نماز میں قرات کرتے ہوئے ایک سورت چھوڑ کر دوسری سورت شروع کرنا

نماز میں قرات کرتے ہوئے ایک سورت چھوڑ کر دوسری سورت شروع کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز کے دوران میں نے بھول کر کسی سورت کی تلاوت شروع کی جبکہ میں کوئی اور سورت پڑھنا چاہتا تھا جیسے ہی خیال آیا تو میں نے جو سورة شروع کی تھی اس کی آیت مکمل کرکے دوسری سورت کو پڑھنا شروع کر دیا، کیا اس سے سجدہ سہو لازم ہوگیا؟(قاسم،یوکے )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

نماز میں جب آپ نے ایک سورة کی تلاوت شروع کردی تھی تو اب آپ کو چاہئے تھا کہ اسی کو جاری رکھتے کیونکہ بلاوجہ ایک سورة کو درمیان میں چھوڑ کر دوسری سورة شروع کردینا مکروہ ہے ۔

البحر الرائق فی شرح کنزالدقائق میں ہے،

إذا افتتح سورة وقصده سورة أخرى فلما قرأ آية أو آيتين أراد أن يترك تلك السورة ويفتتح التي أرادها يكره،یعنی،اگر کوئی شخص ایک سورت کی تلاوت شروع کرے اور اس کا ارادہ کسی اور سورت کا ہو، پھر ایک یا دو آیات پڑھنے کے بعد وہ اس سورت کو چھوڑ کر دوسری سورت کو شروع کرنا چاہے جو اس کا ارادہ تھا، تو ایسا کرنا مکروہ ہے۔(البحر الرائق،کتاب الصلوة،جلددوم،صفحہ نمبر 35،التراث )

ھذا ماظھر لعبد الضعیف واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالصواب

کتبہ،

رول نمبر 4،

۵اکتوبر۲۰۲۴ بمطابق ۱ربیع الآخر ۱۴۴۶ ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں