امانت کی چیز کہیں رکھ کر بھول گیا تو اس پر تاوان کا حکم

امانت کی چیز کہیں رکھ کر بھول گیا تو اس پر تاوان کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید جو کہ دینی کاموں کے لیے چندہ جمع کرتا ہے،اس کے پاس چندہ کی رقم تھی ۔ زید کہتا ہے وہ رقم ایک شاپر کے اندر تھی اور جب میں عصر کی نماز کے بعد فارغ ہوا تو وہ شاپر میرے ہاتھ میں ہی تھا۔ پھر وہ شاپر میں نےگھر کے علاوہ کہیں رکھ دیا اور یہ یاد نہیں کہ کہاں رکھا ہے ۔ اب تلاش کے باوجود وہ شاپر نہیں مل رہا ۔ اس صورت میں کیا زید پر تاوان ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

بیان کی گئی صورت میں زید پر اتنی رقم کا تاوان ہوگا۔ کیونکہ چندہ کی رقم چندہ جمع کرنے والے کے پاس امانت ہوتی ہے جس کی حفاظت اس پر لازم ہوتی ہے اور امانت کو اگر محفوظ جگہ یعنی گھر وغیرہ میں رکھے اور بعد میں اگرچہ بھول جائے تو اس صورت میں تاوان نہیں لیکن گھر کے علاوہ کہیں رکھے اور کہے کہ پتہ نہیں کہاں رکھا ہے تو تاوان ہو گا ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے

”وأما حکمھا فوجوب الحفظ علی المودع وصیرورۃ المال أمانۃ فی یدہ “

ترجمہ اس کا حکم یہ ہے کہ مودع(امانت رکھنے والے) پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہےاور چیز اس کے ہاتھ میں امانت ہو گئی ۔( فتاوی ھندیہ، جلد 4 ، کتاب الودیعۃ ،ص 342، اسلامی کتب خانہ ،لاہور)

فتاوی قاضی خان میں ہے

”وقال الفقیہ أبو لیث رحمہ الله تعالی ان قال وضعت الودیعۃ فی داری فنسیت المکان لا یکون ضامناً ولو قال لا ادری وضعتھا فی داری أو فی موضع آخر کان ضامناً وھکذا روی عن أبی یوسف رحمہ الله تعالی ولو قال وضعت الودیعۃ فی مکان بین یدی ثم قمت فنسیتھا أو قال سقطت منی قال الفقیہ ابوبکر البلخی رحمہ الله تعالی یضمن وقال الفقیہ أبو لیث رحمہ الله تعالی ان قال سقطت منی لا یضمن“

ترجمہ:فقیہ أبو لیث سمرقندی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اگر مودع نے کہا میں نے ودیعت اپنے گھر میں رکھی تھی لیکن میں جگہ بھول گیا ہوں مودع ضامن نہیں ہو گا ۔اور اگر کہا مجھے پتہ نہیں گھر میں رکھی ہے یا کسی اور جگہ تو اس صورت میں ضامن ہو گا ایسے ہی امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ سے روایت کیا گیا ہے اور اگر کہتا ہے میں نے اپنے سامنے والی جگہ ودیعت کو رکھا تھا پھر میں اٹھا اور بھول گیا یا مجھ سے گر گئی ابوبکر بلخی فرماتے ہیں ضامن ہو گا جبکہ أبو لیث فرماتے ہیں گرنے والی صورت میں ضامن نہیں ہو گا ۔(فتاوی قاضی خان ،جلد 3، کتاب الودیعۃ ، فصل فی ما یضمن المودع ، صفحہ 262 ، مکتبہ رشیدیہ ،کوئٹہ )

المحیط البرہانی میں ہے

’’إذا وضع الودیعۃ فی مکان حصین فنسی اختلف المشایخ فیہ: قال بعضہم: یضمن، وقال بعضہم: لا یضمن؛ قال الصدر الشہید: والمختار أنہ إذا قال: وضعت فی داری، فنسیت المکان لا یضمن؛ لأن لہ أن یضع فی دارہ، وإن قال: لا أدری وضعت فی داری أو فی موضع آخر یضمن؛ لأنہ لا یدری أنہ وضع فی موضع لہ ولایۃ الوضع‘‘

ترجمہ:کوئی شخص امانت محفوظ مکان میں رکھ کر بھول گیا تو اس بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے بعض نے فرمایا اس پر تاوان ہوگا اور بعض نے فرمایا کہ نہیں ہوگا ۔ صدر الشہید(علیہ الرحمہ )نے فرمایا:مختار یہ کہ ہے کہ اگر وہ یہ کہے کہ میں نے اپنے گھر میں رکھی تھی پھر وہ میں وہ جگہ بھول گیا ہوں تو اس پر تاوان نہیں کیونکہ اس کو گھر میں رکھنے کا اختیار تھا۔ اور اگر وہ کہے کہ میں مجھے معلوم نہیں کہ میں گھر میں رکھی یا کسی دوسری جگہ رکھی تو اس پر تاوان ہو گا کیونکہ وہ جانتا ہی نہیں کہ اس نے ایسی جگہ رکھی تھی جہاں اسے رکھنے کا اختیار تھا۔ (المحیط البرہانی ،کتاب الودیعۃ، الفصل الرابع، جلد5، صفحہ533، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

بہارشریعت میں ہے:

” مودَع کہتا ہے ودیعت میں نے اپنے سامنے رکھی تھی بھول کر چلا گیا ضائع ہو گئی اس صورت میں تاوان دینا ہو گا اور اگر کہتا ہے مکان کے اندر چھوڑ کر چلا گیا اور ضائع ہو گئی اگر وہ جگہ حفاظت کی ہے اس قسم کی چیز وہاں بطورِ حفاظت رکھی جاتی ہے تو تاوان نہیں ۔“( بہا شریعت ، جلد 3 ، حصہ 14 ،ودیعت کا بیان ، صفحہ 50 ، مکتبۃ المدینہ ،کراچی )

واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ابوبکر نیلمی

30 1 2023

اپنا تبصرہ بھیجیں