سجدے میں پاؤں کی کتنی انگلیاں لگانا اور کتنی دیر لگانا ضروری ہیں؟

سجدے میں پاؤں کی کتنی انگلیاں لگانا اور کتنی دیر لگانا ضروری ہیں؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز میں سجدہ کے دوران دونوں پاؤں کی انگلیاں زمین پر رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر کسی امام نے پاؤں زمین پر نہ لگائے تو کیا اس کی اقتداء میں نماز درست ہے؟ نیز کتنی دیر پاؤں زمین پر لگانا ضروری ہے؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب

نماز میں سجدے کے دوران دونوں پاؤں کی انگلیاں زمین (یعنی صف وغیرہ) پر رکھنے کے حوالے سے معتمد اور صحیح قول یہ ہے کہ دونوں پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر لگانا فرض اور دونوں پاؤں کی اکثر یعنی تین تین انگلیوں کا پیٹ لگانا واجب اور دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کا پیٹ صف وغیرہ پر لگا کر قبلہ رخ کرنا سنت ہے۔ سجدے کے دوران پاؤں کی انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگانے سے ہی انگلیاں قبلہ رخ ہوں گی۔

لہذا اگر کسی نے دونوں پاؤں اٹھائے رکھے اور ایک انگلی بھی دونوں پاؤں کی نہ لگائی تو نماز درست نہیں، بلکہ فاسد ہوئی اور اگر دونوں پاؤں کی تین تین انگلیاں نہ لگائیں تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ یعنی اسے دوبارہ پڑھنا ضروری ہے۔

اگر کسی امام نے ایسا کیا کہ ایک انگلی بھی نہ لگائی تو خود اس کی اپنی نماز نہ ہوئی تو مقتدیوں کی بھی نہیں ہوئی۔ اگر دونوں پاؤں کی تین تین انگلیاں نہ لگائیں تو نماز مکروہ تحریمی ہوئی، امام اور مقتدیوں کا نماز دوبارہ لوٹانا واجب ہے۔

سجدے میں کم از کم ایک تسبیح یعنی سبحان اللہ کہنے کی مقدار انگلیوں کا پیٹ زمین پر جمانا ضروری ہے ۔

صحیح بخاری میں ہے:

”عن ابن عباس قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – «أمرت أن أسجد على سبعة أعظم على الجبهة واليدين والركبتين وأطراف القدمين»“

ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا، بال اور کپڑا نہ سمیٹنے کا حکم دیا گیا (سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی، دونوں ہاتھ ،دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔(بخاری،ج1،ص113، مطبوعہ کراچی)

الدرالمختار میں ہے:

”(ومنها السجود) بجبهته وقدميه، ووضع إصبع واحدة منهما شرط“

اور فرائض میں سے ایک فرض پیشانی اور قدموں کے ساتھ سجدہ ہے اور دونوں پاؤں کی ایک انگلی لگانا شرط ہے۔

اس کے تحت ردالمحتار میں ہے:

”(قوله وقدميه) يجب إسقاطه لأن وضع إصبع واحدة منهما يكفي كما ذكره بعد ح. وأفاد أنه لو لم يضع شيئا من القدمين لم يصح السجود“

ماتن کا قول اور قدموں کا زمین پر چت کرنا واجب ہے کیونکہ دونوں پاؤں کی ایک انگلی لگانا کافی ہے جیسا کہ اسے حلبی نے ذکر کیا اور افادہ کیا کہ اگر کسی نے دو قدموں میں سے کچھ بھی نہ رکھا تو سجدہ صحیح نہیں۔(الدرالمختار مع ردالمحتار فرائض الصلٰوۃ ج1،ص447 دار الفکر بیروت)

نورالایضاح و مراقی الفلاح میں ہے:

” ولایکفی لصحۃ السجود وضع ظاھر القدم“

ترجمہ: فقط ظاھر قدم کا زمین پرلگنا کافی نہیں۔(مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب شروط الصلٰوۃ ص232 دار الکتب العلمیہ بیروت )

جامع الرموز میں قنیہ کے حوالے سے ہے:

”الصحیح ان رفع القدمین مفسدکما فی القنیۃ“

ترجمہ:صحیح یہی ہے کہ قدمین کا زمین سے اٹھے رہنا نماز کو فاسد کر دیتاہے جیسا کہ قنیہ میں ہے۔(جامع الرموز فصل فی فرائض الصلٰوۃ ج1 ص140 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ایران)

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن “جدالممتار” میں فرماتے ہیں:

”بل سبقہ الیہ امام جلیل وھوالامام ابوالبرکات النسفی قال فی شرح وافیۃ الکافی وضع القدمین فرض فی السجود لانہ لایمکن تحقیق السجود الابوضع القدمین“

بلکہ اس سے پہلے ایک امام جلیل جن کااسم گرامی ابوالبرکات نسفی ہے نے بیان کی ہے، شرح وافیہ الکافی میں فرمایا سجدے میں قدموں کالگانا فرض ہے کیونکہ قدم رکھے بغیر سجدہ کا وجود ممکن نہیں۔

مزید فرمایا:

”وبالجملۃ فتحرر مما تقرر ان الاعتماد فی السجود علی بطن احدی اصابع القدم العشر فریضۃ فی المذھب المعتمد المفتی بہ والاعتماد علی بطون کلھا اواکثرھا من کلتا القدمین لایبعد ان یجب لماحررہ فی الحلیۃ وتوجیھھا نحو القلبۃ من دون انحراف سنۃ“

اس تمام گفتگو سے آشکار ہوگیا کہ حالتِ سجدہ میں قدم کی دس انگلیوں میں سے ایک کے باطن پر اعتماد مذہب معتمد اور مفتیٰ بہ میں فرض ہے اور دونوں پاؤں کی تمام یا اکثر انگلیوں پر اعتماد بعید نہیں کہ واجب ہو، اس بنا پر جو ’’حلیہ‘‘ میں ہے اور قبلہ کی طرف متوجہ کرنا بغیر کسی انحراف کے سنت ہے۔(جدالممتار باب صفۃ الصلٰوۃ فصل اذا اراد الشروع ج3 ص208 و 210 تحت قول:1062 مکتبۃ المدینہ)

فتاوی رضویہ میں ہے:

”سخت اور تنگ پنجے کاجوتا جوسجدہ میں انگلیوں کاپیٹ زمین پربچھانے اور اس پر اعتماد کرنے زوردینے سے مانع ہو ایسا جوتا پہن کر نماز پڑھنی صرف کراہت و اساءت درکنار مذہب مشہورہ و مفتی بہ کی روسے راساً مفسد نماز ہے کہ جب پاؤں کی انگلی پراعتماد نہ ہوا سجدہ نہ ہوا اور جب سجدہ نہ ہوا نماز نہ ہوئی۔“(فتاوی رضویہ، ج7 ، ص363 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

اسی میں ہے:

”سجدے میں فرض ہے کہ کم از کم پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر لگا ہو اور ہر پاؤں کی اکثر انگلیوں کا پیٹ زمین پر جما ہونا واجب ہے۔۔۔ پاؤں کو دیکھئے انگلیوں کے سرے زمین پر ہوتے ہیں کسی انگلی کا پیٹ بچھا نہیں ہوتا تو سجدہ باطل نماز باطل۔“(فتاوی رضویہ ج3 ص253 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے:

”سجدہ میں دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا واجب اور دسوں کا قبلہ رُو ہونا سُنت۔“(بہار شریعت،حصہ3، سنن نماز کا بیان،مسئلہ:108، مکتبۃ المدینہ)

بہار شریعت میں ہے:

”اور پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط‘ تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے نماز نہ ہوئی بلکہ اگر صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی جب بھی نہ ہوئی۔ اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں۔“ (بہار شریعت حصہ3 فرائض کا بیان «سجود» ص513 مکتبۃ المدینہ)

فتاوی فیض الرسول میں ہے:

”اگر سجدہ میں دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے یا صرف انگلیوں کے سرے زمین سے لگے اور کسی انگلی کا پیٹ بچھا نہیں تو اس صورت میں نماز بالکل نہیں ہو گی‘ اور اگر ایک دو انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگے اور اکثر کے پیٹ نہیں لگے تو اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو گی۔“ (فتاوی فیض الرسول فرائض نماز ج1 ص250-251 شبیر برادرز لاہور)

اسی میں ہے:

”لہٰذا جو شخص حالت سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں سے کم سے کم تین انگلیوں کا پیٹ زمین سے نہ لگائے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں اور خود اس کی نماز بھی مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔“ (فتاوی فیض الرسول امامت کا بیان ج1 ص273 شبیر برادرز لاہور)

اسی میں ہے:

”اگر امام صاحب اس مسئلہ کو تسلیم کر کے سجدہ میں اپنے ہر پاؤں کی کم از کم تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر جماتے رہیں تو ان کی اقتدا میں نماز ہو جائے گی جب کہ کوئی دوسری چیز مانع جواز نہ ہو‘ اور اگر معاذ اللہ امام صاحب اس مسئلہ پر عمل کرنے کو تیار نہ ہوں تو ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز نہیں۔“(فتاوی فیض الرسول امامت کا بیان ج1 ص312 شبیر برادرز لاہور)

مفتی خلیل خان برکاتی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

”پَیر کی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر جمنا سجدہ میں شرط ہے اور ہر پیر کی تین انگلیوں کا پیٹ جمنا واجب اور ہر پاؤں کی تمام انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے۔ اگر بقدر ایک تسبیح بھی اس پر عمل جاری رہے نماز ہوگئی اگرچہ بعد میں حرکت آگئی۔ عوام میں جو مشہور ہے وہ اس لئے ہے کہ آدمی اس سے غافل نہ رہے مگر لوگ پھر بھی غافل ہیں۔“(فتاویٰ خلیلیہ جلد1 صفحہ 250 ضیاء القرآن لاہور)

واللّٰہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب

صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم

ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری

23ذوالحجہ1445ھ

30جون2024ء،اتوار

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں