شادی کے موقع پر لڑکے کے ہاتھ پر مہندی لگانا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مردوں کو شادی بیاہ میں ہتھیلی یا انگلیوں میں مہندی لگانا کیسا ہے ۔ کچھ علاقوں میں شادی بیاہ کے موقع پہ لڑکوں کو مہندی لگانا ضروری سمجھا جاتا ہے شریعت اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب
مردو کو ہتھیلیوں، تلوں بلکہ ناخنوں میں بھی مہندی لگانے کی اجازت نہیں کہ عورتوں سے مشابہت کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے البتہ مرد سر اور داڑھی کے بالوں میں مہندی لگا سکتے ہیں ۔
حدیث پاک میں ہے :
سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یقول لیس منّا من تشبّہ بالرجال من النساء ولامن تشبّہ بالنساء من الرجال، رواہ احمد والطبرانی۔
میں نے حضوراکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کوارشاد فرماتے سنا، وہ عورت ہم میں سے نہیں جومردوں سے مشابہت اختیارکرے، اور وہ مرد بھی ہم میں سے نہیں جوعورتوں سے تشبہ اختیارکرے۔ امام احمد اور امام طبرانی نے اس کو روایت فرمایا۔
( مسنداحمدبن حنبل مسندعبداللہ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۰۰)
(مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الادب فی المتشبہین دارالکتاب بیرو ت ۸/ ۱۰۳)
سنن ابو داؤد میں ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ’’أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بمخنث قد خضب يديه ورجليه بالحناء،فقال النبي صلى الله عليه وسلم:’’ما بال هذا؟‘‘ فقيل : يا رسول الله،يتشبه بالنساء،فأمربه فنفي إلى النقيع ‘‘ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت ميں ايک مخنَّث (یعنی ہيجڑے ) کو لايا گيا، اس نے اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا:’’اس کا کيا معاملہ ہے؟‘‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :يہ عورتوں کی مشابہت اختيار کرتاہے۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نےاسےجلا وطن کرنے کا حکم ارشاد فرمايا تو اُسےنقيع(مدینے سے دورایک مقام) کی طرف جلا وطن کر دیا گیا۔(سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب في الحكم في المخنثين ،ج4،ص282، حدیث4928،بیروت)
فتاویٰ رضویہ میں ہے : ہاتھ پاؤں میں مہندی کی رنگت مرد کے لئے حرام ہے اور سراور داڑھی میں مستحب۔
(فتاویٰ رضویہ ،جلد٢٣،صفحہ١١٣)
سیدی اعلی حضرت میں ارشاد فرماتے ہیں:’’مرد کو ہتھیلی یاتلوے بلکہ صرف ناخنوں ہی میں مہندی لگانی حرام ہے کہ عورتوں سے تشبّہ ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد٢٤،صفحہ ١١٦)
فتاویٰ ادارہ شریعہ میں ہے : شریعت طاہرمیں ، مردوں کو تشبہہ بالنساء سے منع فرمایاگیا ہے۔ مہندی عورتوں کے لئے باعث زینت وآرائش ہے، جس سے ان کی خوبصورتی اور حسن وجمال میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی نسوانیت ونزاکت کا اظہارہوتاہے، بخلاف مَردوں کے اس لئے کہ نزاکت و زنانہ پَن مَردوں کے لئے عیب ہے۔ اس لئے ریشمی کپڑے اور زیور کے استعمال سے مَردوں کو منع کیاگیا ہے۔ نیز ہر وہ لباس اور زیب وزینت کے سامان ،جو عورتوں کے لئے مخصوص ہیں ، ا سے بھی مَردوں کو منع کیاگیا ہے۔ اس لئے مردوں کو مہندی لگانا ناجائز اور شرعاً ممنوع و گناہ ہے۔
(فتاوٰی ادارہ شریعہ دوم،صفحہ ٤٣٦)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کـتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه
محمد عادل رضا قادری حنفی
٠١ ربیع الآخر ١٤٤٦ ہجری / 04 نومبر 2024 عیسوی