وراثت کی تقسیم (بیٹا اور دوبیٹیاں)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ سراداراں بی بی فوت فوت ہوئی۔ اس کے والدین، دادا دادی، نانی اور شوہر اس کی حیات ہی میں فوت ہو چکے تھے۔ اس کے ورثا میں ایک بیٹا (نصیر احمد) اور دو بیٹیاں (زبیدہ اور رضیہ) تھیں۔ ابھی وراثت تقسیم نہ ہوئی تھی کہ رضیہ بھی فوت ہو گئی۔ اس کے دادا دادی اور شوہر بھی پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔ اس کے ورثا میں ایک بیٹی (صائمہ)، ایک بھائی (نصیر بھائی) اور ایک بہن (زبیدہ) ہے۔ اس کی کوئی مذکر اولاد نہیں ہے۔ تقسیم وراثت کس طرح ہو گی؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سوال میں بیان کردہ صورتحال اگر درست ہے تو بعد از امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے خرچے پھر میت کے ذمے جو قرض ہے اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے اس کی ایک تہائی میں سے جائز وصیت اگر کی ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد) سرداراں بی بی کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے کل 24 حصے بنائیں جن میں سے 14 حصے نصیر احمد کو ، 7 حصے زبیدہ بی بی کو جبکہ 3 حصے صائمہ بی بی کو دے دیں ۔
یہ حصے قرآن مجید میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق نکالے گئے ہیں،چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ
جب بیٹیوں کے ساتھ بیٹا بھی ہو تو وہ بیٹیوں کو عصبہ بنا دے گا ، اور مال اس طرح تقسیم ہو گا کہ بیٹے کو بیٹی سے دگناہ دیاجائے گا ، قرآن مجید میں ہے کہ:
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-
ترجمہ :بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے ،
( پارہ 4، سورہ نساء ، آیت نمبر 11)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين،
ترجمہ : اور جب بیٹے اور بیٹیاں آپس میں مل جائیں تو بیٹے بیٹیوں کو عصبہ بنا دیتے ہیں ، تو ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہو گا ،
(’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد 6 ،صفحہ 449)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال۔
ترجمہ : وہ یعنی عصبہ ہر وہ فرد ہے جس کے لئے کوئی حصہ بیان نہیں کیا گیا اور یہ ذوی الفروض سے جو کچھ بچے گا وہ لے لے گا اور جب اکیلا ہو تو تمام مال لے لے گا ۔
(الفتاوی الھندیہ، الباب الثالث فی العصبات،جزء 6،صفحہ نمبر 500)
قرآن مجید میں بھائی اور بہنوں کے حصے کو اس طرح بیان کیا گیا کہ
وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِؕ
ترجمہ : اور اگر بھائی بہن ہوں (جن میں ) مرد بھی (ہوں ) اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا۔
( پارہ 6،سورہ نساء، آیت نمبر 176)
فتاوی ہندیہ میں حقیقی بہن کے احوال میں ہے کہ
الأخوات لأب وأم للواحدة ،،،،،،،،، ومع الأخ لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين
حقیقی بہنیں بھائی حقیقی بھائی کے ساتھ ہوں تو مرد کے لئے عورت سے دگنا ہے ،
( الفتاوی الھندیہ، الباب الثانی فی ذوی الفروض، جزء 6،صفحہ نمبر 500)
سراجی میں حقیقی بہن کے احوال میں ہے کہ
أما للأخوات لأب و أم ،،،،،مع الأخ لأب و أم للذكر مثل حظ الأثنين
ترجمہ : بہر حال حقیقی بہنیں حقیقی بھائی کے ساتھ ہوں تو مرد کے لئے عورت سے دگنا ہے
(السراجیۃ مع القمریۃ، فصل فی النساء ، صفحہ 24، مکتبۃ المدینہ کراچی)
خلاصۃ المیراث میں مناسخہ کا مسئلہ حل کرنے کا طریقہ ہے کہ
میت اول کا مکمل مسئلہ بنائیں یہ تصحیح اول ہو گی اور اس سے میت ثانی کو ملنے والے سہام کو مافی الید قرار دیں ، پھر میت ثانی کا مکمل مسئلہ بنائیں یہ تصحیح ثانی ہو گی ،
اس کے بعد تصحیح ثانی اور ما فی الید میں نسبت دیکھیں ، اگر دونوں میں تماثل ہو مسئلہ مکمل ہو گیا ، مزید کسی عمل کی حاجت نہیں ۔
اگر دونوں میں تباین ہو تو دونوں کا پورا پورا عدد محفوظ کر لیں اور توافق یا تداخل ہو تو دونوں کا وفق محفوظ کر لیں ،اس طرح دو محفوظ حاصل ہوں گے ، 1- تصحیح ثانی کا محفوظ 2- ما فی الید کا محفوظ ، اب مسئلے کی تکمیل کے لئے دو عمل درکار ہیں ،
پہلا عمل۔ تصحیح ثانی کے محفوظ کو تصحیح اول میں اور اوپر کے زندہ تمام وارثوں کے سہام میں ضرب دیں ۔
دوسرا عمل ۔ ما فی الید کے محفوظ کو میت ثانی کے وارثوں میں ضرب دیں ۔
(خلاصۃ المیراث، صفحہ نمبر 60، مکتبۃ المدینہ کراچی)
میت سرداراں بی بی
مسئلہ از4×6=24
می________ت
بیٹا( نصیر احمد)۔ بیٹیاں (زبیدہ،رضیہ)
۔۔ 2 1, 1
۔ 2×6=12 1×6= 6
میت رضیہ بی بی ، مافی الید 1
مسئلہ از 2×3=6
می________ت
بیٹی(صائمہ) بھائی(نصیر) بہن (زبیدہ)
۔۔ 1/2۔ عصبہ عصبہ( کل حصے3)
۔1×3=3 ( 1×3=3 )
۔۔ 3 2 1
(نصیر احمد) 2+12=14(زبیدہ) 6+1=7
الأحیاء____المبلغ___24
نصیر احمد، زبیدہ بی بی ، صائمہ بی بی
۔ 14 ، 7 ، 3
واللہ ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
ارشاد حسین عفی عنہ
21/12/2022