حاشر نام رکھنے کا حکم
کیا بچے کا نام حاشر رکھ سکتے ہیں؟اور اس کا مطلب کیا ہے۔
بسم الله الرحمن الرحیم
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ
اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
حاشر نام رکھنا جائز ہے، حدیث پاک میں انبیاء کرام علیہم السلام کے اسماء مبارکہ پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، اور “حاشر” ہمارے پیارے نبی پاک علیہ السلام کا اسم مبارک ہے، اور یہ کوئی ایسا اسم بھی نہیں جو صرف آپ علیہ السلام کی ذات کے ساتھ خاص ہو نیز حاشر کا مطلب ” جمع یعنی اگٹھا کرنے والا ” ہے.
چنانچہ حدیث پاک میں ہے : ” قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تسموا بأسماء الأنبياء ” یعنی انبیاء کرام علیہم السلام کے ناموں پر اپنے نام رکھو.
[أبو داود، سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب فی تغییر الأسماء، ٢٨٧/٤]
صحیح مسلم شریف میں ہے : ” عن أبي موسى الأشعري، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمي لنا نفسه أسماء، فقال: «أنا محمد، وأحمد، والمقفي، والحاشر، ونبي التوبة، ونبي الرحمة» ” یعنی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اپنے نام پاک بتاتے تھے فرماتے تھے کہ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، مقفی ہوں، میں حاشر ہوں، میں توبہ کا نبی ہوں، میں رحمت کا نبی ہوں.
[صحيح مسلم، کتاب الفضائل ، باب فی أسمائہ صلی اللہ علیہ وسلم ، 4/1828]
ایک اور حدیث پاک میں ہے : ” عن نافع بن جبير بن مطعم، عن أبيه، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أنا محمد، وأحمد، والحاشر، والماحي، والخاتم، والعاقب» ” یعنی حضرت نافع بن جبير بن مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں محمد، احمد، حاشر، ماحی ،خاتم اور عاقب ہوں.
[أحمد بن حنبل، مسند أحمد مخرجا، مسند المدنیین ، حدیث جبیر بن مطعم، ٣٣٠/٢٧]
شعب الإيمان میں نبی پاک علیہ السلام کا فرمان مبارک ہے : ” إن لي خمسة أسماء: أنا محمد، وأنا أحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفار، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب، والعاقب ليس بعده نبي” یعنی بے شک میرے پانچ نام ہیں، میں محمد ہوں، حامد ہوں، میں ایسا ماحی ہوں کہ میرے ذریعے اللہ پاک کفار کو مٹاتا ہے، اور میں حاشر ہوں ایسا کہ لوگ میرے قدم پر جمع ہوتے ہیں، اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں.
[البيهقي، أبو بكر، شعب الإيمان، باب حب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ٥٢٣/٢]
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی
نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ
( مورخہ 7 دسمبر 2022، بمطابق 12 جمادی الاولی ، 1444ھ بروز بدھ )