ایمان سے یہ بات سچ ہے ،جملے سے قسم کا حکم ۔
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص کہتا ہے ایمان سے یہ بات سچ ہے،کیا یہ الفاظ قسم میں شمار ہوگا ؟کیا حکم شرعی ہوگا؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صورت مسؤلہ(پوچھی گئی صورت) میں یہ الفاظ قسم میں شمار نہیں ہوں گے کہ یہ الفاظ قسم میں استعمال نہیں ہوتے،کیونکہ قسم کا رکن یہ ہے کہ ایسے الفاظ کے ساتھ قسم ہو جو قسم میں استعمال ہونے والے ہوں جیسے اللہ عزّوجلّ کے اسماے مبارکہ میں سے جس بھی اسم کے ساتھ قسم کھائی جائے خواہ بول چال میں اس اسم کے ساتھ قسم عام ہو یا عام نہ ہو، وہ الفاظ قسم میں شمار ہوگا اور اسی طرح کسی نے کہا میں قسم کھاتا ہوں، میں شہادت دیتا ہوں، خدا گواہ ہے، مجھ پر قسم ہے، ان مذکورہ بالا قسم کے الفاظ سے بھی اگر کسی نے قسم کھائی تو وہ حالف(قسم کھانے والا) کہلائے گا،اور اسی طرح حروف واو، با، تا، اور لام بھی قسم کے لیے ہیں اگر کسی نے ان حروف کے ساتھ قسم کھائی تو وہ قسم کھانے والاہو گا جیسے واللہ،باللہ، تاللہ ۔باقی اگر اس نے یہ الفاظ بول کر جھوٹ بولا تو اگرچہ یہ قسم کے الفاظ نہیں اور جھوٹی قسم کا گنا ہ نہیں ملے گا لیکن جھوٹ بولنے کا گناہ تو ہوگا۔
در مختار میں ہے
وركنها اللفظ المستعمل فيها،
ترجمہ:اور اس(قسم) کا رکن ایسا لفظ جو اس میں مستعمل ھوتا ہے۔(الدر المختار ج5,ص491 مکتبہ رحمانیہ)
البحر الرائق میں ہے
وَرُكْنُهَا اللَّفْظُ الْمُسْتَعْمَلُ فِيهَا وَشَرْطُهَا الْعَقْلُ وَالْبُلُوغُ
ترجمہ:اور اس(قسم) کا رکن ایسا لفظ جو اس میں مستعمل ھوتا ہے,اور اس کی شرط عقل اور بلوغ ہے۔[ابن نجيم، البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، ٣٠٠/٤]
النھر الفائق میں ہے
وركنها اللفظ المستعمل فيها، وشرطها كون الحالف مسلما
ترجمہ:اور اس(قسم) کا رکن ایسا لفظ جو اس میں مستعمل ھوتا ہے,اور اس کی شرط حالف کا مسلمان ھونا ہے۔[ابن نجيم، سراج الدين، النهر الفائق شرح كنز الدقائق، ٤٨/٣]
علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں
وَالْقَسَمُ بِاَللَّهِ تَعَالَى أَوْ بِاسْمٍ مِنْ أَسْمَائِهِ كَالرَّحْمَنِ وَالرَّحِيمِ وَالْحَقِّ أَوْ بِصِفَةٍ يُحْلَفُ بِهَا مِنْ صِفَاتِهِ تَعَالَى كَعِزَّةِ اللَّهِ وَجَلَالِ اللَّهِ وَكِبْرِيَائِهِ وَعَظَمَتِهِ وَقُدْرَتِهِ،
ترجمہ: اور قسم اللہ تعالی کی ہوتی ہے یا اس کے ناموں میں سے کسی نام سے جیسے رحمٰن اور رحیم، یا اس کی صفتوں میں سے کسی صفت سے جیسے اللہ کی عزت کی قسم، اس کی جلال، کبریائی، عظمت یا اس کی قدرت کی قسم۔[ابن عابدين، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، ٥٥٥/٥]
علامہ حصکفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں
القسم أيضا بقوله (أقسم أو أحلف أو أعزم أو أشهد) بلفظ المضارع، وكذا الماضي بالاولى كأقسمت،
ترجمہ:اقسم، احلف، اعزم اور اشھد مضارع کے ان الفاظ سے بھی قسم کھائی تو قسم کھانے والا ہوگا اور یہی حکم فعل ماضی کا بھی ہے جیسے اقسمت وغیرہ۔ [علاء الدين الحصكفي، الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، صفحة ٢٨١]
العنايه شرحِ الھدایہ میں ہے
وَالْحَلِفُ بِحُرُوفِ الْقَسَمِ، وَحُرُوفُ الْقَسَمِ الْوَاوُ كَقَوْلِهِ وَاَللَّهِ وَالْبَاءُ كَقَوْلِهِ بِاَللَّهِ وَالتَّاءُ كَقَوْلِهِ تَاللَّهِ)
ترجمہ: اور قسم حروف قسم کے ساتھ ہوتی ہے اورحروف قسم واؤ جیسے وَاَللَّهِ وہ باء جیسے بِاَللَّهِ اور تاء جیسےتَاللَّهِ۔[البابرتي، العناية شرح الهداية، ٦٩/٥]
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبہ محمد یاسر عباسی
مورخہ02/دسمبر/2022