عورت کا اپنی تصویر تبدیل کرکے ڈی پی وغیرہ پر رکھنا

عورت کا اپنی تصویر تبدیل کرکے ڈی پی وغیرہ پر رکھنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا خواتین اپنی تصاویر اینیمیٹڈ فیچر میں تبدیل کرواکر اپنی ڈی پی وغیرہ میں رکھ سکتی ہے؟ اس میں چہرے سے بس تھوڑی بہت مشابہت ہوتی ہے اور دیکھنے میں کسی کارٹون کا کردار لگتا ہے؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق عورت کو پردے کا حکم دیا گیا ہے اور فی زمانہ فتنہ کے سبب سے چہرے کے پردے کا بھی حکم ہے۔ اس طرح اینیمیٹڈ فیچر سے اپنی تصویر بدل کر ڈی پی وغیرہ پر لگانے کی اجازت نہیں ہوگی کہ اس میں اگرچہ چہرے سے تھوڑی سی مشابہت ہوتی ہے لیکن مشابہت ہوتی ہے اورنامحرم کا یوں دیکھنا اور اسے دکھانا شرعا درست نہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا فلٹر لگانا کہ جس سے چہرہ بدل جائے تو اس کی بھی اجازت نہیں ہے کہ خود کو کارٹون بنادے ۔

قرآن پاک میں ہے

:﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِینَتَہُنَّ إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلَی جُیُوْبِہِنَّ﴾

ترجمہ کنز الایمان:اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ (سورۃ النور،سورۃ 24،آیت31)

سنن الصغیر للبیہقی میں ہے:

”عن عائشۃ، أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال یا أسماء إن المرأۃ إذا بلغت المحیض لم یصلح أن یری منھا إلا ھذا وھذا، وأشار إلی کفہ ووجھہ“

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اے اسماء !جب عورت بالغہ ہو جائے تو اس کے لئے درست نہیں کہ وہ اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کے سوا کسی حصے کو ظاہر کرے۔ (السنن الصغیر للبیھقی ،کتاب النکاح ،باب النظر إلی امرأۃ ،جلد3،صفحہ12،الدراسات الإسلامیۃ، کراچی)

النھایۃ فی شرح الھدایۃ میں ہے:

”المرأة منهية عن إظهار وجهها للرجال من غير ضرورة“

ترجمہ:عورت کو بلا ضرورت اپنا چہرہ مردوں کے سامنے ظاہر کرنا منع ہے۔(النہایۃ فی شرح الہدایۃ،جلد 6،صفحہ 111،مطبوعہ جامعہ ام القری)

در مختار میں ہے

” تمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ“

ترجمہ: جوان عورت کو اندیشہ فتنہ کی وجہ سے مردوں کے سامنے چہرہ کھولنے سے روکا جائے۔ ( درمختار، کتاب الصلوٰۃ، باب شروط الصلوٰۃ ، جلد 1 ، صفحہ 68 مطبوعہ کوئٹہ)

در مختار میں ہے

”اما فی زماننا فمنع من الشابۃ قہستانی“

ترجمہ:لیکن ہمارے زمانے میں جوان لڑکی کو نقاب اتارنے سے منع کیا گیا ہے۔ قہستانی۔( درمختار ، کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر ، جلد 6 ، صفحہ 261، مطبوعہ کوئٹہ)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

”پردہ کے باب میں پیرو غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے جوا ن عورت کو چہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے۔“(فتویٰ رضویہ ، جلد 22 ، صفحہ 205 ، رضا فائونڈیشن لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

02صفر المضفر 1446ھ07 اگست 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں