کسی دوسرے شخص کی طرف سے قسم اٹھانے کا حکم

کسی دوسرے شخص کی طرف سے قسم اٹھانے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شرعاجس پر قسم لازم ہو وہ خود قسم نہ اٹھائے اور کسی کو اپنا نائب بنا دے جو اس کی طرف سے قسم کھائے تو کیا یہ جائز ہے یا اس کوخودہی حلف اٹھانا پڑے گا ؟آج کل پنچائیت میں یہ بات عام ہے کہ یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ فلاں نیک یا بااعتماد شخص اس بندے (جس پر الزام ہو)کے طرف سے قسم کھائے گا،یہ فیصلہ کرنا کیسا ہے اور اس نیک یا بااعتماد بندے کا قسم کھانا کیسا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

شرعاً جس پر قسم لازم ہو یعنی منکر(مدعی علیہ جس پر دعوی کیا گیا ہو) اسکا قسم اٹھانے کے لیے کسی کو نائب بنانا درست نہیں اور نا ہی ایسے نائب کے لیے قسم اٹھانا درست ہے ،بلکہ جس پر قسم لازم ہے اسے خود قسم اٹھانا ہو گی۔ جب کسی دوسرے کے حصے کی قسم اس کی طرف سے کھانا درست نہیں تو پنچائیت کے کہنے پر ازخود کسی کی طرف سے قسم اٹھانا بدرجہ اولی غیر شرعی عمل ہے کہ دوسرا بندہ کیسے یہ بات کہہ سکتا ہے کہ فلاں بے گناہ ہے ۔

دررالحکام میں ہے:

”(النیابۃ تجری فی الاستحلاف) یعنی یجوز ان یکون الشخص نائبا عن آخر لہ حق علی غیرہ فی طلب الیمین من المدعی علیہ أذا عجز عن اقامۃ البینۃ (لا الحلف) یعنی لا یجوز ان یکون شخص نائبا عن شخص آخر توجه علیہ الیمین لیحلف من قبله“

ترجمہ: قسم کا مطالبہ کرنے میں نائب بنانا جاری ہے۔ مصنف کی مراد یہ ہے کہ جائز ہے کہ کوئی خاص آدمی مدعی علیہ سے قسم طلب کرنے میں کسی ایسے دوسرے کا نائب بن جائے جس کا غیر پر کوئی حق ہو جب وہ گواہی قائم کرنے سے عاجز آ جائے ۔ قسم اٹھانے میں نائب بنانا جاری نہیں۔ مصنف کی مراد یہ ہے کہ یہ جائز نہیں کہ کوئی آدمی کسی ایسے دوسرے آدمی کا نائب بن جائے جس پر قسم اٹھانا لازم ہو چکا تاکہ وہ اس کی طرف سے قسم اٹھائے۔( درر الحكام شرح غرر الأحكام،کتاب الدعوی،ارکان الدعوی،جلد2،صفحہ337، دار أحیاء الکتب العربیہ)

در مختار میں ہے:

”(النيابة تجري في الاستحلاف لا الحلف) وفرع على الاول بقوله (فالوكيل والوصي والمتولي وأبو الصغير يملك الاستحلاف) فله طلب يمين خصمه (ولا يحلف) أحد منهم “

ترجمہ:قسم لینے کے لیے نائب بنانا جاری ہے نہ کہ قسم اٹھانے میں اور پہلی پر فرع بیان کی اپنے اس قول سے کہ پس وکیل اور وصی اور متولی اور چھوٹے بچے کاباپ قسم طلب کرنے کے مالک ہیں تو اس کے لیے جائز ہے کہ اپنے مخالف سے قسم طلب کرے اور ان لوگوں میں سے کوئی قسم نہیں اٹھا سکتا ۔( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار،کتاب الدعوی، صفحة 513 دارالکتب العلمیہ)

بہار شریعت میں ہے:

”حلف میں نیابت نہیں ہوسکتی کہ ایک شخص کی جگہ دوسرا شخص قسم کھا جائے استحلاف میں نیابت ہو سکتی ہے۔ یعنی دوسرا شخص مدعی کے قائم مقام ہو کر حلف طلب کرسکتا ہے مثلاً وکیل مدعی اور وصی اور ولی اور متولی کہ اگر یہ مدعی ہوں حلف کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور مدعیٰ علیہ ہوں تواُن پر حلف عائد نہیں ہوتا ہاں اگر ان پر دعویٰ ایسے عقد کے متعلق ہو جو خود ان کاکیا ہو یا انھوں نے اصیل پر کوئی اقرار کیا ہے اور اب انکار کرتے ہیں تو حلف ہوگا۔“(بہار شریعت،حلف کا بیان، جلد2، حصّہ13، صفحہ1037، مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ:

انتظار حسین مدنی کشمیری

مؤرخہ 12 جنوری 2023 برز جمعۃ المبارک

اپنا تبصرہ بھیجیں