بھول کر بغیر وضو نماز پڑھنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ بھول کر بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور بعد میں یاد آیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وضو کا ہونا یہ نماز کی شرط ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی، لہذا اگر کسی نے بھول کر بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور بعد میں یاد آیا تو اس کی نماز نہیں ہو گی۔ اسے یہ نماز دوبارہ پڑھنا ہو گی۔
اللہ تعالی نے نماز شروع کرنے سے پہلے وضو کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ” يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ “۔
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنے منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤ ں دھوؤ۔ ( سورۃ المائدہ، آیت 06، پارہ 06 ).
بخاری شریف میں ہے: ” قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تقبل صلاة من أحدث حتى يتوضأ» “۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی بے وضو کی نماز قبول نہیں کی جاتی جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے۔ ( صحيح البخاري، جلد 01، صفحہ 39، مطبوعہ دار طوق النجاۃ بیروت )۔
بنایہ میں ہے: ” وقال النووي: اجتمعت الأئمة على أن من صلى محدثا مع إمكان الوضوء فصلاته باطلة وتجب عليه الإعادة بالإجماع “۔
ترجمہ: امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: علماءِ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے خود کو باوضو گمان کرتے ہوئے نماز پڑھی حالانکہ وہ بے وضو تھا تواس کی نماز باطل ہے اوربالاجماع اس پر دوبارہ نماز پڑھنا واجب ہے ۔
( البناية شرح الهداية (جلد 02، صفحہ 368، مطبوعہ دار الكتب العلمية – بيروت، لبنان )۔
محیطِ برہانی میں ہے: ” والصلاة بغير وضوء لا تجوز“۔
ترجمہ: بغیر وضو کے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ ( المحيط البرهاني في الفقه النعماني، جلد 01، صفحہ 108، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان )۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبہ
سگِ عطار ابو احمد محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ
نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ
( مورخہ 10 جمادی الاولی 1444ھ بمطابق 05 دسمبر 2022ء بروز پیر )۔