ہاتھ میں چھ انگلیاں ہوں تو وضو میں انکودھونےکا حکم
کیافرماتےہیں علمائےکرام اس مسئلہ میں کہ زید کےہاتھ کی چھ انگلیاں ہیں کیاوضومیں سب کودھوناضروری ہےیاپانچ کو دھوناکفایت کرے گا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر کسی شخص کےہاتھ کی پانچ سےزائدانگلیاں ہوں توان تمام کا دھونافرض ہےاگر پانچ کودھویا اورزائدانگلیوں کونہ دھویاتو فرض کےادانہ ہونےکی وجہ سے وضو نہیں ہوگا
شیخ نظام الدین متوفی 1261 ہجری اور جماعت علمائے ہند تحریر فرماتے ہیں ويجب غسل كل ما كان مركبا على اعضاء الوضوء من الاصبع الزائدۃ والکف الزائدۃ كذا في السراج الوهاج ترجمہ اور زائد ہاتھ اور زائد انگلیوں میں سے جو اعضائے وضو کے ساتھ متصل ہوں ان میں سےہر ایک کا دھونا واجب ہے۔
(فتاویٰ ھندیہ کتاب الطھارۃ باب الوضوء الفصل الاول في الفرائض الوضوء جلد1صفحہ6المکتبۃ العلمیہ بیروت)
️ شیخ عالم بن العلاالہندی متوفی 786 ہجری تحریر فرماتے ہیں ويجب غسل ما كان مركبا من اعضاء الوضوء من الاصبع الزائدۃ والكف الزائدۃ ترجمہ اور زائد ہاتھ اور زائد انگلیوں میں سے جو وضو کے اعضاء کے ساتھ متصل ہوں ان کا دھونا واجب ہے
(فتاویٰ تاتارخانیہ کتاب الطھارۃ الفصل الاول في الوضوء جلد1صفحہ41المکتبۃ العلمیہ بیروت)
️ علامہ سید احمد بن محمد بن اسماعیل طحطاوی الحنفی متوفی 1231 ہجری تحریر فرماتے ہیں ولو خلق له یدان على المنكب فالتامۃ هي الاصليۃ وماحاذی من الزائدۃ محل الغرض غسل فكذا كل ما كان مركبا على اعضاء الوضوء كالاصبع الزائدۃ والكف الزائدۃ ترجمہ اور اگر اس کے کندھے پر دو ہاتھ پیدا ہوئےہوں تو جو مکمل ہے وہی اصلی ہے اور جو زائداعضاء محلِ فرض کے ساتھ جڑا ہوا ہے اس کو دھونا فرض ہے اور اسی طرح ان تمام اعضاء کا دھونا فرض ہے جو وضو کے اعضاء کے ساتھ متصل ہوں جیسے زائد انگلی اور زائد ہاتھ
(طحطاوی علی المراقی الفلاح کتاب الطھارۃباب الوضوء صفحہ59مکتبۃ العلمیہ بیروت)
️ علامہ زین الدین بن ابراہیم ابنِ نجیم حنفی متوفی 970 ہجری تحریر فرماتے ہیں وكذا يجب غسل ما كان مركبا على اليد من الاصبع الزائدۃ والكف الزائدۃ اور اسیطرح زائد انگلی اور زائد ہاتھ کا دھونا واجب ہے جو ہاتھ کے ساتھ ملے ہوئے ہوں
(البحر الرائق کتاب الطھارۃ جلد1صفحہ30المکتبۃ العلمیہ بیروت)
️ صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی متوفٰی 1367 ہجری ہے تحریر فرماتے ہیں بجائے پانچ کے چھ انگلیاں ہیں تو سب کا دھونا فرض ہے اور اگر ایک مونڈھے پر دو ہاتھ نکلے تو جو پورا ہے اس کا دھونا فرض ہے اور اس دوسرے کا دھونا فرض نہیں ہے مستحب ہے مگر اس کا وہ حصہ کہ اس کے ہاتھ کے موضعِ فرض سے متصل ہے اتنے کادھونا فرض ہے
(بہارشریعت حصہ دوم جلد1صفحہ68 مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور)
ھذاماعندی والعلم بالحق عنداللہ
کتبہ رولنمبر5
20ربیع النوریوم الخمیس 1446ھجری بمطابق26/9/2024