قسطوں پر خرید ی چیز کو آگے بیچنے کا حکم
سوال: میں نے ایک مفتی صاحب سے سنا ہے کہ قسطوں پر چیز خرید کر جب تک اسکی قسطیں مکمل نا ہو جائیں تب تک اسکو بیچ نہیں سکتے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب
قسطوں پر کاروبار در اصل ادھار خریدوفروخت ہی کی ایک قسم ہے ، ایجاب و قبول ہوتے ہی خریدار چیز کا مالک بن جاتا ہے، البتہ اس کی قیمت طے شدہ وقت میں اداءکی جاتی ہے، تو جب انسان قسطوں پر خریدی ہوئی چیز کا مالک بن جاتا ہے تو قسطیں مکمل ہونے سے پہلے بھی اس کے لیے وہ چیز آگے کسی اور کو بیچنا جائز ہے ۔ البتہ قسطیں مکمل ہونے سے پہلے بیچنے والے کا خریدار سے اسی چیز کو کم قیمت میں خریدنا جائز نہیں اگرچہ اس چیز کی قیمت کم ہو گئی ہو ، ہاں اگر اس چیز میں کوئی نقصان پیدا ہوگیا ہو تو پھر کم قیمت میں بھی خرید سکتا ہے۔
العنایہ شرح الھدایہ میں ہے:”من اشترى شيئا بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضه ثم باعه من البائع بخمسمائة قبل نقد الثمن فالبيع الثاني فاسد…إذا باع من غير البائع فإنه جائز أيضا بالاتفاق”ترجمہ: جس نے کوئی چیز ایک ہزار درھم کی نقد یا ادھار خریدی، پھر اس پر قبضہ کرلیا، پھر نقد ثمن سے قبل وہ چیز بائع کو پانچ سو کے بدلے بیچ دی، تو دوسری بیع فاسد ہے ۔۔ جب بائع کے علاؤہ کسی اورکو بیچی تو بالاتفاق جائز ہے ۔(العنایہ شرح الھدایہ، کتاب البیوع، باب بیع الفاسد ،جلد 6، صفحہ 433)
بہار شریعت میں ہے:” جس چیز کو بیع کردیا ہے اور ابھی ثمن وصول نہیں ہوا ہے اس کو مشتری سے کم دام میں خریدنا ، جائز نہیں اگرچہ اس وقت اس کانرخ کم ہوگیا ہو۔۔۔ کم داموں میں خریدنا اُس وقت ناجائز ہے جب کہ ثمن اُسی جنس کاہو اور مبیع میں کوئی نقصان نہ پیدا ہوا ہو اور اگر ثمن دوسری جنس کاہو یامبیع میں نقصان ہواہو تو مطلقاًبیع جائز ہے۔ ( بہارِ شریعت جلد 2، صفحہ708، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
✍️ ابو حزقیل محمد ارسلان جلالی
4 جمادی الاول 1446ھ 7 نومبر 2024