بی بی فاطمہ کا معجزہ پڑھنے ،امام حسین کا فقیر بننے کی منت کا حکم

بی بی فاطمہ کا معجزہ پڑھنے ،امام حسین کا فقیر بننے کی منت کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ منت کے حوالے سے شرعی راہنمائی درکار ہے کہ آجکل کئی منتیں عوام میں رائج ہیں جیسے بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے معجزہ پڑھانے کی منت،امام حسین کا فقیر بنانےکی منت (اس کاطریقہ کاریہ ہوتاہے کہ ایک سال تک اس بچے کولوگوں سے مانگ کرکپڑے پہنائے جاتےہیں )یونہی مزارات پر منت مانی جاتی ہے کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو مزار پر دیگ تقسیم کروں گا وغیرہ۔ ان منتوں کا شرعی کیا حکم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

شریعت کا اصول ہے کہ ایسے کام کی منت ماننا جسکی جنس سے کوئی فرض یا واجب نہ ہو وہ منت لازم نہیں ہوتی بلکہ شرعی منت وہ ہے جس کی قبیل سے کوئی فرض یا واجب ہو۔ لہٰذا سوال میں بیان کی گئی مروجہ منتیں شرعی منتیں نہیں ہیں بی بی فاطمہ رضی اللہ عنھا کے معجزہ پڑھانے کی منت منگھڑت ہے اسکی منت ماننا منع ہے اور ایسی منگھڑت کہانیاں سننا گناہ ہے ۔ پھر معجزہ نبی علیہ السلام کے ساتھ خاص ہوتا ہے صحابی یا ولی کے خلاف عادت فعل کو کرامت کہاجاتا ہے۔ لہٰذا حضرت علی وحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہمایا دیگر مبارک ہستیوں کے خود ساختے معجزے پڑھنے کی شرعا اجازت نہیں،ان کی جگہ انہیں ایصالِ ثواب پہنچانے کے لئے قرآن خوانی کرسکتے ہیں۔

امام حسین کا فقیر بنانے کی منت بھی شریعت کے خلاف ہے ایسی منت ماننا سراسر جہالت ہے اور اسے پورا نا کیا جائے۔یوں لوگوں سے مانگنا ناجائز وحرام ہے۔ مزار پر دیگ والی منت اگرچہ شرعی منت نہیں لیکن ایک اچھا کام ہے کر لیں تو بہتر ہے نہ کرنے پر کوئی گناہ اور کفارہ نہیں ۔

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

”فما كان من جنسه عبادة أوجبها الله تعالى صح نذره وإلا لا“

ترجمہ:تو جس کی جنس سے کوئی ایسی عبادت کو جسے اللہ نے لازم کیا ہے تو اسکی منت درست ہو گی وگرنہ نہیں ۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح،کتاب الصوم،باب ما یلزم الوفاء به، صفحہ 693،دارالکتب العلمیہ،بیروت)

مجمع الانہرمیں ہے:

”لم يلزم الناذر ما ليس من جنسه فرض“

ترجمہ:جس کی جنس سے فرض نہ ہووہ منت ماننے والے پر لازم نہیں ہوتی۔ (مجمع الانھر،کتاب الأیمان،فصل حروف القسم،جلد1،صفحہ547،دار احیاء التراث العربی)

مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ من گھڑت روایات کی منت کے حوالے سے فرماتے ہیں:

”غلط اور جھوٹی روایتوں کا پڑھنا منع ہے پڑھنے والے اور سننے والے دونوں گنہگار ہونگے۔“ (بہارشریعت،جلد2،حصہ9،صفحہ321،مکتبۃ المدینہ کراچی)

فتاویٰ فقیہ ملت میں ان کہانیوں کے حوالے سے ہے :

”شہادت نامہ دس بیبیوں کی کہانی اور سولہ سیدوں کی کہانی اگر صحیح روایتوں پر مشتمل ہو تو اس کو پڑھنا اور پڑھوانا اچھا ہے اور اگر ان میں غلط اور جھوٹی روایتیں بیان کی گئی ہوں تو ان کا پڑھنا اور پڑھوانا جائز نہیں البتہ ان کتابوں کی منّت ماننا ضرور جہالت ہے۔اوردرج ذیل فتاویٰ جات میں بھی ایساہی مذکور ہے۔“(فتاویٰ فقیہ ملت جلد2صفحہ96،شبیر برادرز)

مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں:

”عَلَم اور تعزیہ بنانے اور پیک بننے اور محرم میں بچوں کو فقیر بنانے اور بدھی پہنانے اور مرثیہ کی مجلس کرنے اور تعزیوں پر نیاز دلوانے وغیرہ خرافات(یعنی بے ہودہ رسمیں ،الٹی سیدھی رسمیں ) جو روافض اور تعزیہ دار لوگ کرتے ہیں ان کی منّت سخت جہالت ہے ایسی منّت ماننی نہ چاہیے اور مانی ہو تو پوری نہ کرے اور ان سب سے بدتر شیخ سدّو کامرغا اور کڑاہی ہے۔۔۔۔۔۔ منّت مانا کرو تو نیک کام نماز، روزہ، خیرات، دُرود شریف، کلمہ شریف، قرآن مجید پڑھنے، فقیروں کو کھانا دینے، کپڑا پہنانے وغیرہ کی منّت مانو ۔“(بہارشریعت،جلد2،حصہ9،صفحہ321،مکتبۃ المدینہ کراچی)

مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشادفرماتے ہیں :

” کسی بچہ کو فقیر بنایا جاتا ہے اوس کے گلے میں جھولی ڈالتے اور گھر گھر اس سے بھیک منگواتے ہیں۔۔۔۔۔یہ سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں۔“(بہارشریعت،جلد3،حصہ16،صفحہ647-646،مکتبۃ المدینہ،کراچی )

مزارات پر دیگ وغیرہ دینے کی منت ماننے کے متعلق بہار شریعت میں ہے:

”مسجد میں چراغ جلانے یا طاق بھرنے(مسجد یامزار کے طاق میں چراغ جلاکرپھول وغیرہ چڑھانا) یا فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھانے یا گیارھویں کی نیاز دِلانے یا غوث اعظم رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کا توشہ (کسی ولی یابزرگ کی فاتحہ کاکھاناجوعرس وغیرہ کے دن تقسیم کیاجاتاہے۔)یا شاہ عبدالحق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کا توشہ کرنے یا حضرت جلال بخاری کا کونڈا کرنے یا محرم کی نیاز یا شربت یا سبیل لگانے یا میلاد شریف کرنے کی منّت مانی تویہ شرعی منّت نہیں مگر یہ کام منع نہیں ہیں کرے تو اچھا ہے۔“(بہارشریعت،جلد2،حصہ9،صفحہ320،مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ:

انتظار حسین مدنی کشمیری

مؤرخہ: 4 رجب المرجب 1444/ 27 جنوری 2023 بروز جمعۃ المبارک

اپنا تبصرہ بھیجیں