پینٹ کی وجہ سے سجدے میں ستر کھل جائے تو نماز کا حکم
کیا فر ماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جنہوں نے پینٹ یا جینز پہنی ہوتی ہے جب وہ سجدے میں جاتے ہیں تو پیچھے سے ان کا ستر کھل جاتا ہے تو ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہوگا۔(عرفان،یوکے)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
پوچھی گئ صورت میں سجدے وغیرہ میں جاتے ہوئے اگر اعضائے عورت میں سے کسی ایک عضو کی چوتھائی یا متعدد مثلا دو عضو کی چوتھائی سے کم کھلا لیکن ان دونوں کو ملانے سے کسی چھوٹے عضو کی چوتھائی کے برابر ہوگیا اور فورا نہ چھپایا کہ تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے برابر کھلا رہا تو نماز فاسد ہوگئ ، اس سے کم میں فسا د نہیں لیکن اس میں غفلت جائز نہیں اور دوسروں کا اس پر نظر کرنا جائز نہیں اور اگر بالقصد کھولا ،اگر چہ فورا چھپا لیا ،نماز جاتی رہی یاد رہے مرد کے لئے ناف کے نیچے سے ، عضو تناسل کی جڑ تک اور اس کے سیدھ میں پشت اور دونوں کروٹوں کی جانب ، سب مل کر ایک عورت جس کی چوتھائی کا اعتبار ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے،
وإن انكشفت عورته في الصلاة فسترها بلا مكث جازت صلاته إجماعا وإن أدى ركنا مع الانكشاف فسدت إجماعا وإن لم يؤده لكن مكث قدر ما يمكن الأداء تفسد،یعنی،اگر نماز کے دوران کسی کی ستر کھل جائے اور فوراً بغیر کسی توقف کے اسے ڈھانپ لے، تو اجماعاً اس کی نماز جائز ہے۔ اور اگر کھلی ہوئی حالت میں کوئی رکن ادا کیا تو اجماعاً نماز فاسد ہو جائے گی۔ اور اگر رکن ادا نہیں کیا لیکن اتنی دیر ٹھہر گیا جتنی دیر میں رکن ادا ہو سکتا تھا، توبھی نماز فاسد ہو جائے گی۔(فتاوی عالمگیری،کتاب الصلوة،جلد اول،صفحہ نمبر 58،التراث)
در مختار میں ہے،
”الثامن ما بين السرة إلى العانة مع ما يحاذي ذلك من الجنبين والظهر والبطن“یعنی،( اعضائے عورت میں سے مرد کے لئے ) آٹھواں حصہ ناف سے لے کر زیر ناف تک، اور اس کے برابر پہلوؤں، کمر اور پیٹ کا حصہ بھی عورت ہے۔(در مختار ، مطلب ستر العورة ،جلد اول،صفحہ نمبر 409،التراث )۔
ھذا ماظھر لعبد الضعیف واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالصواب
کتبہ،
رول نمبر 4،
۱ اکتوبر۲۰۲۴ بمطابق ۲۸ربیع النور ۱۴۴۶ ھ