وراثت کی تقسیم (ایک بیٹا ، دوبیٹیاں)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سید محمد فوت ہوئے ،ان کے والدین ،دادا دادی ،نانی اور بیوی پہلے فوت ہوگئی تھی، ان کی اولاد میں ایک بیٹا (محمد رمضان )اور دوبیٹیاں(رابعہ بی بی ،آمنہ بی بی ) تھیں،ان کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ محمد رمضان فوت ہوگئے، ان کی نانی بھی پہلے ہی فوت ہوچکی تھی ،ان کی شادی ہوئی تھی لیکن تقریبا 20 سال قبل بیوی کو طلاق دیدی تھی اور اس کی عدت بھی گزگئی تھی ،ان کی کوئی اولاد نہ تھی ،ان کے ورثا میں دو بہنیں (رابعہ بی بی ،آمنہ بی بی )اور ان کے ایک چچا (محمد علی )زندہ تھے۔ان میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سوال میں بیان کردہ صورتحال اگر درست ہے تو بعد از امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے خرچے پھر میت کے ذمے جو قرض ہے اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے اس کی ایک تہائی میں سے جائز وصیت اگر کی ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد) سید محمد کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے کل 12 حصے کریں ، جن میں سے ہر بیٹی کو 5 ، جبکہ چچا کو 2 حصے ملیں گے ،
یہ حصے قرآن مجید میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق نکالے گئے ہیں، جب بیٹیوں کے ساتھ بیٹا بھی ہو تو وہ بیٹیوں کو عصبہ بنا دے گا ، اور مال اس طرح تقسیم ہو گا کہ بیٹے کو بیٹی سے دگناہ دیاجائے گا ، قرآن مجید میں ہے کہ:
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ- ترجمہ :بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے ،
( پارہ 4، سورہ نساء ، آیت نمبر 11)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين،
ترجمہ : اور جب بیٹے اور بیٹیاں آپس میں مل جائیں تو بیٹے بیٹیوں کو عصبہ بنا دیتے ہیں ، تو ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہو گا ،
(’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد 6 ،صفحہ 449)
قرآن مجید میں ہے
فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ
ترجمہ ، پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کے لئے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگا ،
( سور نساء ، آیت 12)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
الأخوات لأب وأم للواحدة النصف وللثنتين فصاعدا الثلثان،۔ ترجمہ : حقیقی بہنیں اگر ایک ہو تو نصف اور اگر دو یا دو سے زائد ہو تو دو تہائی ملے گا ،
(فتاوی ہندیہ،کتاب الفرائض ، باب ذوی الفروض، جزء نمبر 6، صفحہ نمبر 500)
بہار شریعت میں ہے کہ
اگر بیٹیاں دو یا دو سے زائد ہوں تو ان سب کو دو تہائی ملے گا اور ان میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔
(بہار شریعت،جلد سوئم،حصہ20، صفحہ نمبر1127، مکتبۃ المدینہ کراچی)
فتاوی ہندیہ میں عصبات کی چوتھی قسم ہے کہ
ثم العم لأب وأم ، ترجمہ اور پھر حقیقی چچا ہے ۔
( فتاوی ہندیہ، الباب الثالث فی العصبات، جزء 6، صفحہ نمبر501)
بہار شریعت میں عصبات کے بیان میں ہے کہ
چوتھی قسم: میت کے دادا کا جزء یعنی چچا پھر انکی مذکر اولاد در اولاد (نیچے تک)
( بہار شریعت ،باب العصبات ،جلد3، صفحہ نمبر 1236، مکتبۃ المدینہ کراچی)
مسئلہ از 4×3=12
میت__محمد سید___
بیٹا(رمضان) بیٹی(رابعہ) بیٹی(آمنہ)
۔ 2 3=1×3 3=1×3
5=3+2 ۔ 5=3+2
میت (محمد رمضان) ما فی الید 2
مسئلہ کی تصحیح 3
میت _رمضان _____
بہن(رابعہ) بہن (آمنہ)۔ چچا(محمد علی)
۔۔ 2=2×1۔ 2=2×1 2=2×1
مورث اعلیٰ سید محمد
الأحیاء___المبلغ_____12
رابعہ بی بی آمنہ بی بی سید محمد علی
.۔۔ 5 5 2
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
ارشاد حسین عفی عنہ
14/12/2022