یا اللہ کریم جب ہمیں تیری رحمت کی ضرورت ہو ہمیں بُھول نہ جانا،یقیناً تو بھولتا نہیں۔ مذکوہ الفاظ کے ساتھ دعا مانگنا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے دعا کے وقت یہ کلمات کہے ”یا اللہ کریم جب ہمیں تیری رحمت کی ضرورت ہو ہمیں بُھول نہ جانا،یقیناً تو بھولتا نہیں“تو حُکم شریعت کیا ہوگا ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
بلا شبہ بھولناایک عیب ہے اور اللہ پاک کی ذات پاک وبے عیب ہے اور جو الله تعالیٰ کی ذات میں عیب ونقصان کا شائبہ بھی مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن اس قائل اور تمام مسلمانوں کے بارے میں یہ حسن ظن رکھنا چاہیے کہ ان کا یہ عقیدہ نہیں ہو گا اور یہاں قائل نے بھولنے کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا ہو گا کہ مہربانی والا معاملہ ترک نہ کرنا۔ لیکن پھر بھی اس طرح کے کلمات نہیں بولنے چاہئیں۔
قرآن مجید میں الله پاک فرماتا ہے
” لا یضلّ ربی ولا ینسی “
ترجمہ کنزالایمان: میرا رب (عزّ وجلّ ) نہ بہکے نہ بھولے۔(پارہ 16، طہٰ 52)
فتاوی اجملیہ میں شرح تیجان کے حوالے سے ہے
“یجب ان یعتقد اجمالا انہ تعالیٰ متصف بجمیع الکمالات التی لا یحصھا الااللہ تعالی وانہ متنزہ عن جمیع النقائص “
ترجمہ:ضروری ہے کہ اجمالاً یہ عقیدہ رکھا جائے کہ الله پا ک تمام ایسے کمالات کے ساتھ متصف ہے جو الله کے علاوہ کسی اور کے ساتھ خاص نہیں اور وہ تمام نقائص سے پاک ہے ۔( فتاوی اجملیہ ،جلد 1، کتاب العقائد ،ص 24 ،شبیر برادرز)
فتاوی عالمگیری میں ہے
“یکفر اذا وصف الله تعالیٰ بما لایلیق بہ او سخر باسم من اسمائہ أو امر من اوامرہ او نسبہ الی الجھل اوالعجز او النقص “
ترجمہ: تکفیر کی جائے گی اس بندے کی جس نے الله کے لئے کوئی ایسی صفت بیان کی جو اس کے شایانِ شان نہیں یا اس کے ناموں میں سے کسی نام کے ساتھ تمسخر کیا یا اس کے اوامر میں سے کوئی امر یا اس کی نسبت جھالت کی طرف کی عجز یا نقصان کی طرف کرے ۔(فتاوی عالمگیری، جلد2 کتاب السیر ،باب احکام المرتدین، ص 258 ، اسلامی کتب خانہ لاہور)
اسی میں ایک دوسرے مقام پر ہے
“لو قال لرجل لا یمرض ھذا نسی الله تعالیٰ أو قال ھذا مما نسیہ فھذا کفر عند بعضھم وھو الأصح”
ترجمہ: ایک بندےنے کسی کے متعلق کہا یہ اس لئے بیمار نہیں ہوتا کہ الله اس کو بھول چکا ہے یا کہا یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کو الله بھول چکا ہے اصح قول کے مطابق ایسا کہنا کفر ہے۔( فتاوی عالمگیری ،جلد 2 کتاب السیر ،باب احکام المرتدین ، ص 259 ،اسلامی کتب خانہ لاہور)
فتاوی تاج الشریعہ میں ہے:
” الله تعالی ہر عیب ونقص سے وجوبًاازلاً وابداً منزہ ہے اسے ہر عیب سے منزہ جاننا ضروریات دین سے ہے جو الله رب العزت کو کسی عیب سے موصوف جانے منکرِ تنزیہ وتقدیس باری ہو وہ کھلا کافر وبد دین ہے ۔“( فتاوی تاج الشریعہ، جلد 1 ص 151 ،عقائد متعلقہ ذات وصفات باری تعالی ، اکبر بک سیلرز)
حدیث پاک میں ہے
” ایاک وما یسوء الاذن “
ترجمہ:ایسی بات کرنے سے بچو جس کو کان ناپسند کریں ۔(مسند احمد بن حنبل 5 713 )
فتاوی شارح بخاری میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے :
” بھول جانے کی نسبت الله تعالیٰ کی طرف کرنا کفر ہے کہ اس کو جہل لازم ہے ،اور غفلت بھی الله عزوجل اس سے منزہ ہے لیکن اردو میں بھول جانے کے معنی مہربانی نہ کرنا بھی آتا ہے ،اور مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنا لازم ہے اس لئے اس کے کلام کو اچھے محل پر حمل کرنا ضروری اس لئے بطور حسن ظن یہی کہیں کہ شاعر کی مراد یہی ہے ،مگر جب اس کا معنی حقیقی کفر ہے تو اچھے معنی مراد لے کر بھی الله تعالیٰ پر اس کا اطلاق جائز نہیں ہو گا علماء نے لکھا ہے ” مجرد ایھام المعنی کاف للمنع۔ “(فتاوی شارح بخاری ،جلد 1 ،عقائد متعلقہ ذات وصفاتِ مکتبہ برکات المدینہ ،لاہور)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی الله علیہ وسلم
ابوبکر نیلمی
20 1 2023