اجتہادی خطا کسے کہتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام،صحابہ کرام اور اہل بیت کا اجتہاد
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بار ے میں اجتہادی خطا کسے کہتے ہیں؟انبیاء علیہم السلام ،صحابہ کرام اور اہل بیت کا اجتہاد اور اس میں خطا ممکن ہے یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق اجتھاد کا معنی کوشش کے ہے یعنی کہ مجتھد اپنے قیاس کے ذریعے سے قرآن وحدیث کی روشنی میں ان مسائل کا استنباط و استخراج کرتا ہے کہ جن کا حکم قرآن وحدیث میں واضح طور پر موجود نہیں ہوتا مجتھد کا اجتھاد اگر درست ہو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے ایک تو اجتھاد کا دوسرا درست فیصلہ کرنے کا اور اگر مجتھد کے اجتھاد میں خطاء واقع ہو تو وہ پھر بھی اسے ایک اجر ملے گا اجتھاد کرنے کا اور اسے ہی اجتھادی خطاء کہتے ہیں انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت علیہم الرضوان بھی درجہ اجتھاد پر فائز تھے اور اجتھادی خطاء صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی سرزد ہوئی ہے ۔اہل بیت سے اجتہاد اور اس میں خطا ہوجانا شیعوں کی کتب سے بھی ثابت ہے۔نبی کے اجتہاد اور غیر نبی کے اجتہاد میں فرق یہ ہے کہ نبی انبیاءکرام کی خطا اجتہادی وقتی ہوتی ہے جس پر وہ قائم نہیں رہتے اللہ تعالی ان کی اصلاح فرما دیتا ہے۔
القاموس الفقھی میں ہے
”اخذ النفس یبذل الطاقہ وتحمل المشقہ “
ترجمہ:کسی کام کی انجام دہی میں تکلیف و مشقت اٹھاتے ہوئے اپنی پوری کوشش صرف کرنا۔(أبوحبيب، القاموس الفقهی ،صفحہ 71 ،مطبوعہ ،دار الفکر بیروت)
تاج العروس میں ہے
”الإجتهاد بذل الوسع في طلب الأمر والمراد به رد القضية من طريق القياس الى الكتاب و السنة“
ترجمہ :اجتہاد کہتے ہیں کسی چیز کی تلاش میں اپنی پوری طاقت خرچ کرنا اور اس سے مراد ہے کسی قضیہ (مسئلہ) کو قیاس کے طریقے سے کتاب و سنّت کی طرف لوٹانا۔(تاج العروس، جلد 2 ،صفحہ 330، مطبوعہ، بیروت)
مستدرک الحاکم میں ہے
”أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ [النساء: 59] قَالَ: أُولِي الْفِقْهِ وَالْخَيْرِ“
ترجمہ:کہا مانو اللہ کا اور کہا مانو رسول کا اور کہا مانو تم میں سے “أُولِي الْأَمْرِ” کا بھی ۔۔۔ یعنی ۔۔۔ فقہ وخیر والوں کا۔(المستدرک الحاکم: حدیث422، مطبوعہ ،دار الکتب العلمیہ بیروت)
صحیح البخاری و صحیح مسلم میں ہے
”وعن عبداللہ بن عمر وابی ھریرہ قالا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا حکم الحاکم فاجتھد واصاب فلہ اجران واذا حکم فاجتھد واخطا فلہ اجر واحد“
ترجمہ:روایت ہے حضرت عبدﷲ ابن عمر اور ابوہریرہ سے دونوں فرماتے ہیں کہ فرمایا رسولﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب حاکم فیصلہ کرے تو کوشش کرے اور درست فیصلہ کرے تو اس کو دو ثواب ہیں اور جب فیصلہ کرے تو کوشش کرے اورغلطی کرے تو اس کے لیے ایک ثواب ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ،باب اجر الحاکم اذا اجتھد فاصاب او اخطاء،جلد 6 ، صفحہ 2676 ، رقم 6919 ، مطبوعہ بیروت/ صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ ، باب اجر الحاکم اذا اجتھد فاصاب او اخطاء ، جلد 3 ،صفحہ 1342 ،حدیث 1716، مطبوعہ، بیروت)
شرح صحیح مسلم للنووی میں ہے
”قال العلماء اجمع المسلمون علی ان ھذا الحدیث فی حاکم عالم اھل للحکم فان اصاب فلہ اجران اجر باجتھادہ واجر باصابتہ وان اخطا فلہ اجر باجتھادہ “
ترجمہ:علماء کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ مذکورہ بالا حدیث اہلِ اجتہاد کے بارے میں ہے، بس وہ اجتہاد کرکے درست فیصلہ کرے تو دو اجر، ایک اجتہاد کا اور دوسرا درستگی کا۔ اور اگر غلطی کرے تو بھی اجتہاد پر ایک اجر ملتا ہے۔(شرح مسلم للنووی کتاب الاقضیہ ،جلد 14 ، صفحہ 12 ،مطبوعہ ، بیروت)
نور الانوار میں ہے
شیخ احمد ملا جیون فرماتے ہیں:
”المجتہد یخطی و یصیب و الحق فی موضع الخلاف واحد“
ترجمہ: مجتہد صحیح فیصلہ بھی کرتا ہے اور غلط بھی اگرچہ موضع اختلاف میں حق ایک کے ساتھ ہی ہو گا۔(نور الانوار، مبحث الاجتہاد، ص251 مطبوعہ، بیروت)
شرح التلویح علی التوضیح میں علامہ سعد الدین تفتازانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
”فلان العدالۃ لا تنافی الخطأ فی الاجتہاد اذ لا فسق فیہ بل ہو ماجور“
ترجمہ:بیشک عدالت خطأ اجتہادی کے منافی نہیں کیونکہ اس میں فسق نہیں بلکہ اجر و ثواب ہے۔(شرح التلویح علی التوضیح جلد 2، صفحہ98، مکتبہ صبیح مصر)
تفسیر روح البیان میں علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”وہذا یدل علی ان خطأ المجتہد لایقدح فی کونہ مجتہدا“
ترجمہ:اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مجتہد کا خطا کرنا اس کے مجتہد ہونے میں عیب نہیں۔(تفسیر روح البیان،جلد5،صفحہ505، دار الفکر بیروت)
فتویٰ رضویہ میں ہے:
”اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ من فی النار(جو جدا ہوا وہ جہنم میں گیا۔)کی وعید صرف دربارہ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں،صحابہ کرام سے ائمہ اربعہ تك رضی ﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں،سیدنا ابوذر رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مطلقًا جمع زر کو حرام ٹھہرانا،ابو موسی اشعری رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جاننا،عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما کا مسئلہ ربا،امام اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ کامسئلہ مدت رضاع،امام شافعی رضی ﷲتعالٰی عنہ کا مسئلہ متروك التسمیہ عمدًا،امام مالك رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مسئلہ طہارت سؤر کلب وتعبد عنسلات سبع،امام احمد رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مسئلہ نقض وضو بلحم جز ور وغیرہ ذلك مسائل کثیرہ کو جو اس وعید کا مورد جانے خود شذ فی النار(جو جدا ہو جہنم میں ڈالا گیا۔)کا مستحق بلکہ اجماع امت کا مخالف۔“(فتاوی رضویہ ،جلد 18، صفحہ 497 498 ، رضا فائونڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”خطا دو قسم ہے: خطاء عنادی، یہ مجتہد کی شان نہیں اور خطاء اجتہادی، یہ مجتہد سے ہوتی ہے اور اِس میں اُس پر عند اﷲ اصلاً مؤاخذہ نہیں ۔ مگر احکامِ دنیا میں وہ دو قسم ہے: خطاء مقرر کہ اس کے صاحب پر انکار نہ ہوگا، یہ وہ خطاء اجتہادی ہے جس سے دین میں کوئی فتنہ نہ پیدا ہوتا ہو، جیسے ہمارے نزدیک مقتدی کا امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا۔ دوسری خطاء منکَر، یہ وہ خطاء اجتہادی ہے جس کے صاحب پر انکار کیا جائے گا، کہ اس کی خطا باعثِ فتنہ ہے حضرت امیرِ معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا حضرت سیّدنا امیرالمومنین علی مرتضیٰ کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے خلاف اسی قسم کی خطا کا تھا اور فیصلہ وہ جو خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مولیٰ علی کی ڈِگری اور امیرِ معاویہ کی مغفرت، رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین۔“(بہار شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 258، مطبوعہ، مکتبہ المدینہ کراچی)
مراہ المناجیح میں ہے:
” اس کا فیصلہﷲ رسول کے فرمان عالی کے مطابق ہوجائے،یہ بھی رب تعالٰی کا کرم ہی ہے کہ انسان کا فیصلہ اس کے منشاء کے مطابق ہوجائے۔ ایک ثواب تو اجتہادوکوشش کرنے کا اور دوسرا ثواب درست فیصلہ کرنے کا کہ درستی بھی بڑا عمل ہے،قاضی عالم بلکہ درجہ اجتہاد والا چاہیے،اگر خود عالم و فقیہ نہ ہو تو فقہاء کے علم سے فائدہ اٹھائے ان کا مقلد اور متبع ہو۔
یہ حدیث تمام مجتہدین کو شامل ہے کہ مجتہد سے اگر غلطی بھی ہوجائے تب بھی اجتہاد کی محنت کا ثواب ہے لہذا چاروں مذہب یعنی حنفی،شافعی،مالکی،حنبلی برحق ہیں کہ اگرچہ ان میں سے درست و صحیح تو ایک ہی ہے مگر گناہ کسی میں نہیں بلکہ جن آئمہ مجتہدین سے خطا ہوئی ایک ثواب انہیں بھی ہے،نیز حضرت علی و معاویہ میں گنہگار کوئی نہیں،حق پر حضرت علی ہیں اور جناب معاویہ سے غلطی ہوئی گنہگار وہ بھی نہیں۔ایک موقعہ پر حضرت داؤد علیہ السلام سے خطا ہوگئی اور جناب سلیمان علیہ السلام نے درست فیصلہ فرمایا تو ان دونوں بزرگوں میں گنہگار کوئی نہیں ہوا۔رب تعالٰی فرماتاہے:”فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیۡمٰنَ”۔وہ حدیث کریمہ اس آیت کی تائید کرتی ہے مگر یہ حکم مجتہد عالم کے لیے ہے غیر مجتہد یا غیر عالم اگر غلط مسئلہ بتائے گا تو گنہگار ہوگا بلکہ غیر عالم کو فتویٰ دینا ہی جائز نہیں اور مسئلہ بھی فروعی اجتہادی ہو اصول شریعت میں غلطی معاف نہیں ہوتی۔اس کی تحقیق کتب اصول اور مرقات میں ملاحظہ کیجئے۔اجتہادی خطا کی مثال یوں سمجھئے کہ مسافر جنگل میں نماز پڑھے اسے سمت قبلہ کا پتہ نہ چلے تو اپنی رائے سے کام لے،اگر چار رکعت میں چار طرف اس کی رائے ہوئی اور اس نے ہر رکعت ایک طرف پڑھی تو اگرچہ قبلہ ایک ہی طرف تھا مگر چاروں رکعتیں درست ہوگئیں اور اس کو نماز کا ثواب یقینًا مل گیا۔“(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 , حدیث نمبر:3732 ،مطبوعہ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
المعجم الاوسط میں امیر المومنین مولٰی علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا
” تکون لاصحابی زلّۃ یغفرھا اﷲ لھم لسابقتھم معی ثم یأتی قوم بعد ھم یکبھم اﷲ علی مناخرھم فی النار“
ترجمہ: میرے اصحاب سے لغزش ہوگی جسے اﷲ عزوجل معاف فرمائے گا اُس سابقہ کے سبب جو اُ ن کو میری بارگاہ میں ہے پھر اُن کے بعد کچھ لوگ آئیں گی کہ انہیں اﷲ تعالٰی ان کے منہ کے بل جہنم میں اوندھا کرے گا۔(المعجم الاوسط ،حدیث 3263 جلد 6،صفحہ 162 مطبوعہ مکتبۃ المعارف ریاض /مجمع الزوائد ،جلد 7 صفحہ 236،مطبوعہ دار المنھاج)
کنزالعمال میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا
:” لم ابعث فیکم لبعث عمر اید اللہ عمر بملکین یوفقانہ ویسدد انہ فاذا اخطأصرفاہ حتی یکون صواباً۔ الدیلمی عن ابی بکرن الصدیق وابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہما “
ترجمہ: اگر نبی میں تم میں مبعوث نہ ہوتا توبیشک عمر نبی کر کے بھیجا جاتا۔ اللہ عزوجل نے دو فرشتوں سے عمر کی تائید فرمائی ہے کہ وہ دونوں عمر کو توفیق دیتے اورہر امر مین اسے ٹھیک راہ پر رکھتے ہین اگر عمر کی رائے لغزش کرتی ہے تو فرشتے عمر کو ادھر سے پھیر دیتے ہیں تاکہ عمر سے حق ہی صادر ہو۔دیلمی نے ابو بکرصدیق اورابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ (الفردوس بمأثور الخطاب حدیث 5127، جلد 3، صفحہ 372 ،دار الکتب العلمیہ بیروت/ کنزالعمال حدیث 32761 ، جلد 11 ، صفحہ 581 مطبوعہ، مؤسسۃ، بیروت)
امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے فقہ اکبر میں کہا:
”وقد کانت(الانبیاء) منہم زلات و خطیئات“
ترجمہ:اور کبھی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے لغزش و خطا (غیرِ گناہ)واقع ہو جاتی ہے۔(فقہ الاکبر صفحہ 100 مکتبۃ المدینہ)
فواتح الرحموت شرح مسلم میں ہے
”واھل بیت کسائر المجتھدین یجوز علیھم الخطاء فی اجتھادھم وھم یصیرون ویخطئون علیہ وکذا علیھم الزلہ کما وقع من سید النساء رضی اللہ عنھا من ھجراتھا خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حین منعھا باغ فدک من جھہ المیراث ولا ذنب فیہ لنا ما تواتر عن الصاحبہ والتابعین من انھم کانو مجتھدین ویفتون خلاف ما افتی بہ اھل بیت وھذا یفید علما ضروریا بان کل واحد من الائمہ بل مقلدین ایاھم ایضا من الصحابہ ومن بعدھم کانوا عالمین بعدم عصمہ عن الخطاءالاجتھادی۔۔۔۔۔۔ من ھذا الخطاء الاجتھادی الم تر کیف رد عبد اللہ بن مسعود وقول امیر المومنین علی فی عدہ الحامل المتوفی عنھا زوجھا ولم یعب علی منازع اھل بیت فی الاحکام بشیء وایضا لم یقل واھل بیت فانھم“
ترجمہ:اہل بیت دیگر مجتہدین کی طرح ہیں ان پر خطاء جائز ہے بلکہ وہ کبھی خطا کرتے ہیں اور کبھی درستگی کو پاتے ہیں۔۔اہل بیت سے لغزش واقع ہونا بھی جائز ہے جیسے کہ بی بی فاطمہ سے لغزش واقع ہوئی اور خطاء واقع ہوئی خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں باغ فدک میں میراث کے متعلق مگر اس پر بھی گناہ نہیں ہے اور تواتر سے ہے کہ صحابہ اور تابعین مجتھدین نے اہل بیت کے فتاویٰ کے خلاف فتویٰ دیا اور یہ علمی ضرورت کو مفید ہے کہ ان میں سے ہر ایک آئمہ کا مقلدین کے اگرچہ ان کے اجتھاد میں خطاء واقع ہوئی ہو تو ان پر عمل کرنے والے پر گناہ نہیں ہوگا کہ یہ اجتھادی خطاء ہے ۔اسی طرح اہل بیت کے صحابہ کرام سے الگ تفردات گزرے ہیں جس پر اگرچہ فتوی نہیں دیا گیا لیکن کوئی مذمت بھی نہیں کی گئی ۔۔۔صحابہ کرام اور اہل بیت عظام دونوں یہ سمجھتے تھے کہ ان سے خطائے اجتہادی کا صدور ہو سکتا ہے بلکہ ہوا ہے جیسے تم نے نہیں دیکھا کہ اس خطاء اجتھادی میں حضرت عبداللہ بن مسعود نے کس طرح رد کیا امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ قول کا جو حاملہ متوفی زوجھا کی عدت کے معاملے میں واقع ہوئی اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن میں اہل بیت اور صحابہ کرام کے اجتہادی خطائیں تفردات واقع ہوئے ہیں جو جمہور کے خلاف تھے لیکن فتوی جمہور پر دیا گیا لیکن تفردات اہل بیت کی مذمت نہ کی گئی۔( فوتح الرحموت شرح مسلم ، جلد 2 صفحہ 279،دار الکتب العلمیہ بیروت)
حضرت پیر طریقت مہر شریعت پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”آیت تطہیر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ یہ پاک گروہ معصوم ہیں اور ان سے کسی قسم کی خطا سرزد ہونا ناممکن ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بمقتضائے بشریت ان سے کوئی خطا سرزد بھی ہو تو وہ عفو و تطہیرِ اِلٰہی میں داخل ہو گی۔“(تصفیہ مابین سنی و شیعہ، صفحہ نمبر 46)
رجال کشی میں شیعہ ذاکر لکھتا ہے:
”عَن أبي بصير، قَال: ((سَألتُ أبا عبد الله -عليه السلام- عَن امرَأةٍ تَزوَّجَت وَلها زَوجٌ فَظهَر عَليها؟. قَال: تُرجَمُ المَرأة وَيُضْرَب الرَّجُل مَائة سَوطٍ ؛ لأنّه لم يَسأل. قَال شُعيب: فدخلت على أبي الحسَن( موسي الكاظم) عليه السلام فَقُلت له: امرَأةٌ تَزَوَّجَت ولها زَوجٌ . قَال: تُرجَمُ المرأةُ وَلا شَيء عَلى الرَّجُل، فَلقيتُ أبَا بَصير ، فَقُلتُ له: إنّي سَألتُ أبَا الحسَن -عليه السلام- عَن المرأة التي تَزّوجَت ولها زَوجٌ، قَال: تُرجَمُ المَرأة ولا شَيءَ عَلى الرَّجُل، قَال: فمَسَحَ عَلى صَدْرِه ، وقال: مَا أظُنُّ صَاحِبَنا تَناهَى حُكْمُه بَعد“
ترجمہ:ابو بصیر سے روایت ہے کہ میں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جس نے شادی کی اور اس کا شوہر تھا ( یعنی وہ پہلے سے شادی شدہ تھی ). تو وہ اس کے سامنے حاضر ہوئی؟ اس نے کہا: اس عورت کو سنگسار کیا جائے گا، اور اس شخص کو سو کوڑے مارے جائینگے کیونکہ اس نے پوچھا نہیں ۔شعیب کہتے ہیں پھر میں داخل ہوا ابوالحسن ( یعنی موسی کاظم کے پاس) پھر میں نے اس سے کہا ہاں ایک عورت نے شادی کی ہے اور اس کا خاوند ( پہلے ) موجود تھا. تو آپ نے فرمایا عورت کو رجم کیا جائے گا اور اس مرد پر کوئی سزا نہیں ہے ۔پھر میں ابوبصیر سے ملا اور اسے کہا :میں نے ابو الحسن علیہ السلام سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جس نے شادی کی اور اس کا پہلے سے خاوند موجود تھا تو آپ نے فرمایا : عورت کو رجم کیا جائے گا اور مرد پر کوئی سزا نہیں ، اس نے کہا : انہوں نے ان کے سینے پہ ہاتھ لگایا اور کہا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ ہمارے ساتھی پہلے والے حکم ( فتویٰ) سے رک گئے تھے۔(رجال کشی، صفحہ 152/153 مطبوعہ، قاہرہ)
بحار الانوار میں ہے
رافضی عالم باقر مجلسی لکھتا ہے:
”عن ابن عباس ومجاهد وقتادة في قوله: ” يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله ” الآية نزلت في علي وأبي ذر وسلمان والمقداد وعثمان بن مظعون وسالم، إنهم اتفقوا على أن يصوموا النهار ويقوموا الليل، ولا يناموا على الفرش، ولا يأكلوا اللحم، ولا يقربوا النساء والطيب، ويلبسوا المسوح ويرفضوا الدنيا، ويسيحوا في الأرض، وهم بعضهم أن يجب مذاكيره، فخطب النبي صلى الله عليه واله فقال: ما بال أقوام حرموا النساء والطيب والنوم وشهوات الدنيا ؟ أما إني لست آمركم أن تكونوا قسيسين ورهبانا، فإنه ليس في ديني ترك اللحم والنساء ولا اتخاذ الصوامع، وإن سياحة أمتي ورهبانيتهم الجهاد إلى آخر الخبر“
ترجمہ:ابن عباس ،مجاهد اور قتاده سے روایت ہے کہ (يا ايها الذين امنوا لا تحرموا طيبات ما احل الله لكم )اے ایمان والو ! تم اپنے اوپر ان پاک چیزوں کو حرام مت کرو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں۔وہ فرماتے ہیں یہ آیت نازل ہوئی علی رضی اللہ عنہ، ابوذر، سلمان،مقداد، عثمان بن مظعون رضی اللہ عنھم اور سالم کے حوالے سے، وہ سارے متفق ہوگئے کہ وہ ہمیشہ دن کو روزے رکھیں گے ، رات کو قیام کریں گے، بستروں پر نہیں سوئیں گے ،گوشت نہیں کھائیں گے ، عورتوں اور خوشبوء کے قریب نہیں جائیں گے، سادہ بالوں کے بنے ہوئے کپڑے پہنیں گے ،دنیا سے بے رغبتی رکھیں گے، زمین میں نکل جائیں گے ( عبادت کے لیے) اور بعض نے ارادہ کیا کہ اپنے آپ کو خصی کر دینگے۔
آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے خطبہ ارشاد فرمایا : کیا معاملہ ہے ان لوگوں کا جنہوں نے اپنے اوپر عورتوں ، خوشبو ، نیند اور دنیا کی آسائشوں کو حرام قرار دے دیا ہے؟ خبردار میں تمہیں یہ حکم نہیں دیتا کہ بن جاؤ قسیس( اپنے اوپر بہت زیادہ سختی کرنے والے ) اور رھبان ( دنیا سے قطع تعلقی کرتے ہوئے عبادت میں گذارنے والے )
بے شک میرے دین کے اندر گوشت اور عورتوں کو ترک کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی میرے دین میں صوامع ہیں (یعنی دنیا سے منقطع ہو کر عبادت میں گذارنا)۔
بے شک میری امت کی سیاحت ( اللہ کےلیے نکل جانا ) اور رہبانیت( یکسو ہو کر عبادت کرنا) جہاد فی سبیل اللہ کے اندر ہے۔(بحار الأنوار للمجلسي، الجز40 ص 328 ،محفوظ بک ایجنسی)
رافضی عالم علی بن ابراہیم قمی اپنی تفسیر میں لکھتا ہے
”عن أبي عبدالله ( عليه السلام ) في قوله تعالى : ( لا تحرموا طيبات ما احل الله لكم ) قال : نزلت في امير المؤمنين ( عليه السلام ) وبلال وعثمان بن مظعون ، فأما امير المؤمنين ( عليه السلام ) فحلف أن لا ينام بالليل ابدا ، وأما بلال فانه حلف أن لا يفطر بالنهار أبدا ، وأما عثمان بن مظعون فانه حلف أن لا ينكح ابدا إلى ان قال : فخرج رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) ونادى الصلاة جامعة ، وصعد المنبر ، وحمد الله ، واثنى عليه ، ثم قال : ما بال اقوام يحرمون على انفسهم الطيبات الا إنيّ انام الليل ، وانكح ، وافطر بالنهار ، فمن رغب عن سنّتي فليس منّي ، فقام هؤلاء ، فقالوا : يا رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) فقد حلفنا على ذلك ، فأنزل الله عزّ وجلّ : ( لا يؤاخذكم الله باللغو في ايمانكم ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الايمان فكفارته اطعام عشرة مساكين من اوسط ما تطعمون اهليكم او كسوتهم او تحرير رقبة فمن لم يجد فصيام ثلاثة ايام ذلك كفارة ايمانكم اذا حلفتم ) “
ترجمہ:ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ (يا ايها الذين امنوا لا تحرموا طيبات ما احل الله لكم )اے ایمان والو ! تم اپنے اوپر ان پاک چیزوں کو حرام مت کرو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں۔فرماتے ہیں یہ آیت نازل ہوئی امیرالمومنین( علی ) رضی اللہ عنہ، بلال اور عثمان بن مظعون کے بارے میں امیرالمومنین نے قسم کھائی تھی کہ وہ رات کو کبھی نہیں سوئیں گے اور بلال نے قسم کھائی تھی دن کو کبھی بھی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور اس نے قسم کھائی تھی وہ کبھی بھی نکاح نہیں کرے گا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور لوگوں کو پکارا لوگو نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ،پھر آپ منبر پر چڑھے اللہ کی تعریف اور ثناء بیان کی پھر فرمایا کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے اپنے اوپر پاک چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں یقینا میں رات کو سوتا بھی ہوں اور میں نکاح بھی کرتا ہوں اور دن کو روزے چھوڑتا بھی ہوں اور جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ہے پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے تو قسم اٹھائی تھی۔
تو اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:[لَايُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ](المائدہ:۸۹)
اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا لیکن مواخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کر دو،اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو! اسی طرح اللہ تعالٰی تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو ۔(تفسير القمي، جلد 1، ص 179، دار الکتاب)
شیعہ عالم علامہ طوسي تہذیب الاحکام میں لکھتا ہے :
” ذاكرني بعض الأصدقاء بأحاديث أصحابنا وما وقع فيها من الاختلاف والتباين والتضاد حتى لا يكاد يسلم خبر إلا وبإزائه ما يضاده ولا يسلم حديث إلا وفي مقابله ما ينافيه حتى جعل مخالفونا ذلك من أعظم الطعون على مذهبنا “
ترجمہ:بعض دوستوں نے میرے ساتھ ہمارے اصحابِ کی ان احادیث کے بارے میں مذاکرہ کیا جن کے اندر اختلاف اور تضاد واقع ہوا ہے یہاں تک کہ ایک خبر بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کے مقابلے اور تضاد میں دوسری خبر نہ ہو اور ایک بھی حدیث اس طرح صحیح سالم نہیں ہے ہے کہ اس کے مقابلے اور ٹکراؤ میں دوسری حدیث نہ ہو یہاں تک اس بات کی وجہ سےہمارے مخالفین نے ہمارے مذہب پر سب سے بڑا طعن کیا ہے۔(تهذيب الأحكام ، للشيخ الطوسي ، ج 1 ، صفحہ2، دار التعارف للمطبوعات ،بیروت)
تہذیب الاحکام میں شیعہ عالم علامہ طوسي لکھتا ہے
” ذاكرني بعض الأصدقاء بأحاديث أصحابنا وما وقع فيها من الاختلاف والتباين والتضاد حتى لا يكاد يسلم خبر إلا وبإزائه ما يضاده ولا يسلم حديث إلا وفي مقابله ما ينافيه حتى جعل مخالفونا ذلك من أعظم الطعون على مذهبنا “
ترجمہ:بعض دوستوں نے میرے ساتھ ہمارے اصحابِ کی ان احادیث کے بارے میں مذاکرہ کیا جن کے اندر اختلاف اور تضاد واقع ہوا ہے یہاں تک کہ ایک خبر بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کے مقابلے اور تضاد میں دوسری خبر نہ ہو اور ایک بھی حدیث اس طرح صحیح سالم نہیں ہے ہے کہ اس کے مقابلے اور ٹکراؤ میں دوسری حدیث نہ ہو یہاں تک اس بات کی وجہ سےہمارے مخالفین نے ہمارے مذہب پر سب سے بڑا طعن کیا ہے۔(تهذيب الأحكام ، للشيخ الطوسي ، ج 1 ، صفحة2، دار التعارف للمطبوعات ،بیروت)
اصول اھل السنہ والجماعہ میں ہے
“أن الخطأ إذا وقع من نبي بقول أو فعل فإن الله تعالى يصححه على الفور، مما يبين وجوب الأسوة والقدوة بهم، وأن ذلك لا يؤثر على الاقتداء والتأسي بهم؛ لأن خطأهم مصحح بخلاف خطأ غيرهم.”
جب کسی نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے قول یا فعل میں خطااجتہادی ہوتی ہے تو اللہ تعالی فورا اس کی تصحیح فرما دیتا ہے(لہذا انبیاءکرام کی خطا اجتہادی وقتی ہوتی ہے جس پر وہ قائم نہیں رہتے اللہ تعالی ان کی اصلاح فرما دیتا ہے)بر خلاف غیر انبیاء کی خطا کے کہہ غیر انبیاء سے جب خطا اجتہادی ہوتی ہے تو اللہ تعالی اس کی اصلاح نہیں فرماتا(لہذا غیر انبیاء کی خطا اجتہادی کبھی وقتی ہوتی ہے کبھی دوامی)( أصول أهل السنة والجماعة، جلد 1 ، صفحہ 6، مطبوعہ ،دار الکتب العلمیہ، بیروت)
تفسیر ماوردی میں ہے
”لأن الأنبياء معصومون من الغلط والخطأ لئلا يقع الشك في أمورهم وأحكامهم , وهذا قول شاذ من المتكلمين. والقول الثاني: وهو قول الجمهور من العلماء والمفسرين ولا يمتنع وجود الغلط والخطأ من الأنبياء كوجوده من غيرهم. لكن لا يقرون عليه وإن أقر عليه غيرهم“
وہ جو کہتے ہیں کہ انبیاء کرام غلطی اور خطا سے معصوم ہے یہ قول شاذ متکلمین کا ہے۔جمہور علماء اور مفسرین کا قول یہ ہے کہ انبیائے کرام سے اجتہادی غلطی اور اجتہادی خطا ہوجاتی ہے لیکن وہ اس پر قائم نہیں رہتے (بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)غیر انبیاء سے خطا اجتہادی ہوتی ہے تو اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اس پر قائم نہ رہیں بلکہ بعض کچھ اس پر قائم بھی رہتے ہیں۔(تفسير الماوردي، جلد 3، صفحہ 457 ، دار المعرفۃ، بیروت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
20جمادی الآخر 1445ھ03جنوری 2024ء