کن چیزوں کا تحفہ رد نہیں کرنا چاہیے

کن چیزوں کا تحفہ رد نہیں کرنا چاہیے

سوال۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اکثر کسی کو تحفہ دیتے وقت یہ کہا جاتا ہے کہ تین چیزیں رد نہیں کرنی چاہیے وہ تین چیزیں کونسی ہیں اور کیا تحفہ لینے سے منع کرسکتے ہیں؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حدیث پاک  میں ہے تین چیزیں ،تکیہ ،دودھ اور تیل ، جبکہ بعض  نے  تیل سے مراد خوشبو لیا  ہے ، جب  کسی شخص کو پیش کی جائیں، تو ان کو منع نہ کرو۔ شریعت مطہرہ نے مسلمان کو آپس میں تحفہ دینے کی ترغیب دی ہے کہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور عداوت ختم ہوتی ہے البتہ تحفہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو قیمتی ہوتا ہے اور اس کا بدلہ دینا مشکل ہوتا ہے مگر دوسرا وہ تحفہ ہے جس کی قیمت اتنی زیادہ نہیں ہوتی اور ایسا تحفہ دینے یا لینے والے پر کوئی بوجھ بھی نہیں ہوتا، اس لیے ان معمولی تحفوں کو شکریہ کے ساتھ قبول کرنا چاہیے  واپس نہیں کرنا چاہیے جس کا ذکر حدیث میں موجود ہے اور تحفہ قبول کرکے مسلمان کو بھی اس سے بہتر تحفہ دیا جائے اور قبول نہ کرنے پر مسلمان کی دل آزاری ہوگی جو کہ جائز نہیں ہے لہٰذا اگر تحفہ لینے میں اگر کوئی شرعی خرابی نہ ہو تحفہ قبول کرنے میں حرج نہیں ہے۔

   سنن ترمذی میں ہے : “عن ابن عمر ، قال: قال رسول اللہ  صلى اللہ  عليه وسلم: “ثلاث  لا ترد: الوسائد، والدهن، واللبن ، الدهن: يعنی به الطيب. هذا حديث غريب”

ترجمہ: حضرت ابن عمر  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین چیزیں واپس نہ کی جائیں: تکیہ ، تیل اور دودھ ۔تیل سے مراد خوشبو ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔

(سنن الترمذی، جلد 5، صفحہ 108، حدیث 2799، مطبوعہ مصر)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے

” أي: لا ينبغي أن ترد لقلة منتها وتأذي المهدي إياها (الوسائد والدهن واللبن) قال الطيبي  رحمہ اللہ : ” يريد أن يكرم الضيف بالوسادة والطيب واللبن، وهي هدية قليلة المنة فلا ينبغي أن ترد ” فكأنه حمل الدهن على الطيب وعبر عنه بالطيب، والأظهر أن المراد به مطلق الدهن لأن العرب تستعمله في شعور رءوسهم”

ترجمہ : کیونکہ  ان چیزوں میں اظہارِ احسان کم ہوتا ہے اور اس سے تحفہ دینے والے کو تکلیف بھی ہوتی ہے، لہذا ان کو واپس  کرنا، مناسب نہیں۔

علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس بات سے مقصود یہ ہے کہ تکیہ، دودھ اور خوشبو سے  مہمان کا اکرام کیا جائے اور  اس میں بوجھ کم ہوتا ہے ، لہذا ان کو واپس کرنا، مناسب نہیں، گویا کہ تیل کوخوشبو پر محمول کرتے ہوئے تیل سے  تعبیر کیا گیا ہے، حالانکہ اظہر یہ ہے کہ اس سے مراد مطلق طور پر تیل ہو ، کیونکہ عرب لوگ اپنے سر کےبالوں میں تیل  استعمال کرتے ہیں۔

(مرقاۃ المفاتیح، جلد5، صفحہ 2013، مطبوعہ بیروت)

المفاتیح شرح مصابیح میں ہے

    “يعني: إذا أعطاكم أحد وسادة لتجلسوا عليها أو تتكئوا عليها فاقبلوها، وكذلك إذا أعطاكم أحد طيبا أو لبنا فاقبلوه؛ لأن المنة فيهن قليل، ولأنكم لو لم تقبلوا هذه الأشياء يتأذى المعطي منكم، ويحصل بينكم بغض وعداوة “

ترجمہ: یعنی جب تم میں سے کسی ایک کو تکیہ دیا جائے تاکہ تم اس پر بیٹھ جاؤ یا اس پر  ٹیک لگا لو، تو تکیہ قبول کر لو، اسی طرح جب کوئی شخص تم کو خوشبو یا دودھ دے، تو اس کو قبول کر لو، کیونکہ اس میں بوجھ کم  ہوتا ہے اور اگر تم ان چیزوں کو قبول نہ کرو گے، تو اس سے تحفہ دینے والے کو اذیت ہوگی اور اس سے آپس میں بغض و عدوات پیدا ہونے  کا خدشہ ہے۔

(المفاتیح شرح مصابیح، جلد3، صفحہ 523، مطبوعہ دار النوادر، وزارة الأوقاف الكويتيہ)

    مراۃ المناجیح میں ہے” اگر میزبان اپنے مہمانوں کو آرام کے لیے تکیہ پیش کرے اور سر میں ملنے کے لیے تیل،پینے کے لیے دودھ یا لسّی،  تو مہمان اسے رد نہ کرے ،بلکہ بخوشی قبول کرے۔ عرب شریف میں تیل بھی مہمان کی خاطر پیش ہوتا تھا، جیسے بہار میں اب بھی تیل، عطر ، پان سے ہر آنے والے کی خاطر کی جاتی ہے۔یعنی خوشبو دار تیل مگر حق یہ ہے کہ ہر تیل مرادہے، خوشبودار ہو یا نہ ہو، حدیث کے مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا بہتر ہے۔”

(مراۃ المناجیح، جلد4، صفحہ 359، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ ، گجرات)

  سنن  ترمذی میں ہے: “عن ابی عثمان النھدی  قال قال رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اذا اعطی احدکم الریحان فلا یردہ فانہ خرج من الجنۃ”

ترجمہ: حضرت ابو عثمان نہدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو خوشبو دی جائے، تو منع نہ کرے، کیونکہ خوشبو جنت سے آئی ہے۔

(سنن الترمذی، جلد5، صفحہ 108، حدیث 2791، مطبوعہ مصر)

 مراۃ المناجیح میں ہے : ” اگرچہ دوسرے ہدیے بھی واپس کرنا خلاف اخلاق ہے، مگر خوشبو واپس کرنا تو بہت ہی خشک مزاجی کی دلیل ہے کہ اس میں وزن ہلکا قیمت معمولی خوشبو اعلیٰ ہے ۔”

(مراۃ المناجیح، جلد4، صفحہ352، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

  بخاری شریف میں ہے: “عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم  قال: يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة “

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی عورت اپنی  پڑوسن کے لیے کسی بھی چیز کو ہدیہ دینے کے لیے حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا  کھر  ہی کیوں نہ ہو۔”

(صحیح بخاری، جلد 3، صفحہ 153، حدیث 2566، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)

عمدۃ القاری میں ہے

“والهدية إذا كانت يسيرة فهي أدل على المودة وأسقط للمؤنة وأسهل على المهدي لإطراح التكليف”

ترجمہ: تحفہ جب معمولی ہوتا ہے تو یہ محبت پر زیادہ دلالت کرتا، مشقت کو ختم کرتا اور تکلیف  کم ہونے کی وجہ سے  تحفہ دینے والے پر آسان ہوتا ہے۔

(عمدۃ القاری، جلد13، صفحہ 126، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ، بيروت)

مشکوۃ شریف میں ہے :

“وعن عطاء الخراساني أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: تصافحوا يذهب الغلّ، وتهادوا تحابوا وتذهب الشحناء، رواه مالك مرسلاً”

ترجمہ : حضرت عطاء خراسانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں ایک دوسرے سے مصافحہ کیا کرو کہ اس سے بغض و کینہ جاتا رہے گا اور آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ و تحفہ بھیجتے رہا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے اور دشمنی جاتی رہتی ہے۔

(مشکوٰۃ المصابیح ، ج 3، ص 15، رقم الحدیث :4693، المكتب الإسلامي بيروت)

مراۃ المناجیح میں ہے

یعنی اگر تم امیر کبیر ہو اور تمہارا پڑوسی غریب و مسکین اور وہ تمہیں محبت سے کوئی معمولی چیز ہدیہ بھیجے تو اسے نہ حقیر سمجھ کر واپس کردو نہ اسے بے قدری سے رکھو بلکہ شکریہ قبول کرو اور اپنی شان کے لائق اسے اچھا بدلہ دو تاکہ اس کا دل بڑھے،اللّٰه تو غنی ہے مگر ہم فقیروں کے معمولی صدقات کو بخوشی قبول فرماتا ہے اوران شاءاللّٰه اپنی شان کے لائق بدلہ دے گا۔

(مراۃ المناجیح، جلد4، صفحہ357، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــہ

ARQF-01-2023

29ربیع الاول 1446ھ04 اکتوبر 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں