وراثت کی تقسیم(والد، والدہ، بیوہ ، تین بیٹیاں ،ایک بہن )

وراثت کی تقسیم(والد، والدہ، بیوہ ، تین بیٹیاں ،ایک بہن )

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رانا مختیار کا جون 2020میں انتقال ہو ا ،اس نےورثا٫ میں ماں (نیکاں )،باپ (وکیل )،ایک بیوی(آسیہ ) ،تین بیٹیاں(راشدہ ،طاہرہ اورخالدہ ) اورایک بہن(مریم بی بی ) چھوڑی،جبکہ اس کا کوئی بیٹا نہیں ہوا۔اس کی وراثت ابھی تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ اس کے والدراناوکیل کا13 دسمبر 2020 کوانتقال ہو گیا ،اس نے ورثا٫ میں ایک زوجہ(نیکاں )،ایک بیٹی(مریم )، تین پوتیاں(راشدہ ،طاہرہ اورخالدہ ) اور دو بھائی(خلیل اورسخاوت ) چھوڑے، جبکہ اس کے والدین ،دادا،دادی اورنانی اس کی زندگی میں ہی وفات پاگئے تھے۔نیز وکیل کا مختیار کے علاوہ کوئی بیٹا نہیں تھا،شرعی رہنمائی درکارہے رانامختیارکی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں کفن دفن ، قرض کی ادائیگی اور جائز وصیت ہو تو تہائی میں پورا کرنے کے بعد رانا مختیار کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے کل 972 حصہ کریں ،جن میں سے نیکاں کو 162 حصے ،آسیہ کو 108 حصے ، اس کی تمام بیٹیوں (راشدہ ،طاہرہ اورخالدہ ) میں سے ہر ایک کو 200حصے، مریم کو 72 حصے ،اور سخاوت اور خلیل میں سے ہر ایک کو 15 حصے دیے جائیں گے ۔

قرآن مجید میں اولاد کی موجودگی میں بیوہ کا حصہ :

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-

ترجمہ : پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے (یہ حصے) اس وصیت کے بعد (ہوں گے) جو وصیت تم کر جاؤ اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے۔)

(( پارہ 4، سورہ نساء ،آیت نمبر 12))

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهم ، ترجمہ اور زوجہ کے لئے چوتھا حصہ ہے اولاد کی عدم موجودگی میں اور اولاد کے ساتھ آٹھواں ۔

((…’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد6 ،صفحہ 450۔))

قرآن مجید میں والدین کا حصہ ہے:

وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-

ترجمہ:اوراگر میت کی اولاد ہوتو میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے ترکے سے چھٹا حصہ ہوگا ۔

( پارہ 4، سورہ نساء،آیت نمبر 11)

فتاوی ہندیہ میں ماں کے احوال میں ہے:

الأم ولها ثلاثة أحوال: السدس مع الولد وولد الابن ۔

ترجمہ: ماں کے لئے تین احوال ہیں : (میت کی)اولاد یا بیٹے کی اولاد کی موجودگی میں چھٹا حصہ ہے ۔

( الفتاوی الہندیہ، کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد6،صفحہ449، دار الکتب العلمیہ،بیروت)

سراجی میں باپ کے احوال میں ہے:

أما الأب فلہ أحوال ثلاث ۔۔۔۔والفرض والتعصیب معاً ، وذالک مع الابنۃ أو ابنۃ الابن وان سفلت،

ترجمہ : بہر حال باپ کے تین احوال ہیں فرض(چھٹا حصہ) اور عصبہ دونوں میت کی بیٹی یا پوتی اگرچہ نیچے والے طبقہ میں ہو، کے ہوتے ہوئے ہو گا ۔

( سراجیہ ،صفحہ 18، مکتبۃ المدینہ کراچی)

صرف بیٹیوں کا حصہ قرآن مجید میں ہے:

فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-

ترجمہ : پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کے لئے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگا اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا حصہ ہے۔

(پارہ 4، سورہ نساء ،آیت 11)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

البنت ولھا النصف اذا انفردت و للبنتین فصاعدا الثلثان ۔

ترجمہ : ایک بیٹا کہ لئے آدھا ہے اور دو یا زیادہ بیٹیوں کے لئے دو تہائی ہے ۔

(فتاوی ہندیہ ،کتاب الفرائض ،جلد 6، صفحہ 448، مطبوعہ کوئٹہ)

پوتیوں کاحصہ سراجی میں ہے:

ولھن السدس مع الواحدۃ الصلبیۃ تکملۃ للثلثین ۔

ترجمہ : اور پوتیوں کو ایک حقیقی بیٹی کے ہوتے ہوئے چھٹا حصہ ملے گا دو ثلث کو پورا کرنے کے لیے ۔

(سراجیہ ، صفحہ 21، مکتبۃ المدینہ کراچی)

مختیار کی جائداد میں سے اس کی بہن محروم ہو جائے گی کہ والد کی موجودگی میں بھائی بہن سب محروم ہو جاتے ہیں ،

ہندیہ میں ہے:

یسقط الاخوۃ والأخوات بالابن و ابن الابن وان سفل و بالأب بالاتفاق ۔

ترجمہ : تمام بہن بھائی بیٹے پوتے اگرچہ نیچے تک ہو اور باپ کی موجودگی میں بالاتفاق محروم ہو جاتے ہیں ۔

(فتاوی ہندیہ ، کتاب الفرائض ،جلد6 ، صفحہ 450، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال۔

ترجمہ : وہ یعنی عصبہ ہر وہ فرد ہے جس کے لئے کوئی حصہ بیان نہیں کیا گیا اور یہ ذوی الفروض سے جو کچھ بچے گا وہ لے لے گا اور جب اکیلا ہو تو تمام مال لے لے گا ۔

((الفتاوی الھندیہ، الباب الثالث فی العصبات،جزء 6،صفحہ نمبر 500، دار الکتب العلمیہ،بیروت))

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وهو أن يموت بعض الورثة قبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي،

اور مناسخہ یہ ہے کہ ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے ہی بعض ورثہ کا انتقال ہو جانا ،اسی طرح محیط سرخسی میں ہے ۔

( الفتاوی الھندیہ ،کتاب الفرائض ،الباب الخامس عشر فی المناسخہ ، جلد 6، صفحہ 470، دار الکتب العلمیہ ،بیروت)

میت اولی مختیار

مسئلہ از 24 ع 27×3=81×12=972

م____________یت

بیوہ(آسیہ) والدہ(نیکاں) والد(وکیل) 3بیٹیاں(طاہرہ ، راشدہ،خالدہ) حقیقی بہن

۔1/8۔ 1/6 1/6+عصبہ 2/3۔ محروم

۔3۔ 4۔ 4۔ 16

۔3×3=9 ، 4×3=12،4×3=12، 16×3=48

۔ 9۔ 12۔ 12 لکل 16

۔9×12=108، 12×12=144 ، 16×12= 192

۔108 144۔ لکل192

میت ثانی ما فی الید 12

مسئلہ 24×6=144

م___________یت

بیوی(آسیہ) حقیقی بیٹی (مریم) 3پوتیاں(خالدہ،راشدہ،طاہرہ) 2بھائی(خلیل،سخاوت)

۔1/8۔ 1/2۔ 1/6۔ عصبہ (کل حصے)

۔ 3۔ 12۔ 4۔ 5

۔3×6=18، 12×6=72، 4×6=24 ، 5×6=30

۔18۔ 72۔ لکل 8 لکل 15

۔نیکاں 18+144=162

(خالدہ،راشدہ،طاہرہ )لکل 192+8=200

مورث اعلیٰ رانا مختیار

الأحیاء___المبلغ_____972

نیکاں ، آسیہ ، خالدہ، راشدہ، طاہرہ، مریم، سخاوت،خلیل

۔162، 108، 200، 200، 200، 72، 15، 15

واللہ ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ

ارشاد حسین عفی عنہ

18/01/2023

اپنا تبصرہ بھیجیں