سونے کی گھڑی پہننا مردو عورت کے لیے

سونے کی گھڑی پہننا مردو عورت کے لیے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اگر راڈو گھڑی کی سوئیاں یا ڈائل سونے کا ہو تو کیا مرد اس کو استعمال کرسکتا یا اور کسی کو تحفہ میں دے سکتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق گھڑی کا ڈائل(جس میں نمبرنگ وغیرہ ہو) یا سوئیاں سونے کی ہوں تو ایسی گھڑی میں وقت دیکھنا مرد و عورت سب کو حرام ہے کیونکہ گھڑی میں یہ دونوں(نمبرنگ اور سوئیاں) اصل ہیں۔

شریعت میں عورت کے لیے بھی سونا چاندی کا استعمال صرف پہننے کی حد تک جائز ہے اس کے علاوہ کسی اور استعمال کے لیے جائز نہیں ہے اور جب یہ پہننا جائز نہیں ہے تو پھر اس کو تحفہ کے طور پر بھی کسی کو دینا درست نہیں ہے کیونکہ جسے تحفہ دیں گے وہ اس کو پہنے گا یوں یہ برائی کے کاموں میں تعاون ہوجائے گا۔

سنن ابو داؤد و سنن ابن ماجہ میں ہے

’’عن ابی افلح الھمدانی رضی الله عنه عن عبدالله بن زریر رضی الله عنہ انه سمع علی بن ابی طالب رضی الله عنه یقول ان نبی الله صلی الله علیہ وسلم اخذ حریرا فجعله فی یمینه واخذ ذھبا فجعله فی شماله ثم قال ان ھذین حرام علی ذکور امتی حل لاناثھم ‘‘

ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں ہاتھ میں ریشم لیا اور بائیں ہاتھ میں سونا، پھر فرمایا:یہ دونوں چیزیں میری امت کے مَردوں پر حرام ہیں اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔(سنن ابو داؤد ،کتاب اللباس ،باب فی الحریر للنساء،جلد2،صفحہ206،مطبوعہ لاھور)

سنن ترمذی میں ہے

”أن رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم : حرم لباس الحریر والذھب علی ذکور امتی واحل لاناثھم“

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے۔ (سنن ترمذی ، كتاب اللباس ،باب ما جاء في الحرِيرِ وَالذهب، حدیث 1720، قدیمی کتب خانہ کراچی)

حاشیہ طحطاوی میں ہے

”قال العلامۃ الوانی المنھی عنہ استعمال الذھب والفضۃ اذا لاصل فی ھذا الباب قولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ھذان حرامان علی ذکور امتی حل لاناثھم ولما بین ان المراد من قولہ حل لاناثھم مایکون حلیا لھن بقی ماعداہ علی حرمتہ سواء استعمل بالذات اور بالواسطۃاھ واقرہ العلامۃ نوح وایدہ باطلاق الاحادیث الواردۃ فی ھذا الباب ۔۔۔۔ تعلم حرمۃ استعمال ظروف فناجین القھوۃ والساعات من الذھب والفضۃ“

یعنی علامہ الوانی نے فرمایا کہ سونے چاندی کا استعمال ممنوع ہے،اس لئے کہ اصل اس باب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ارشاد ہے :یعنی سونا چاندی دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں،البتہ ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد ’’حل لاناثھم‘‘سے مراد وہ سونا چاندی ہے، جو عورتوں کے لئے بطور زیور ہو،تو پھر اس کے علاوہ باقی سونا چاندی خواہ بالذات استعمال کیا جائے یا بالواسطہ ،اپنی حرمت پر رہے گا۔علامہ نوح نے اسی کو برقرار رکھا اورمطلق حدیثوں سےاس کی تائید کی جو اس باب میں وارد ہوئی ہیں۔ لہٰذا اس سے قہوہ کی پیالیوں اور سونے چاندی کی گھڑیوں کی حرمت معلوم ہوئی۔(حاشیہ الطحطاوی علی رد المحتار، کتاب الحظر واباحت ، جلد 4 ، صفحہ 174 ، دار المعرفۃ بیروت)

فتاوی رضویہ میں امامِ اہلسنت الشاہ امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سونے چاندی کی گھڑیوں اور چراغ کے بارے میں پوچھا گیا،تو آپ نے فرمایا:

’’دونوں ممنوع ہیں۔“(فتاوی رضویہ،جلد22،صفحہ145،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

’’سونے کی گھڑی یاچاندی کی گھڑی میں وقت دیکھنا مردوعورت سب کو حرام ہے ۔‘‘(فتاوی رضویہ،جلد22،صفحہ129، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بہار شریعت میں ہے:

’’چائے کے برتن سونے چاندی کے استعمال کرنا ناجائز ہے۔ اسی طرح سونے چاندی کی گھڑی ہاتھ میں باندھنا بلکہ اس میں وقت دیکھنا بھی ناجائز ہے، کہ گھڑی کا استعمال یہی ہے کہ اس میں وقت دیکھا جائے۔(بہار شریعت ،جلد3،،حصہ 16،صفحہ396 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

14 ذی الحجہ 1445ھ21 جون 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں