکولوں اور کالجوں انگریزوں کی اندھی تقلید میں رائج ہے حرام و گناہ ہے کیونکہ جوان لڑکے جوان لڑکیاں ایک کلاس روم میں بیٹھتے ہیں بے حجاب ایک دوسرے کو دیکھتے اور بات چیت بھی کرتے ہیں یوہیں اساتذہ بلاحجاب ایک دوسرے کو دیکھتے رہتے ہیں یہ سب ناجائز و گناہ ہے کہ مرد و عورت کا ایک دوسرے کو بے حجاب قصداً دیکھنا شرعاً ممنوع ہے اس کی وجہ سے فتنے بھی پیدا ہوتے ہیں کبھی کبھی عشق بازی کے واقعات بھی ہوجاتے ہیں۔“(فتاویٰ مرکز تربیت افتاء ، جلد 2، صفحہ ، 433، فقیہ ملت اکیڈمی)
سنن ابو داؤد میں ہے
”عن الشفاء بنت عبد الله، قالت:” دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا عند حفصة، فقال لي:” الا تعلمين هذه رقية النملة كما علمتيها الكتابة“
ترجمہ:شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: نملہ کا دم اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے۔(سنن ابو داؤد ، جلد 2 ، صفحہ 15، حدیث 3887 ، مطبوعہ کراچی)
شرح الزرقانی میں ہے
”عن عروة انه قال لھا یاامتاہ لااعجب من فقھك اقول زوجة رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم وابنة ابی بکر و لااعجب من علمك بالشعر وایام الناس اقول ابنة ابی بکر وکان اعلم او من اعلم الناس به ولکن اعجب من علمك بالطب کیف ھو وقالت ای عریة ان رسول صلی الله علیه وسلم کان یسقم وفی لفظ کثرت اسقامه عند آخر عمرہ فکانت تقدم علیه وفود العرب من کل وجه فتنعت له الانعامات وفی لفظ وکانت اطباء العرب والعجم ینعوته وکنت اعالجھا“
ترجمہ:حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے عرض کیا کہ اے اماں جان! مجھے آپ کے علم فقہ پر کوئی تعجب نہیں کیونکہ آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی زوجیت کا شرف پایا ہے اور آپ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہے اور اسی طرح مجھے اس پر بھی کوئی تعجب نہیں ہے کہ آپ کو اس قدر زیادہ عرب کے اشعار کیوں اور کس طرح یاد ہو گئے؟ اس لئے کہ میں جانتا ہوں کہ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اس کو جاننے والے ہیں۔ لیکن میں اس بات پر بہت ہی حیران ہوں کہ آخر یہ طبی معلومات کیسے حاصل ہوئی ؟یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہانے فرمایا اے عروہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم اپنی آخری عمر شریف میں اکثر علیل ہو جایا کرتے تھے اور وفود عرب آپ کے پاس آکر دوائیں تجویز کیا کرتے تھے یا یہ الفاظ ہیں کہ عرب و عجم کے اطباء آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے لئے دوائیں تجویز کرتے تھے اور میں ان دواؤں سے آپ کا علاج کیا کرتی تھی۔(شرح الزرقانی المواھب للدینیہ ، جلد 4، صفحہ 390، دار الکتب العلمیہ بیروت)
فتویٰ رضویہ میں ہے
’’ذی علم مسلمان اگر بہ نیت ردِنصاری انگریزی پڑھے اجر پائے گااور دنیا کے لئے صرف زبان سیکھنے یا حساب اقلیدس جغرافیہ جائز علم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہو کر اپنے دین وعلم سے غافل نہ ہوجائے ورنہ جو چیز اپنا دین وعلم بقدرِ فرض سیکھنے میں مانع آئے حرام ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج23،ص533،رضا فائونڈیشن،لاہور)
مزیدایک جگہ فرماتے ہیں:
”ان ضروریات اور قرآن عظیم پڑھنے کے بعد پھر اگر اردو یاگجراتی کی دنیوی کتاب جس میں کوئی بات نہ دین کے خلاف ہو نہ بے شرمی کی، نہ اخلاق وعادات پر برااثر ڈالنے کی، اور پڑھانے والی عورت سنی مسلمان پارسا(نیک)حیادار ہوتو کوئی حرج نہیں۔“( فتاوی رضویہ جلد 23،صفحہ 693،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
وقار الفتاوی میں ہے
”دینی تعلیم کا مرد و عورت پر بقدر ضرورت حاصل کرنا فرض ہے اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے اس لیے لڑکیوں کا اسکول قائم کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ تعلیم دینے کے لیے عورتیں مقرر کی جائیں ہاں چھوٹی بچیوں کو مرد بھی پڑھا سکتے ہیں۔“(وقار الفتاوی ، جلد 3 ، صفحہ 435، بزم وقار الدین)
مخلوط نظام تعلیم میں جہاں شرعی قباحتیں ہیں وہاں معاشرتی اور طبی بھی نقصانات ہیں چنانچہ ویب سائٹ Greek for Greeks پر مخلوط نظام تعلیم کے نقصانات کے حوالے سے لکھاہے:
“The disadvantages of
co-education can include less concentration, unhealthy competition, feeling of hesitation and concern about the safety of the girl child. It also reduces the option of school and colleges for both the gender.”
ترجمہ: مخلوط نظام تعلیم کے نقصانات: مخلوط نظام تعلیم میں پڑھائی کی طرف توجہ کم ہونا، غیر صحت مند مقابلہ، جھجک کا احساس اور بچی کی حفاظت کے بارے میں تشویش شامل ہو سکتی ہے۔ اس سے دونوں جنس کے لیے اسکول اور کالج کا اختیار بھی کم ہوجاتا ہے۔
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
12صفر المظفر 1446ھ17 اگست 2024ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری