سلام پھیرنے سے پہلے ایک رکن کی مقدار خاموش بیٹھنے کا حکم

سلام پھیرنے سے پہلے ایک رکن کی مقدار خاموش بیٹھنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ درود پاک پڑھنے کے بعد سلام پھرنے سے پہلے ایک رکن جتنا خاموش بیٹھا رہا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہےکہ اگر سہوا یعنی بھول کر کچھ سوچنے کے لئے خاموش ہوا، اور کم از کم ایک رکن یعنی تین بار سبحان ﷲ کہنے کی مقدار تک خاموش رہا تو سجدہ سہو واجب ہوجائے گا اور اگر قصداً سوچنے کے لئے خاموش ہوا تو اب نماز کو لوٹانا واجب ہوگا، اور اگر خاموش ہونا بغیر وجہ کہ ہو تو تب بھی حکم کی یہی تفصیل ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

(“وإن طال تفكره” لتيقن المتروك “ولم يسلم حتى استيقن” المتروك “إن كان” زمن التفكر زائدا عن التشهد) أي الأول أو الثاني سواء كان بعد الفراغ من الصلاة والأدعية أو قبلهما قوله : ( وجب عليه سجود السهو ) إذا شغله التفكر عن أداء واجب بقدر ركن.”

ترجمہ: اگر چھوٹی ہوئی چیز کا یقین حاصل کرنے کے لئے غور وفکر طویل ہوگیا اور سلام پھیرنے سے پہلے یقین ہوگیا، اب اگر غور وفکر کا وقت تشھد اول یا ثانی سے زائد تھا چاہے یہ غور وفکر دعا ودرود سے فارغ ہونے کے بعد تھا یا پہلے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوجائے گا جبکہ غور وفکر کرنا اسے کسی واجب کی ادائیگی سے ایک رکن کی مقدار تک مشغول کردے۔

(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلاة، باب سجود السہو، صفحہ473، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

ردالمحتار میں ہے:

“في الظهيرية: لو شك بعد ما قعد قدر التشهد أصلى ثلاثًا أو أربعًا حتى شغله ذلك عن السلام، ثم استيقن و أتمّ صلاته فعليه السهو ا هـ. و علله في البدائع بأنه أخر الواجب وهو السلام ا هـ۔

ترجمہ: فتاوی ظہیریہ میں ہے کہ اگر تشھد کی مقدار بیٹھنے کے بعد رکعت کے تیسری یا چوتھی ہونے میں شک ہوا یہاں تک کہ اسی وجہ سے سلام میں تاخیر ہوگئی اور پھر ایک طرف دل جم گیا اور نماز مکمل کرلی تو اس پر سجدہ سہو لازم ہے۔ بدائع میں اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ اس نے واجب جو کہ سلام ہے اس کی ادائیگی میں تاخیر کردی ہے۔

(ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب سجود السہو، جلد2، صفحہ677۔677، دار المعرفۃ، بیروت)

علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

“الاصل فی التفکر انہ ان منعہ عن اداء رکن کقراءۃ آیۃ اوثلاث اورکوع اوسجود او عن اداء واجب کالقعود یلزمہ السھو لاستلزام ذلک ترک الواجب وھو الاتیان بالرکن او الواجب فی محلہ وان لم یمنعہ عن شیء من ذلک بان کان یودی الارکان ویتفکر لایلزمہ السھو”.

یعنی: سوچنے میں اصل یہ ہے کہ اگر یہ رکن کی ادائیگی سے مانع ہو، جیسے ایک یا تین آیتوں کی قراءت، یا رکوع، سجود سے روکے یا پھر واجب کی ادائگی سے مانع ہو، جیسے قعود توسجدہ سہو لازم ہوگا، اس لیے کہ یہ چیز ترک واجب کو لازم کرتی ہے اور وہ رکن یا واجب کواس کے محل میں اداکرنے کا واجب ہے، ہاں اگر سوچنا ان دونوں سے مانع نہ ہواس طرح کہ وہ نمازی ارکان سوچتے ہوئے ادا کرے توسجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔

(ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو جلد02، صفحہ677، دار المعرفۃ، بیروت)

صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ: زید نے فرض کی نیت کی اور دیر تک خاموش رہا تھوڑی دیر بعد اس کو یاد آیا، تو الحمد شریف زور سے شروع کیا، تو ایسی حالت میں سجدہ سہو ہوگا یا نہیں؟ آپ علیہ الرحمۃ اس کے جواب میں فرماتے ہیں:

“اگر زید ثناء وغیرہ کے بعد سوچتا رہا کہ کیا پڑھوں اور اتنا وقفہ اس تفکر میں ہوا کہ ایک رکن ادا کرلیتا یعنی تین بار سبحان ﷲ کہنے کے برابر وقفہ کیا، تو سجدہ سہو واجب ہے۔ رد المحتار میں ہے:”ثم الاصل فی التفکر انہ ان منعہ عن اداء رکن ۔۔۔۔الخ۔”

(فتاوی امجدیہ، کتاب الصلاة، باب سجود السہو، جلد1، صفحہ282، مکتبہ رضویہ، کراچی)

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:

سکوت اتنی دیر کیا کہ تین بار سبحان ﷲ کہہ لیتا، تو یہ سکوت اگر بر بنائے تفکر تھا کہ سوچتا رہا کہ کیا پڑھوں، تو سجدہ سہو واجب ہے، اگر نہ کیا، تو اعادہ نماز کا واجب ہےاور اگر وہ سکوت عمداً بلا وجہ تھا، جب بھی اعادہ واجب۔

(فتاوی رضویہ، جلد08، صفحہ192، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

واللّٰه تعالی أعلم بالصواب۔

کتبه: ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی۔

نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری۔

️مؤرخہ 22جمادی الاولی 1444ھ بمطابق 17دسمبر 2022ء، بروز ہفتہ

اپنا تبصرہ بھیجیں