وراثت کی تقسیم (بیوہ ، والد، والدہ ،3 بیٹے ، 3بیٹیاں )

وراثت کی تقسیم (بیوہ ، والد، والدہ ،3 بیٹے ، 3بیٹیاں )

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد یعقوب فوت ہوا۔ اس نے اپنے ورثا میں بیوی(صغری بی بی )،والد (رحمت علی )، والدہ(کرم بی بی)، 3 بیٹے(فاروق، ابوبکر، عثمان) اور تین بیٹیاں (شمیم ،رابعہ اور بازغہ) چھوڑیں۔ابھی اس کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ محمد یعقوب کے والد رحمت علی کا انتقال ہو گیا۔ اس نے اپنے ورثامیں بیوی(کرم بی بی)، ایک بیٹا(یٰسین) اور 4بیٹیاں(حسینہ بی بی ،حمیداں بی بی، رشیدہ بی بی، عزیزاں بی بی ) چھوڑیں۔جبکہ رحمت علی کے والدین، دادا، دادی اور نانی اس کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ابھی اس کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ رحمت علی کی بیوی کرم بی بی فوت ہو گئی۔اسنے اپنے ورثا میں دوسرے بطن میں مذکورہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہی چھوڑیں۔جبکہ اس کے والدین ،دادا،دادی اور نانی بھی اس کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ اس صورت میں محمد یعقوب کی وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

پوچھی گئی صورت میں قرض و وصیت کو پورا کرنے اور کوئی مانع ارث نہ ہونے کی صورت میں محمدیعقوب کے کل مال منقولہ و غیر منقولہ کو216پرتقسیم کریں گے۔اسکی بیوی صغری کو27،تینوں بیٹوں کو فی کس26،تینوں بیٹیوں کو فی کس13،بھائی یسین کو24،اور چاروں بہنوں کو فی کس 12 حصے دیے جائیں گے۔

قران پاک میں ہے: مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ ترجمہ:تقسیم کا ری وصیت اور دین کے بعد ہوگی۔ (القران،4/11)

قران پاک میں ہے: وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ ترجمہ:والدین میں سے ہر ایک کو میت کی اولاد کی موجودگی میں چھٹا حصہ ملتا ہے۔ (القران،4/11)

قران پاک میں ہے: وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ

ترجمہ: اور بیویوں کے لئے تمھارے ترکے میں سے چوتھائی اگر تمھاری اولاد نہ ہو ورنہ آٹھواں۔ (القران،4/12)

قران پاک میں ہے: لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ- ترجمہ:بیٹوں کو بیٹی سے دگنا ملے گا۔ (القران،4/11)

سراجی میں ہے: والعصبۃ کل من یاخذ ماابقتہ اصحاب الفرائض۔ ترجمہ:عصبہ وہ ہے جو اصحاب فرائض سے بچا ہوا مال لے جائے۔ (سراجی،ترتیب تقسیم الترکہ،ص9،مکتبہ بشری)

سراجی میں ہے:عصبۃ بنفسہ فکل ذکر لا تدخل فی نسبتہ المیت انثی۔۔۔۔جزء المیت ای البنون ثم بنوھم ترجمہ:عصبہ بنفسہ ہر ہو مرد کہ میت کی طرف نسبت کرتے ہوئے درمیان میں عورت نہ آئے جیسا میت کی اولاد یعنی بیٹے،انکے بعدپوتے۔ (سراجی،احوال عصبہ بنفسہ،ص36،مکتبہ بشری)

سراجی میں ہے: َّواما لبنات الصلب۔۔۔مع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وھو یعصبھن۔ ترجمہ:حقیقی بیٹی کے ساتھ جب بیٹاموجود ہو تو بیٹے کو دگنا ملے گا اور یہ بیٹی کو عصبہ بنالے گا۔ (سراجی،احوال بنات الصلب،ص19،مکتبہ بشری)

عالمگیری میں ہے:( المناسخة) وهو أن يموت بعض الورثة قبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي ترجمہ:مناسخہ یہ ہے کہ وراثت کی تقسیم کاری سے پہلے ہی بعض ارثوں کا انتقال ہوگیا۔

(ھندیہ،،کتاب الفرائض،مناسخہ،6/470،دارالفکر بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: دئیے۔ لیکن ان کے بعد بی جان فوت ہوئی اوروہی کلن اپنابھائی وارث چھوڑا چنانچہ ہم نے بی جان کوتقسیم سے نکال دیا اور کلن کے حصے پندرہ کردئیے۔ ان عجیب تصرفات کافائدہ اس مشقت میں کافی حد تک تخفیف کرناہے جومسئلہ کی تقسیم میں راہ پاتی ہے جیسا کہ معروف طریقہ پرچلنے والے شخص پر اس پسندیدہ طرز کے ساتھ موازنہ کرنے سے روشن ہوجاتاہے۔ (فتاوی رضویہ،16/146،لاہور)

محمد یعقوب:24×9=216

میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

صغری رحمت کرم فاروق،ابوبکر عثمان، شمیم،رابعہ ،بازغہ،

بیوی والد والدہ بیٹے بیٹیاں

1/8 1/6 1/6 عصــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ

3×9 4×9 4×9 13×9=117

27 (36) (36) 117

27 (36) (36) 26،26،26 13،13،13

رحمت علی وکرم بی: 6 (1) مفــ:72(12)

میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

یسین، حسینہ،حمیداں، رشیدہ، عزیزاں

بیٹا بیٹیاں

عصــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ

1×2=2 1 ،1، 1 ، 1

2×12 12×(1، 1 ، 1، 1)

24 12,12,12,12

مورث اعلٰی:یعقوب

الأحیــــــــــــــــــــــــــــــــــ المبلغ:216ــــــــــــــــــــــــــــــــــاء

صغری، فاروق،ابوبکر، عثمان،شمیم،رابعہ ،بازغہ، یسین،حسینہ،،حمیداں، رشیدہ،عزیزاں

27 26 26 26 13 13 13 24 12 12 12 12

تیمور احمد صدیقی

28.12.22

5جمادی الثانی 1444

اپنا تبصرہ بھیجیں