امام کا مقتدیوں سے اونچا کھڑا ہونا
سوال: امام کا مقتدیوں سے اونچی جگہ پر کھڑا ہونا کیسا ؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
بلند مقام پر امام کا تنہا کھڑا ہونا مکروہ ہے، اور یہ کراہت کس حد تک بلندی سے ہوتی ہے اس میں تین قول ہیں
پہلا قول یہ کہ بلندی انسان سے متجاوز ہو تو کراہت ہے،
دوم بقدر ذراع (شرعی گز)
سوم بقدر امتیاز
قول اول امام طحاوی رحمہ اللّٰہ تعالی سے منقول اور امام ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی سے مروی بلکہ امام ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی یہ فرماتے ہیں کہ قامت سے کم میں کراہت نہیں، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قامت کی قدر ہو تو مکروہ ،
قول دوم کو اکثر نے اختیار کیا اور اس پر اعتماد کیا، اور قول سوم اطلاق حدیث کے مطابق ہے اور یہی ظاہرالروایۃ ہے۔ چوں کہ اس مسئلہ میں تصحیحات مختلف ہیں لہذا ظاہر الروایۃ کو ترجیح دی جائے گی۔
سنن ابوداؤد میں حدیث ہے کہ عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالی عنہ مدائن میں نماز پڑھانے کے لیے بلند جگہ کھڑے ہوگئے اور تمام مقتدی نیچے تھے حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ان کا ہاتھ پکڑ کر نیچے اتار لائے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا : ألم تسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إذا أم الرجل القوم فلايقم في مكان أرفع من مقامهم أو نحو ذلك ، فقال عمار لذلك اتبعتك حين أخذت على يدي.”
ترجمہ: کیا تم نےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ جب قوم کا امام ہو تو ان سے اونچی جگہ نہ کھڑا ہو، عمار رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا : اسی وجہ سے میں نے اتباع کیا جب تم نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
( سنن ابوداؤد ، باب الامام یقوم مکانا ارفع من مکان القوم ، جلد: ۱ صفحہ: ۸۸ ، مطبوعہ: مجتبائی دہلی)
ابوداؤد وابن حبان وحاکم حضرت ابومسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
وھذا لفظ الحاکم فی مستدرکہ: “ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی ان یقوم الامام فوق و یبقی الناس خلفہ ۔
ترجمہ: حاکم کی اپنی مستدرک میں یہ الفاظ ہیں: کہ حضور پرنورسیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ امام اونچا کھڑاہو اور مقتدی نیچے رہیں،
(المستدرک علی الصحیحین نہی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ان یقوم الامام الخ ، جلد: ۱ ، صفحہ: ۲۱۰، مطبوعہ: المطبوعات الاسلامیہ بیروت )
درمختارمیں ہے:
“کرہ انفراد الامام علی الدکان للنھی و قدر الارتفاع بذراع ولاباس بما دونہ وقیل مایقع بہ الامتیاز وھو الاوجہ ذکرہ الکمال وغیرہ۔”
ترجمہ: امام کااونچی جگہ تنہا کھڑاہونا مکروہ ہے کیونکہ اس پرنہی وارد ہے اور اونچائی کی مقدار ایک ذراع ہے اس سے کم ہو تو کوئی حرج نہیں، بعض کی رائے میں اتنی اونچائی مکروہ ہے جس سے امتیاز پیداہو، یہی مختار ہے کمال وغیرہ نے اسے ذکرکیا۔
(درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ، جلد:۱ ، صفحہ:۹۲ مطبوعہ مجتبائی دہلی)
ردالمحتارمیں ہے:
“قولہ وقیل الخ ھو ظاھرالروایۃ کما فی البدائع قال فی البحر والحاصل ان التصحیح قد اختلف والاولی العمل بظاھر الروایۃ واطلاق الحدیث ۱ھ و کذا رجحہ فی الحلیۃ۔”
ترجمہ: قولہ وقیل الخ یہی ظاہر روایت ہے جیسا کہ بدائع میں ہے، بحرمیں کہاہے الغرض تصحیح میں اختلاف ہے لیکن ظاھر روایت اور اطلاق حدیث پرعمل بہترہے ۱ھ حلیہ میں اسی کو ترجیح ہے۔
( ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ ، جلد: ۱ صفحہ: ۴۷۸ مطبوعہ:
مصطفی البابی مصر )
منیہ میں ہے:
“یکرہ ان یقوم ینفرد فی مکان اعلی من مکان القوم اذا لم یکن بعض القوم معہ۔”
ترجمہ: یہ مکروہ ہے کہ امام اکیلا ایسی جگہ کھڑا ہو کہ قوم سے بلند ہوجبکہ اس کے ساتھ کچھ لوگ بھی نہ ہوں۔”
( منیۃ المصلی بحث یکرہ ان یصلی علی بساط فیہ تصاویر صفحہ: ۳۶۶ ، مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور )
نقایہ کے مکروہات الصلاۃ میں ہے:
وتخصیص الامام بمکان
یعنی: امام کا جگہ مخصوص کرنا۔
شرح علامہ شمس الدین محمد میں ہے:
(تخصیص الامام) ای انفرادہ (بمکان) امابان یکون مقامہ اعلی اواسفل من مکان القوم الخ ویأتی تمامہ۔
ترجمہ: (تخصیص امام سے مراد) اس کا الگ ہونا ہے (بمکان) یاتو اس کامقام قوم سے اوپر ہوگا یانیچے ہوگا الخ اس کی تفصیل آرہی ہے۔
( جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ ۱ /۱۹۴ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران )
ہمارے مذہب کے قواعد مقررہ سے ہے کہ “جب فتوٰی میں اختلاف ہو۔ ظاہرالروایۃ پرعمل واجب ہے،”
بحرالرائق میں ہے:
اذا اختلف التصحیح وجب الفحص عن ظاھرالروایۃ والرجوع الیھا۔
ترجمہ: جب تصحیح اقوال میں اختلاف ہو توظاہرالروایۃ کی تلاش اور اس کی طرف رجوع واجب ہوتاہے
( بحرالرائق ، باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ، جلد:۲ ، صفحہ: ۲۶
مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
علماء فرماتے ہیں جب روایت ودرایت مطابق ہوں توعدول کی گنجائش نہیں۔
علامہ حلبی نے غنیہ میں فرمایا:
“لایعدل عن الدرایۃ ماواقفتھا روایۃ۔”
یعنی: اس درایت سے اعراض نہیں کیاجائے گا جو روایت کے موافق ہو۔
( غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی واجبات الصلوٰۃ ، صفحہ: ۲۹۵، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور)
یہاں جبکہ یہی ظاہرالروایۃ اور اسی کے مطابق دلیل وروایت تو لازماً قول یہی ہے کہ اتنی بلندی کہ جس سے کم ازکم امتیاز پیدا ہوجائے ، بھی مکروہ ہے ہاں ایسا قلیل تفاوت جس سے امتیاز ظاہرنہ ہو عفو ہے، کیونکہ اس کے اعتبار کرنے میں حرج وتنگی ہے اور تنگی نصوص کی وجہ سے مدفوع ہے۔
یونہی اگرپہلی صف امام کے سات ہو باقی صفیں نیچی توبھی مذہب اصح میں کچھ حرج نہیں۔
درمختارمیں فرمایا ہے:
” لم يكره لو كان معه بعض القوم في الصح اھ۔”
ترجمہ: کہ اصح قول کے مطابق اگرامام کے ساتھ کچھ لوگ ہوں توکراہت نہ ہوگی۱ھ
( درمختار ، باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا جلد:١، صفحہ: ٩٢ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت)
اورشک نہیں کہ تین گرہ بلندی قطعاً ممتاز وباعث امتیاز ہے کہ ہرشخص پہلی نگاہ میں ہی بغور دیکھ کر جان لے گا تومذہب معتمد پر اس کی کراہت میں شبہہ نہیں بلکہ علما تصریح فرماتے ہیں کہ امام کے لئے تخصیص مکانی کراہت میں یہ صورت بھی داخل کہ مثلاً وہ مکان مسقف میں ہو اور مقتدی صحن میں،
شرح نقایہ میں تفصیلی بحث کے بعد فرماتے ہیں:
“وامابان یکون فی صُفّۃ، وھم فی وسط الدار مثلا کما فی الجوھر وامابان یقوموا فی المسجد والامام فی طاق یتخذ فی المحراب۔”
ترجمہ: امام چھت میں ہو اور لوگ صحن کے درمیان، جیسا کہ جواہرمیں ہے یالوگ مسجد میں ہوں اور امام طاق میں ہوجومحراب میں بنایاگیاہو۔
(جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ، جلد: ۱ ، صفحہ: ۱۹۴ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فتاویٰ امجدیہ میں اسی طرح کے ایک استفتاء کے جواب میں فرماتے ہیں:
“بلند مقام پر امام کا تنہا کھڑا ہونا مکروہ ہے، یہ امر کہ کس حد کی بلندی سے کراہت ہوتی ہے اس میں تین قول ہیں،
ایک یہ کہ قامت انسان سے متجاوز ہو تو کراہت ہے،
دوم بقدر ذراع،
سوم بقدر امتیاز
قول اول امام طحاوی رحمہ اللّٰہ تعالی سے منقول اور امام ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی سے مروی بلکہ امام ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی یہ فرماتے ہیں کہ قامت سے کم میں کراہت نہیں، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قامت کی قدر ہو تو مکروہ ، لہذٰا اس کو قول رابع قرار دے سکتے ہیں ،
قول دوم کو اکثر نے اختیار کیا اور اس پر اعتماد کیا، اور قول سوم اطلاق حدیث کے مطابق ہے اور یہی ظاہرالروایۃ ہے۔ چوں کہ اس مسئلہ میں تصحیحات مختلف ہیں لہذا ظاہر الروایۃ کو ترجیح دی جائے گی۔۔۔۔۔۔
(کچھ آگے چل کر فرماتے ہیں)
جب یہی ظاہر الروایۃ ہے اور یہی اطلاق حدیث کا مقتضی اور پھر اسی میں احتیاط بھی ہے تو اس پر عمل کرنا چاہیے؛ اس روایت میں صرف امتیاز کو مقدار کراہت بتایا گیا ہے تو اس کی تحدید پیمانے کے ساتھ نہیں کی جا سکتی بلکہ وہ مقدار قلیل بھی کہ بظاہر ممتاز ہو کراہت کے لیے کافی ہے، مثلا : تین چار انگل کی بلندی بھی قابل امتیاز ہے یہ بھی مکروہ ہے۔
واللّٰه تعالى أعلم.
(فتاوی امجدیہ، جلد اول، صفحہ: 195 و 196، مطبوعہ : دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی)
واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ:
رول نمبر 41
یکم جمادی الاول 1446ھ/ 04 نومبر 2024ء