مقتدی نے امام کے سجدہ سہو کےبعد اپنی نماز میں غلطی کی تو سجدہ سہو کاحکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایسا مقتدی جس کی بعض رکعتیں جماعت سے فوت ہوگئیں تھیں اور اس نے امام کے سہو ہوجانے پر اس کے ساتھ سجدہ سہو بھی کیا اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد جب اپنی بقیہ رکعتیں ادا کرے گا تو ان میں اگر کوئی ایسی غلطی کی جس سے سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہو تو کیا اس کو دوبارہ سجدہ سہو کرنا پڑے گا یا جماعت کے ساتھ کیا گیا سجدہ سہو کافی ہوگا ؟ (احمد رضا،بریڈفورڈ)۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
مسبوق(وہ مقتدی جس کی بعض رکعتیں جماعت سے فوت ہوگئیں ہوں) جب امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی بقیہ رکعتیں ادا کرےگا اگر ان رکعتوں میں ایسی غلطی کی جس سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہو تو اس کو سجدہ سہو کرنا پڑے گا کیونکہ ان رکعتوں میں مقتدی منفرد یعنی تنہا نمازپڑھنے والے کے حکم میں ہے اگر چہ اس نے امام کے سہو ہوجانے پر امام کے ساتھ بھی سجدہ سہو کیا ہو۔
تحفۃ الفقہاء میں ہے:
’’اذا سجد معه،ثم قام الى قضاء ما سبق به وسها فيه، فعليه ان يسجد ثانيا وان كانت تكرارا، لانه فيما يقضی كالمنفرد، فيكون صلاتين حكما ‘‘ترجمہ:جب مسبوق نے امام کے ساتھ سجدہ سہو کیا،پھراپنی فوت شدہ رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا اور اس میں بھی بھول گیا،تو اس پر دوسری مرتبہ سجدہ سہو لازم ہے ،اگرچہ یہ سجدہ سہو کا تکرار ہے،کیونکہ مسبوق جو فوت شدہ رکعتیں ادا کر رہا ہے،اس میں وہ تنہا نماز ادا کرنے والے کی طرح ہے،لہذا حکمی طور پر یہ دو نمازیں ہوں گی۔(تحفۃ الفقھاء،کتاب الصلوة،جلد1،صفحہ نمبر 216،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ،بیروت)
ھذا ماظھر لعبد الضعیف واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالصواب
کتبہ ،
محمد مبین مدنی ،
۴نومبر ۲۰۲۴ بمطابق ۲ جمادی الاولی ۱۴۴۶